رات کے دو بج رہے ہوں ایک عورت اکیلی سڑک پر اپنے دو بچوں کے ساتھ ایک کار میں خود کو بند کیے ہوئے ہو، کچھ بندوق بردار گاڑی کے شیشوں پر اپنے ہتھیاروں کے بٹ مار کر شیشہ توڑ رہے ہوں اور کچھ دیر میں وہ شیشہ ٹوٹ جائے، اس عورت اور اسکے بچوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا جائے وہ عورت ان سے ہاتھ چھڑا کر گولی کی رفتار سے گزرتی گاڑیوں کی زد میں آنے کی کوشش کرے لیکن وہ بھیڑئیے اس کو یہ بھی نہ کرنے دیں اور سڑک سے نیچے کے جنگل میں اس عورت کا گینگ ریپ اس کے دو دو چار چار سال کے معصوم بچوں کے سامنے کیا جائے اور بچے بلبلاتے رہ جائیں…..
یہ سب پڑھنے کے بعد اگر آپکی ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے میں سنسناہٹ نہیں ہوتی، اگر آپ کی آ نکھ آنسو نہیں ٹپکاتی اگر آپ کو اپنے جسم میں غصے کے مارے گرمی کی ایک لہر نہیں دوڑتی تو یقین کیجئے کسی دن کسی اکیلی عورت کے ساتھ آپ بھی یہی کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو سانحہ موٹر وے کے مرکزی ملزمان نے کیا…..
میں ایک اہل تشیع خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے کربلا جیسے عظیم سانحے کی سے روشناس کرایا اگر میں نے کربلا کو محسوس نہ کیا ہوتا، اگر اس کو ایک درد اور درد کی دوا کے طور پر نہ جانا ہوتا تو شاید تین دن سے جس سوگواری کی کیفیت میں مبتلا ہوں نہ ہو پاتا، لوگ پوچھتے ہیں کہ حسین تو شہید ہیں اور شہید تو زندہ ہوتا ہے اس کا غم منانا اس کے لیے سینہ کوبی کرنا یہ کیا بات ہوئی؟؟ آج تک دنیا یہ نہ سمجھ سکی کہ غم حسین کی شہادت نہیں اس ظلم کا ہے جو امت نے اپنے رسول پاک کے خاندان کے ساتھ کیا حسین تو کربلا میں شہید کر دئیے گئے لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ امت کے مردہ ہونے کی اصل کہانی ہے خاندان رسالت کی عورتوں کو جس طریقے سے اونٹوں کی پشتوں پر باندھ کر کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام لے جایا گیا کیا آپ جانتے ہیں کہ جب کربلا سے قافلہ چلا تو اس میں بیالیس بچے تھے جب ڈیڑھ سال بعد قافلہ مدینے پہنچا تو اس میں پانچ زندہ بچے… بیشر بچے اونٹوں سے گرتے رہے اور انکو اٹھانے کی نہ تو اہلبیت کو اجازت ملی نہ مہلت مائیں یہ مناظر دیکھتی رہیں لیکن یاد حسین کو کرتی رہیں….
لیکن بچوں کے سامنے ماؤں کی عصمت دری تو کربلا میں بھی نہیں ہوئی تھی کربلا میں کم از کم فاقلہ تو تھا لیکن یہاں ایک ماں تھی، دو بچے تھے، رات تھی، جنگل تھا، اور وہ درندے باہر تھے کہ جن کی دہشت سے جنگل کے درندے بھی چھپ گئے تھے، بچے دیکھتے رہے، ماں لٹتی رہی، اور نہ جانے کیوں آسمان اپنی جگہ رکا رہا، شاید آسمان نے بھی یہ ظلم پہلی بار دیکھا تھا، زمین ساکت تھی شاید اس پر بھی وزن بڑھ گیا تھا، جب درندوں کا دھندہ ختم ہوا تو اس عورت کی صرف ایک خواہش تھی کہ وہ مر جائے…..
اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب بیٹھے پریس کانفرنس کر رہے ہیں اور قوم کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ ملزمان پکڑ لئے جائیں گے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے گا، کاش کوئی محترم وزیر اعلیٰ کو بتائے کہ حضور امیر مختار نے امام حسین کے ایک ایک قاتل کو پکڑ کر عبرت ناک موت سے دوچار کیا لیکن ازالہ چھوڑیئے سوگ میں کمی نہ ہو سکی آج چودہ سو سال بعد بھی حسین کا قتل تازہ ہے، جنابِ عثمان بزدار کو کوئی بتائے کہ آپ کیا اور آپ کے ازالے کیا….
جب جب عورت اپنے حقوق مانگنے باہر نکلتی ہے خلیل الرحمٰن قمر اور اس جیسے فاتحینِ موٹر وے ان عورتوں کو بد چلن، گشتی، رنڈی اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں لیکن اس سانحے کو پانچ دن ہونے کو آئے نہ خلیل الرحمٰن قمر کا کوئی بیان آیا نہ کسی اور غیرت مند کا، حسن نثار، ارشاد بھٹی، اوریا مقبول جان ،انصار عباسی، خلیل الرحمٰن قمر سمیت کسی مولانا، مے لانا، مفتی، مولوی کا کوئی مذمتی بیان تک کہ آ سکا، ساری زندگی سنتے رہے کہ جب جب بی بی فاطمہ الزہرابارگاہِ رسالت میں تشریف لائیں آپ نے ان کو کھڑے ہوکر خوش آمدید کہا اپنی جگہ ان کے لیے چھوڑی لیکن یہ سنت کسی کو یاد نہیں شاید ہم اس کو سنت سمجھتے ہی نہیں … ہر جھوٹے سچے الزام پر توہین رسالت کے پرچم لے کر سڑکوں پر موجود لاکھوں جانثاران آج نہ جانے کہاں ہیں؟؟؟ کیا آپ لوگوں کو اس واقعے میں توہین رسالت، توہین مذہب اور توہینِ انسانیت ہوتے محسوس نہیں ہوئی؟؟ جس عورت کے بارے میں اللہ کے رسول ڈراتے رہے، جنت جس عورت کر پیروں کے نیچے رکھی گئی، جس ماں کے احترام کے چار میں سے تین حصے رکھے گئے اس کو بے آبرو ہوتا دیکھ کر بھی آپ کو آپ کے مذہب پر حملہ ہوتا محسوس نہیں ہوا تو یقیناً آپ اپنی ماتھے کی محرابوں، VVIP عمروں اور حجوں، بقر عید پر چار اونٹوں دس گائیوں اور بکروں کا ریوڑ قربان کرنے اور تین کروڑ روپے کی مسجد بنوانے کے باوجود مذہب کے آخری درجے پر بھی نہیں پہنچ سکے…
یہ شاید آج تک کی میری سب سے مشکل تحریر ہے جس کو لکھنے کی نہ تو ہمت ہے نہ خواہش، کاش کہ ممکن ہوتا تو اپنا دل نکال کر کاغذ پر رکھ دیتا تو وہ بھی کم رہتا…
میں ان خاتون کو نہیں جانتا نہ انکا نام جانتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں انکو اس دن سے جانتا ہوں جس دن میں نے پہلی بار رسول کی نواسی اور حضرت علی کی بڑی بیٹی کا تذکرہ سنا تھا کہ کس طرح اس نے دس محرم کی اندھیری رات میں ریت کے ٹیلوں پر ایک جلی ہوئی لکڑی ہاتھ میں لے اپنے ڈرے ہوئے بچوں کی حفاظت کی تھی…. آپ جو بھی ہیں آپ کے ساتھ ہونے والے اس ظلم نے آپ کو بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ساتھی بیبیوں میں شامل کردیا ہے مرحوم حسن رضوی کے شعر سے اس بات کا ایک ثبوت اور بات ختم
مانوس ہوں اتنا ترے کربل کی زمیں سے
میں دفن کہیں ہوں مگر اٹھوں گا وہیں سے
فیس بک کمینٹ

