افسانےطلعت جاویدلکھاری

لاوارث ( 1 )‌۔۔ طلعت جاوید

خیراتی ادارے کی گاڑی گھنٹہ بھر سے بابو غلام حسین کی میت لئے شاہ عالمی اور رنگ محل کے علاقے میں گھوم رہی تھی مگر اس کے لواحقین کا کچھ پتہ نہ چل رہا تھا۔ بالآخر اسے لاوارث جان کر امانتاً دفن کر دیا گیا۔
بابو غلام حسین کا گذشتہ شب سنٹرل جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا تھا۔ وہ لگ بھگ آٹھ برس سے جیل میں مقید تھا اور عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا ۔ اسے سیشن کورٹ سے اغوا ، قتل اور ڈاکہ زنی کے جرم میں سزائے موت ہوئی تھی جو اپیل کے نتیجہ میں عمر قید میں تبدیل ہوگئی۔ جیل میں اس کا رویہ شریفانہ تھا۔ وہ پانچ وقت کا نمازی تھا۔ رمضان میں باقاعدگی سے روزے رکھتا اور قیدیوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتا تھا۔ وہ خوش خلق تھا ہر ایک سے محبت اور احترام سے پیش آتا، ہر ایک کو خوش رہنے اور مثبت رویہ اپنانے کی تلقین کرتا اور خود بھی خوش رہتا تھا۔ قیدی جس جرم میں سزا کاٹ رہے ہوں، جیل میں عام طور پر اس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا وہاں قیدی انتہائی دیندار اور شریف نظر آتے ہیں مگر بابو غلام حسین پر لگے الزامات پر تو کسی کو یقین نہ آتا تھا۔ ابتدا میں بابو غلام حسین سے بھی ناروا سلوک رکھا گیا، سخت مشقت لی جاتی رہی مگر اس کی شرافت، حلیمی اور تابع فرمانی کے باعث وہ بہت جلد مشقت سے مستسنیٰ قرار دے دیا گیا۔ سزا کے اوائل میں اینٹیں توڑتے اور پتھر کوٹتے ہوئے اس کے بازو شل ہوجاتے اور ہاتھوں میں گٹے پڑ جاتے تھے۔ کبھی وہ لمحہ بھر کو ڈبڈبائی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتا اور معافی کے انداز میں ہاتھ جوڑ لیتا تھا۔ اسے سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ آخر کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے۔ وارڈن کی ڈانٹ سنائی دیتی تو وہ پھر سے تیشہ اٹھا کر روڑی بنانے لگ جاتا۔ غلام حسین نے جیل حکام کو باور کرایا کہ وہ پڑھا لکھا ہے لہٰذا اسے بی کلاس دلوادی جائے وہ درس و تدریس کا کام کرنا جانتا ہے، حساب کتاب کر سکتا ہے اور دیگر فلاحی کاموں کا بھی ماہر ہے۔ اسے بی کلاس تو نہ ملی مگر اسے مشقت سے ہٹا کر قیدیوں کی درس و تدریس کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
چونکہ بابو غلام حسین بنیادی طور پر مثبت ذہن رکھتا تھا وہ قیدیوں کو خوش رہنے کی ترغیب دیتا اور انہیں باور کراتا کہ جلنے کڑھنے سے سزا کا وقت تو کم نہ ہوگا مگر وہ مستقل ایک اذیت میں مبتلا رہیں گے لہٰذا انہیں ہر حال میں رب کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہنا چاہیے۔ وہ ایک روز بالآخر رہا ہوکر اپنے گھرجائیں گے اور ہنسی خوش زندگی بسر کریں گے۔ بابو غلام حسین کے خوش و خرم رہنے کی ترغیب دینے پر اکثر قیدی اس کا مذاق اڑاتے۔ گھر جانے کا سو چ کر خود بابو غلام حسین اداس ہوجاتا تھا۔ ”کون سے گھر جاﺅں گا میں؟“ وہ سوچ میں پڑ جاتا ۔ اسے کسی نے بتا دیا تھا کہ اس کے گھر والی جگہ پر پلازہ بن گیا ہے۔
بابو غلام حسین جیل کے جس حصے میں مقیم تھا وہ چکی کہلاتی تھی اور وہاں خطرناک مجرم رکھے جاتے تھے۔ ایک کمرے میں آٹھ سے دس افراد مقید تھے۔ اتنہائی خطرناک مجرموں کو تاریک سیل میں تنہا رکھا جاتا ۔ وہاں عمرقید اور سزائے موت کے قیدی بھی تھے بیشتر اغوا قتل ڈاکہ زنی کے جرم میں سزا کاٹ رہے تھے۔ اکثر قیدیوں کے رشتہ دار ہفتہ وار ان سے ملنے آتے انواع و اقسام کے کھانے اور دیگر سوغاتیں بھیجتے مگر بابو غلام حسین سے کبھی کوئی ملنے نہ آیا تھا۔ وہ ملاقات کے دن نہا دھوکر تیار ہوجاتا کہ شاید کوئی بھولا بھٹکا پرانا یار دوست اسے بھی ملنے آجائے مگر شام ڈھلے وہ مایوس ہو کر بیٹھ جاتا۔ گامو جو قتلِ عمد کے جرم میں سزائے موت کا منتظر تھا اسے اداس دیکھ کر کہتا
”اوئے بابو یہاں کوئی نہیں آئے گا تو جو کہتا ہے خوش رہا کرو تو سالے کس بات پر خوش ہوویں؟“
با بو غلام حسین قمیض کے پلو سے آنکھیں پونچھ کر بمشکل چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا۔
”نہیں گامو میرے دوست بڑے مصروف لوگ ہیں انہیں پتہ ہے میں ہر جگہ خوش رہتا ہوں اسلئے وہ میرا پتہ نہیں کرتے مگر وہ یاد ضرور کرتے ہوں گے۔“
”گامو نے طنزیہ انداز میں بابو غلام حسین کو دیکھا، کسی نامعلوم مخاطب کو گالی دی اور زمین پر تھوک دیا۔
خود گامو کو بھی کوئی ملنے نہیں آتا تھا۔ اس کے جرائم کی فہرست اسقدر طویل تھی کہ اس کے قریبی رشتہ دار بھی اس سے قطع تعلق کرچکے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ گامو عنقریب پھانسی لگ جائے گا۔ گامو کو نجانے کیا خوش فہمی تھی کہ ایک روز وہ حکومت کی کسی نئی پالیسی کے تحت رہا ہو جائے گا اور دشمنوں کا خون کرے گا ابھی آٹھ دس قتل اس کے بیان کے مطابق اس پر واجب تھے۔ گامو بابو غلام حسین سے خار رکھتا تھا۔ اسے مسکراتا خوش باش اور اخلاق کی تعلیم دینے والا بابو غلام حسین ایک آنکھ نہ بھاتا ۔ وہ شاید بابو غلام حسین سے حسد کرتا تھا اور ہر وقت اس کوشش میں رہتا کہ اسے چڑائے اور اس پر طنز کرے ۔ کئی بار بابو غلا م حسین کو پر سکون اور خوش دیکھ کر اس کا دل چاہتا تھا کہ مار مار کر اس کا بھرکس نکال دے”سالا جیل میں نہیں کسی میلے میں آیا ہے….“ بابو غلام حسین کی محنت ایک روز رنگ لے آئی اور اس نے گامو کو رام کر ہی لیا مگر یہ کام یونہی نہیں ہوگیا۔ احاطے میں ٹہلائی کے لئے روزانہ صبح قیدیوں کو باری باری نکالا جاتا تھا۔ اس روز گامو انتہائی خراب موڈ میں تھا اور اپنی ساتھ والی بیرک کے مکینوں کو صبح سے فحش گالیاں دے رہا تھا۔ احاطے میں گامو اور بابو غلام حسین کا آمنا سامنا ہوا تو بابو غلام حسین نے اسے اخلاق اور محبت کادرس دینا چاہا مگر وہ اور بگڑ گیا۔ گامونے بابو غلام حسین کو پہلے تو گالیاں دیں پھر اس کی خوب دھنائی کی۔ بابو غلام حسین کے کپڑے پھٹ گئے جسم کے کئی حصوں سے خون رسنے لگا مگر اسے پھر بھی غصہ نہیں آیا وہ خاک آلودہ ، زخموں سے چور جسم سہلاتا ہوا گامو کے آگے جھک گیا”گامو تیرا غصہ نہیں اترا تو یار اور مار لے میرا اللہ مالک ہے پر میں ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا“۔ گامو کا اس قسم کے لوگوں سے کبھی واسطہ نہ پڑا تھا وہ سوچ میں پڑ گیا اور پھر آگے بڑھ کر اس نے بابو غلام حسین کو سینے سے لگا لیا۔
”با بو مجھے معاف کردے یار میرے سے بڑی زیادتی ہوگئی ہے۔“
بابو غلام حسین کے فدویانہ رویے سے سب دم بخود رہ گئے تھے گامو کی اکڑ فوں نکل گئی اور وہ بابو غلام حسین کا مرید بن گیا ”بابو تو نے مجھے اخلاق کی مار دے دی ہے توجیتا میں ہارا۔“
بابو غلام حسین اندرون شاہ عالمی محلہ کمنگراں کا رہنے والا تھا۔ مین بازار کی تنگ و تاریک گلیوں میں واقع محلہ کمنگراں میں اس کا دو مرلے کا چارمنزلہ مکان تھا جو پاکستان بننے سے قبل اس کے آباﺅ اجداد کی ملکیت تھا۔ یہاں دن کی روشنی میں بھی شام جیسا اندھیرا رہتا تھا۔ گلیاں تو تنگ تھیں ہی ایک طرف نالیوں اور دوسری طرف لاتعداد پانی کے پائپوں نے گزرنے کے لیے بہت کم جگہ چھوڑی تھی لہٰذا پیدل چلنا بھی دشوار لگتا تھا۔ بہتے اور ٹپکتے ہوئے پرنالوں سے بچ کر نکلنا پڑتا تھا۔ اوپر بجلی کی تاروں کا جال تھا اور کئی پرنالوں کے ساتھ پیپل کے درخت نما پودے پھوٹ رہے تھے۔ وہ اس گھر میں تنہا رہتا تھا نہ بیوی تھی نہ بچے۔ بابو غلام حسین کے خاندان کے لوگ امرتسر کے کشمیری تھے اور تقسیم سے بہت پہلے اس محلے میں آباد ہوگئے تھے۔ بابو غلام حسین کی لڑکپن میں امرتسر میں مقیم اپنے رشتہ داروں کی لڑکی سے شادی ہوئی تھی۔ اُسی برس پاکستان بن گیا اور اس کے سسرال والے گھر بار چھوڑ کر پاکستان روانہ ہوگئے ان دنوں بابو غلام حسین کی بیوی میکے گئی ہوئی تھی۔ ان کے کنبے کی امرتسر سے روانگی کی تصدیق تو ہوگئی تھی مگر یہاں ان کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بہت تلاش کی ہر مہاجر کیمپ میں جان پہچان کے لوگوں سے معلومات اکٹھی کرتا رہا مگر ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ گمان تھا کہ وہ سب لوگ پاکستا ن آتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں ۔ وہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ والدہ نے بہت کوشش کی کہ دوبارہ شادی کیلئے رضامند ہوجائے مگر غلام حسین راضی نہ ہوا۔ اس کے والدین بھی یکے بعد دیگرے راہی عدم ہوگئے اور وہ دنیا میں تنہا رہ گیا۔ تنہائی سے تنگ آکر غلام حسین نے نچلی منزل حکیم گلزار کو کرایہ پر دے دی تھی۔ بیٹھک میں حکیم گلزار نے اپنا مطب بنالیا اور پچھلے کمرے کو دیگر مصروفیات کیلئے رکھ لیا۔ بیٹھک کے ساتھ والا زینہ اوپر کی منزلوں تک جانے کیلئے بابو غلام حسین کے استعمال میں تھا۔
بابو غلام حسین لکشمی چوک میں واقع ایک صنعتی ادارے کے صدر دفتر میں ملازم تھا۔ تعلیم واجبی سی تھی کلرک کی حیثیت سے کام شروع کیا اور ترقی کرتا ہوا مینیجر کے عہدہ تک پہنچ گیا۔ دیانتدار اور محنتی تھا لہٰذا مالک اس پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ بابو غلام حسین صبح سویرے دفتر پہنچ جاتا اور شام ڈھلے گھر واپس آتا تھا۔ اس کے سب معمولات اس کے دفتر کے گرد گھومتے تھے۔ حکیم گلزار سے اسکا یارانہ تھا۔ دفتر سے آنے کے بعد وہ حکیم گلزار کے مطب میں بیٹھ جاتا ۔ رات گئے تک حکیم گلزار کے مطب کے پیچھے والے کمرے میں چند دوستوں کی محفل گرم رہتی تھی کھانا حکیم گلزار کے گھر سے آجاتا تھاا اور چائے حکیم گلزار کا ملازم بوقت ضرورت فراہم کر دیتا تھا حکیم گلزار کے مطب میں انواع و اقسام کے شربت ، خمیرے ،کشتے، مربہ جات خشک جڑی بوٹیاں اور پنسار کا سامان قاعدے سے رکھا ہوا تھا۔ بابو غلام حسین جب شام کو تھکا ہارا دفتر سے واپس آتا تو حکیم گلزار سٹیل کے ڈونگے سے بڑے گلاس میں پانی اور برف کوٹ کر ڈالتا اور کوئی فرحت بخش سا شربت انڈیل کر ٹھنڈا ٹھار مشروب بابو غلام حسین کو پیش کرتا جو سامنے بیٹھا جرعہ جرعہ پیتا رہتا تھا۔ اس لمحے حکیم گلزار بابو غلام حسین کو ایسا فرشتہ لگتا جو اللہ نے اس کی تنہائی دور کرنے اور زندگی میں اس کیلئے آسائشیں مہیا کرنے کیلئے بھیج دیا ہو۔ اس دوران حکیم گلزار کے مریض بھی دوا لینے آتے رہتے تھے۔ دم لینے کو بابو غلام حسین پچھلے کمرے میں آرام کی غرض سے لیٹ جاتا تھا جہاں کبھی کبھار امراض مخصوصہ کے کسی مریض کے معائنے یا پوشیدہ بیماریوں کی گفتگو کی غرض سے تخلیہ چاہنے والے کسی مریض کی خاطر کچھ دیر کیلئے اسے باہر مطب میں بیٹھنا پڑ جاتا۔ وگرنہ اس کا زیادہ وقت وہیں گزرتا تھا ۔ عشاءکے بعد حکیم گلزار کے گھر سے رات کا کھانا آجاتا اور اس کے بعد اس کمرے میں ریڈیو سننے والے اور ان کے سانجھے دوستوں کی آمد شروع ہوجاتی اور یہ محفل رات گئے تک جاری رہتی تھی۔ جب نیند سے بے حال ہونے لگتے تو حکیم گلزار اپنے گھر چلا جاتا باقی دوست اپنی اپنی راہ لیتے اور بابو غلام حسین زینہ چڑھ کر سونے کی غرض سے اوپر کی منزل میں چلاجاتا۔ زندگی اسقدر سکون اور آرام سے گزر رہی تھی کہ بابو غلام حسین کو اپنا گھر آباد کرنے کی کبھی خواہش نہ ہوئی۔ کبھی کبھار اپنی گمشدہ بیوی کا خیال بڑی شدت سے آتا۔ یہ سوچ کر کے شاید کبھی کوئی معجزہ ہوجائے اور اس کی بیوی مل جائے اس نے دوبارہ شادی کرنے کا کبھی نہ سوچا تھا اور یوں اُس کی عمر ڈھلتی گئی۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker