2018 انتخاباتشاہد راحیل خانکالملکھاری

مسلم لیگ نون ، مسلم لیگ واؤ کیسے بنی ؟ ۔۔ شاہد راحیل خان

مسلم لیگ ن کے قائد، ان کی بیٹی اور داماد کے خلاف بلآخرعدالتی فیصلہ آ ہی گیا۔گو کہ گزشتہ روز فیصلہ آنے سے پہلے قوم کے اعصاب کا کڑا امتحان لیا گیا۔ اور فیصلہ آنے کے بعد ” ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“ کا سماں بندھارہا۔تاخیر پر تاخیر کا بتایا جانے والا سبب ناقابل فہم تھا۔اور ٹی وی سکرینوں پر برا جمان دانشوران قوم اس تاخیر کی وجوہات تلاش کرتے کرتے بہت دور تک نکل گئے۔طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا جانے لگا۔ سوشل میڈیا پر اٹھنے والا طوفان، تو الامان ، الحفیظ۔ تواتر سے کیئے جانے والے اس پراپیگنڈے کا کمال قوم کوہر وقت عدم اعتماد اوروسوسوں کا شکار کیئے رکھتا ہے۔احتساب عدالت کے گرد کیئے جانے والے سخت حفاظتی اقدامات تو یہ تاثر دے رہے تھے کہ گویا میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں مسلم لیگ ن کے کارکن سخت احتجاج کا راستہ اپنائیں گے کیونکہ میاں نواز شریف بھی لندن روانگی سے پہلے ہر جلسے میں اپنے کار کنوں سے اپنی سزاکی صورت میں ساتھ دینے اورا ٓواز پر لبیک کہنے کا عہد و پیمان لیتے رہے۔مگر دس سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا کے اعلان کے بعد ” اے بسا آرزو کہ خاک شد“ پورے ملک میں ایک پتا بھی نہیں ہلا ۔فیصلے کے بعد چھوٹے میاں صاحب شہباز شریف کی پریس کانفرنس جذبات سے عاری ایک پھسپھسی سی پریس ٹاک تھی۔البتہ لندن میں اپنی بیٹی مریم نواز کو ساتھ بیٹھا کر میاں نواز شریف نے مظلوم و معصوم شکلوں کے ساتھ جو پریس ٹاک کی وہ شہباز شریف کی پریس ٹاک میں دیئے گئے رد عمل سے زیادہ اہم اور قابل توجہ تھی۔میاں نواز شریف اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہوئے بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے اپنی پاکستان واپسی کو محترمہ کلثوم نواز کی صحت سے مشروط کر کے جو ابہام پیدا کیا ہے اس نے ان کی جماعت مسلم لیگ ن کو وینٹیلیٹر پر ڈال دیا لیکن اگلے ہی روزیہ اعلان کیا گیا کہ وہ اپنی صاحب زادی کے ہمراہ جمعہ کو پاکستان واپس آئیں گے ۔ اتنی بڑی سیاسی جماعت میں اتنا بھی دم خم نہیں کہ وہ دوچار بڑے شہروں میں پر امن احتجاجی مظاہروں ہی کی کال دے سکتی۔ مسلم لیگ کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف نے، اپنے بازو پر کالی پٹی باند ھ کر ، منہ بسورتے ہوئے ، جوکچھ کہا ہے اس سے ان کی بے بسی ٹپکے پڑتی تھی۔ اس ساری کہانی میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کیا واقعی میاں نواز شریف ،ان کی بیٹی اور داماد کو سنائی جانے والی سزاؤں پر عمل درآمد ممکن بنایا جائے گا؟ مریم نواز تو برملا اور بار بار یہ کہہ رہی ہیں کہ میاں نواز شریف کے لیئے یہ سزائیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ مریم نواز کی یہ بات اس لیئے نہیں جھٹلائی جا سکتی کہ قوم یہ کھیل پہلے بھی دیکھ چکی ڈکٹیٹر ضیاءالحق نے حیدر آباد ٹربیونل بیک جنبش قلم ختم کر کے غداری کے مقدمے میں ملوث ولی خان اور ساتھیوں کو رہائی کا پروانہ جاری کردیا تھا۔ دوسرے ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے عدالت سے سنائی گئی عمر قید اور جائداد ضبطی کی سزاؤں کے باوجود میاں نواز شریف کو عاز م جدہ کرکے عدالتی سزاؤں کو مذاق بنا دیا تھا۔ قومی سطح کے سیاست دانوں کو عدالتیں سزا تو سنا تی رہی ہیں مگر پاکستان کی تاریخ میں ان سزاؤں پر عمل درآمد صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے حصے میں ہی آیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک جن بھی سیاست دانوں کی عدالتی سزاؤں پر عمل درآمدممکن بنایا گیا ان سب کا تعلق پی پی پی سے تھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نگران حکومت اپنے چند گنتی کے دنوں کی حکمرانی کے دوران ، میاں نواز شریف کو سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد کیسے ممکن بنائے گی؟۔میاں شہباز شریف کے ڈھیلے اور دھیمے لہجے سے ایک یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر نگران حکومت واقعی میاں نواز شریف کی سزا کے بارے میں سنجیدہ تھی تو پھر فیصلے کا اعلان ہونے سے چند دن پہلے میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو لندن جانے کی اجازت کیوں دی گئی؟ سابق وزیر داخلہ کی طرف سے میاں نواز شریف اور مریم نوازکا نام ای، سی ،ایل میں نہ ڈالنا تو خوئے وفا داری کے زمرے میں آتا ہے مگر نگران حکومت کی مہربانی کس وفا داری کا اظہار ہے؟۔میرا خیال ہے کہ نگران حکومت نے اپنے سر سے بلا ٹالنے کی کوشش کی ہے۔میاں نواز شریف اپنی مرضی سے پاکستان کب آتے ہیں؟ ۔ ان سزاؤں پر مکمل عمل درآمد ایک ہی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ عمران خان دو تہائی اکثریت سے برسر اقتدار آکر اپنے کرپشن مکاؤ نعرے پر عمل کر گزریں۔ مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اگر عمران خان کو دو تہائی اکثریت سے اقتدار میں لانا مقصود ہوتاتو پھر جیپ کو شو روم سے نکال کر دوڑ میں شامل کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔سابق صدر آصف علی زرداری ایک زیرک سیاست دان ہیں۔ ان کے حالیہ انٹرویوز مستقبل کا ایک ہلکا سا خاکہ دکھا رہے ہیں۔ن لیگ کو جنم دینے والوں نے ن لیگ کو بھی فی الحال وینٹیلیٹر پر رکھا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس جولائی کے بعد مسلم لیگ ن کے سانس بحال رکھے جایئں گے یا اس کی تدفین کا فیصلہ کیا جائے گا۔سو جب تک یہ وینٹیلیٹر پر ہے اس کا نیا نام مسلم لیگ واؤ ہونا چاہیئے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker