افسانےطلعت جاویدلکھاری

لاوارث ( 2 )‌۔۔ طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ )
حکیم گلزار کا گھر ساتھ والے محلے میں تھا۔ اس کی چار بیٹیاں تھیں۔ چھوٹی دو بیٹیاں اسکول میں پڑھتی تھیں اور ان سے بڑی ایک بیٹی کالج میں زیر تعلیم تھی۔ حکیم گلزار کی سب سے بڑی بیٹی مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد سے گھر بیٹھی تھی ۔ حکیم گلزار کی بڑی خواہش تھی کہ اس کے ہاتھ پیلے ہوجائیں مگر گھر میں جو رشتہ بھی آتا تھا وہ لوگ بڑی بیٹی کو نظر انداز کرکے چھوٹی بیٹیوں کے رشتے کی خواہش کر دیتے ۔ بابو غلام حسین ایک طویل مدت سے حکیم گلزار کا مہمان تھا۔ اور خود کو ان کے خاندان پر بوجھ سمجھتا تھا اور اس بات پر اکثر ندامت کا اظہار کیا کرتا تھا۔ بابو غلام حسین نے محسوس کیا کہ حکیم گلزار کچھ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں پاتا۔ ایک شام جب بابو غلام حسین دفتر سے واپس آکر حکیم گلزار کے مطب میں حسب معمول شربت پی رہا تھا تو حکیم گلزار نے کہا کہ وہ اس سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔ جب مریض چھٹ گئے تو حکیم گلزار نے اخباری کاغذ کو دوہرا کرکے اس کے اوپر سیب کا مربہ رکھا اس پر ورق لگا کر بابو غلام حسین کو پیش کیا اور کہنے لگا”غلام حسین ہماری دوستی بڑی پرانی ہے اب تمہاری عمر ڈھل رہی ہے اور تمہیں ایک مستقل مددگار اور ساتھی کی ضرورت ہے تمہاری تنہائی اب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی کیا تم نے کبھی دوبارہ شادی کا نہیں سوچا؟“
بابو غلام حسین کہنے لگا”حکیم صاحب لگتا ہے تم میری میزبانی سے تنگ آگئے ہو تو بھائی اس عمر میں مجھے کسی کھونٹے سے کیوں باندھ رہے ہو۔ نہ بھائی نہ میں اپنا بڑھاپا خراب نہیں کرتا اور بھلا اس عمر میں مجھ سے شادی کرے گا کون؟“حکیم نے رومال سے ہاتھ پوچھتے ہوئے کہا”ایک رشتہ ہے میری نظر میں تم حامی بھرو تو میں بات آگے چلاﺅں۔“
بابو غلام حسین نے آدھا کھایا ہوا سیب کا مربہ کاغذسمیت سامنے رکھے خالی کنستر کے اوپر رکھا اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا ”حکیم صاحب مجھے معاف رکھو چاردن زندگی کے باقی رہ گئے ہیں آرام سے گزار لینے دو ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرلوں گا اور تمہارے اوپر بوجھ نہیں بنوں گا۔“
”بابو بوجھ کی بات نہیں….نسیم بڑے پیار سے تمہارے لیے کھانا تیار کرتی ہے اب میرے گھر نہیں کرے گی تو تمہارے گھر کر لے گی…. کوئی دکھ درد بانٹنے والا تو ہوگا“ حکیم بولا
”نسیم کون؟“وہ…. بابو غلام حسین ”بِٹیا“ کہتے کہتے رک گیا اسے اندازہ ہوچلا تھا کہ حکیم گلزار اپنی بڑی بیٹی کی بات کر رہا ہے۔ اس نے ادھ کھایا سیب اٹھایا اور خلا میں گھورنے لگا اس نے نسیم کا ذکر تو اکثر سنا تھا مگر اسے دیکھا نہ تھا۔ حکیم گلزارکی چھوٹی بیٹیاں جب بچی تھیں تو وہ اکثر انہیں حکیم کے ہمراہ دیکھتا تھا کبھی کوئی بیٹی ماں کا پیغام لے کر مطب بھی آجاتی تھی مگر اس نے نسیم کو نہ دیکھا تھا۔ اسے حکیم گلزار اپنا بیحد ہمدرد لگا وہ اس کی تکلیف کی خاطر اپنی بیٹی اس کے ساتھ بیاہنے کو تیار ہوگیا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ حکیم گلزار سے سوچنے کیلئے وقت مانگے مگر وہ کہہ نہ سکا بلکہ مطب سے اٹھا اور زینہ چڑھ گیا۔ حکیم گلزار اس خاموشی کو نیم رضامندی سمجھتے ہوئے دوا کی پڑیاں بنانے لگا ۔ بابو غلام حسین کو آج تک اندازہ نہ ہوا تھا کہ اس کا گھر کس قدر بوسیدہ حالت میں ہے دیواروں سے پلستر اکھڑ رہا تھا چھت سے ٹائلیں باہر نکل رہی تھیں فرش پر میل کی تہہ چڑھی ہوئی تھی دروازے روغن کے بنا کھردرے ہورہے تھے الماریاں خستہ حال دیواروں سے لٹک رہی تھیں۔ کھڑکیوں کے اوپر چھجے خستہ اور بے رنگ ہورہے تھے۔ ساری عمر بابو غلام حسین نے مسافروں کی طرح گزاری تھی۔ والدین حیات تھے تو گھر کی مرمت ان کے ذمہ تھی۔ بابو غلام حسین شام ڈھلے گھر آتا تو چھت پر سونے چلا جاتا صبح اٹھتا تو تیار ہو کر دفتر روانہ ہوجاتا والدین دنیا سے گئے تو غلام حسین گھر کی شکست و ریخت سے بالکل لاتعلق ہوگیا۔ ایک کمرہ اور غسلخانہ اس کے استعمال میں تھا باقی چھ کمرے مقفل تھے۔ جس راستے وہ زینہ چڑھ کر کمرے میں داخل ہوتا اس کے علاوہ اس کمرے میں بھی مکڑی نے جالے تنے ہوئے تھے ۔ آج پہلی بار بابو غلام حسین نے گھر کو بغور دیکھا اور فیصلہ کیا کہ مرمت کے بغیر یہ گھر استعمال کے قابل نہیں ہے۔ صبح سویرے جب بابو غلام حسین گھر سے نکلا تو حکیم گلزار دروازے پر مستری اور مزدور لئے کھڑا تھا۔ ہفتہ بھر گھر میں مرمتیں ہوتی رہیں پھر دیواروں پر چونا ہوا اور کھڑکیوں دروازوں پر روغن۔ کھڑکیوں کے چھجے مرمت کروا کر روغن کروائے گئے اور نئی چقیں لگوائی گئیں۔ بابو غلام حسین کو اب یہ گھر اچھا لگنے لگا تھا۔ پرانے فرنیچر کو پالش کرایا گیا غسلخانے میں نئی بالٹی اور لوٹا رکھا گیا برتن قلعی کرائے گئے۔ بابو غلام حسین انار کلی سے ایک چائے کا سیٹ لے آیا۔ حکیم گلزار دن میں کئی بار اوپر آکر گھر کی مرمت اور تزئین کا جائزہ لیتا تیسری منزل پر ایک کمرہ اس نے اپنے آرام کی خاطر مخصوص کرلیا تھا۔ ایک کمرے کو بیٹھک بنا دیا گیا اور حکیم گلزار اور بابو غلام حسین کے دوستوں کی محفل اب اس گھر میں سجنے لگی اور مطب کے پچھواڑے والا کمرہ مکمل دواخانہ بن گیا ۔ ایک جمعہ کی شام دوستوں کی محفل میں پیش امام آگئے اور بابو غلام حسین کا نسیم کے ساتھ نکا ح ہوگیا۔ بابو غلام حسین نے حق مہر میں یہ مکان نسیم کے نام لکھوادیا۔
نسیم کی آمد سے بابو غلام حسین کی زندگی ایک نئی نہج میں داخل ہوگئی۔ چند روز میں نسیم نے یہ گھر صحیح معنوں میں گھر بنا دیا۔ وہ گھر داری میں طاق تھی بابو غلام حسین کو احساس ہوا کہ اس نے ساٹھ برس یونہی برباد کئے ہیں اصل زندگی تو اسے اب ملی ہے نسیم کے پکے ہوئے لذیذ کھانوں کا تو وہ پہلے سے ہی عادی تھا اب اس کی رفاقت، خدمت اور گھرداری نے اس کی صحت پر مثبت اثرات ڈالنے شروع کردیئے۔ وہ پہلے ہی خوش مزاج اور خوش باش تھا اب گھر کی خوراک حکیم گلزار کی ادویات اور شربتوں نے اسے پھر سے جوان بنا دیا۔ نسیم نے پرانے ٹرنک تالے توڑ کر کھلوائے تو اس میں سے بیش قیمت ملبوسات نکلے انہی ملبوسات میں بابو غلام حسین کا ایک سوٹ بھی تھا جو چھاﺅنی کے ایک درزی سے پہلی شادی کے موقع پر سلوایا گیا تھا تھوڑی سی قطع و برید کے بعد یہ سوٹ بابو غلام حسین کو پورا آگیا تو لانڈری سے دھلوا کر استری کرایا گیا اور نسیم کی خواہش پر اسے دفتر کے استعمال کیلئے رکھ لیا گیا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد یہ پرانا سوٹ بھی دور حاضر کے فیشن کے مطابق لگتا تھا۔
بابو غلام حسین صبح تیار ہو کر گھر سے نکلتا تو حکیم گلزار اپنے مطب میں صفائی کروارہا ہوتا تھا۔ پہلے بابو غلام حسین خالی ہاتھ گھر سے نکلتا تھا مگر اب نسیم کا تیار کیا ہوا کھانا ٹفن میں اس کے ساتھ ہوتا ۔ رنگ محل سے تانگے میں بیٹھ کر بابو غلام حسین لکشمی چوک اپنے دفتر میں آجاتا ۔ پہلے تو دفتر میں دیر تک بیٹھا رہتا تھا اب جونہی چھٹی کا وقت ہوتا وہ گھر کے لیے روانہ ہوجاتا۔ اسکا حکیم گلزار کے دوستوں کی محفل میں بیٹھنا بھی کم ہوگیا تھا۔ اب حکیم گلزار کی بجائے نسیم دفتر سے آنے کے بعد اسے شربت پیش کرتی۔ گھر کا آرام دہ لباس اور تولیہ غسلخانے میں رکھ دیتی بابو غلام حسین کے جوتوں پر کپڑا مار کر انہیں پلنگ کے نیچے دھکیل دیتی۔ بابو غلام حسین تازہ دم ہوجاتا تو نسیم کچھ دیر اسکے پیر دابتی اور پھر رات کے کھانے کا انتظام کرنے لگ جاتی تھی اب رات کا کھانا حکیم گلزاران کے ہمراہ کھاتا تھا۔ زندگی نہایت سکون سے گزر رہی تھی۔ نسیم نے عمر کا فرق کبھی آڑے نہ آنے دیا اور ایک وفا شعار بیوی کی طرح بابو غلام حسین کی خدمت کرتی رہی۔ حکیم گلزار کے خاندان کے افراد کا زیادہ تر وقت اب بابو غلام حسین کے گھر میں گزرتا تھا۔ وہ کرایہ کے گھر میں رہتے تھے اور کئی بار حکیم گلزار بابو غلام حسین کے غیر استعمال شدہ کمروں کو دیکھتا اور اس کا دل چاہتا کہ کسی روز بابو غلام حسین کرایہ کا گھر چھوڑ کر اسی گھر میں منتقل ہوجانے کا کہہ دے مگر بابو غلام حسین سیدھا سادہ آدمی تھا اس نے اخلاقاً بھی کبھی حکیم گلزار کو ایسی پیشکش نہ کی۔
گھر کی ملکیت کے کاغذات حفاظت کی خاطر بابو غلام حسین نے پہلے ہی حکیم گلزار کے پاس رکھوائے ہوئے تھے۔ حکیم گلزار کی مسند کے پیچھے چھت تک بڑی بڑی درازوں والی الماریاں تھیں جن میں حکیم گلزار نے جڑی بوٹیاں اور ادویات رکھی ہوئی تھیں بابو غلام حسین ا ب چونکہ اپنے گھر میں نسیم کے ساتھ رہائش پذیر تھا اور ملکیت کے کاغذات خود حفاظت سے رکھ سکتا تھا ایک روز دفتر جاتے ہوئے اس نے حکیم گلزار سے ملکیت کی دستاویزات طلب کیں۔ حکیم گلزار نے چند ایک دراز یں کھولیں تو ان میں وہ دستاویزات دستیاب نہ ہوئیں۔ بابوغلام حسین کو یاد تھا کہ جب اس نے وہ دستاویزات حکیم گلزار کے حوالے کی تھیں تو اس نے چھت سے نیچے تیسری دراز میں انہیں حفاظت سے رکھ دیا تھا۔ اس دراز کے اوپر”کایا پلٹ“ گولیوں کا اشتہار چسپا ں تھا اور بابو غلام حسین نے دراز کی یہی نشانی رکھی ہوئی تھی۔ مگر اس روز دستاویزات اس دراز سے بھی برآمد نہ ہوئیں حکیم گلزار نے تسلی دی کہ کچھ کاغذات اندر کی الماری میں رکھے ہیں وہ ان میں تلاش کرلے گا مگر کافی عرصہ وہ دستاویزات نہ مل سکیں بابو غلام حسین مطمئن تھا کہ وہ اور نسیم ہی اس گھر میں رہائش پذیر ہیں لہٰذا وہ آرام سے تلاش کرلیں گے بھلا کونسایہ گھر وہ فروخت کرنے لگے ہیں۔
بابو غلام حسین کا دفتر لکشمی چوک سے گلبرگ منتقل ہوگیا تو اسے آمدورفت میں دشواری ہونے لگی۔ پہلے تو کچھ راستہ پیدل اور کچھ تانگے پر سوار ہو کر دفتر پہنچ جاتا تھا اب وہ میکلوڈ روڈ تک تانگے پر جاتا وہاں سے مزنگ چونگی کیلئے اومنی بس پکڑتا اور مزنگ چونگی سے گلبرگ ویگن میں سفر کرتا تھا۔ آمدورفت کی دقت کے باعث بابو غلام حسین نے ریٹائر منٹ حاصل کرنے کا سوچ لیا۔ یوں بھی وہ ساٹھ برس کا ہوگیا تھا۔ ، کام میں وہ مستعدی نہ رہی اب اسکا دل چاہتا تھا کہ بقیہ زندگی آرام سے گھر پر گزارے۔ ایک روز وہ بس سے مزنگ چونگی پر اترا اور جیل روڈ پر ویگن کے انتظار میں کھڑا تھا کہ ایک کار اس کے پاس آکر رکی اور کار میں بیٹھے ایک خوش پوش شخص نے غلام حسین کی طرف والا دروازہ کھول دیا۔ لمحہ بھر تو غلام حسین کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا چاہتا ہے مگر جب اس شخص نے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو غلام حسین اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس شخص نے غلام حسین کی خیریت دریافت کی اور کار کا ائر کنڈیشنر تیز کردیا ۔ کار ہلکورے لیتی ہوئی گلبرگ کی طرف چل پڑی۔
”خیریت ہے آج آپ کی گاڑی کہاں ہے؟“ اس شخص نے پوچھا۔ بابو غلام حسین کو اندازہ ہوگیا کہ اس نے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اسے بیٹھنے کی پیشکش کر دی ہے۔ مگر وہ کار والے کو مایوس نہ کرنا چاہتا تھا۔ ”وہ ذرا مستری کے پاس ہے“ بابو غلام حسین نے جھوٹ بولا تمام راستہ وہ شخص بابو غلام حسین سے باتیں کرتا رہا اور وہ ”ہوں، ہاں“ میں جواب دیتار ہا۔ بابو غلام حسین کے دفتر کی عمارت کے قریب پہنچے تو بمشکل اس نے بابو غلام حسین کو باہر سڑک پر اتارا وگرنہ وہ گاڑی دفتر کے اندر لے جانے پر بضد تھا۔ وہ دن بابو غلام حسین کو بھی اہم لگ رہا تھا۔ وہ سوٹ میں ملبوس تھا اور ایک بیش قیمت کار میں دفتر آیا تھا۔ یہ موقع اسے زندگی میں تین بار ملا تھا کہ وہ کسی کار میں سوار ہوا ہو۔ ایک بار سیٹھ صاحب کے ساتھ اسے فیکٹری جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ دفتر کے لوگ اسے کار سے اترتاہوا دیکھیں مگر اس روز وہ وقت سے بہت پہلے پہنچ گیا تھا اور کسی نے اس بات کا نوٹس ہی نہ لیا۔ دن بھر وہ اپنے ساتھیوں سے اس بات کا تذکرہ کرتا رہا اور شام کو گھر پہنچ کر حکیم گلزار اور نسیم کو خوب مزے لے لے کر یہ قصہ سنایا نسیم نے کہا”دراصل آپ کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ خوامخواہ لوگ مرعوب ہوجاتے ہیں آپ تو خود کسی فیکٹری کے سیٹھ لگتے ہیں“ یوں بات آئی گئی ہوگئی۔
اگلے روز جیل روڈ موڑ پر جب کافی دیر کوئی ویگن نہ آئی تو بابو غلام حسین نے لفٹ کیلئے کاروں کو اشارہ دینا شروع کردیا۔ دو کاریں تو اجتناب کرکے گزر گئیں مگرایک کار سوار نے ذرا آگے جا کر بریک لگائی اور گاڑی ریورس کرکے بابو غلام حسین کے برابر کھڑی کردی۔ اس بار بابو غلام حسین نے نہایت اعتماد سے اگلا دروازہ کھولا اور”شکریہ“ کہتے ہوئے بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کوئی طالب علم تھا اور اپنے کالج جارہا تھا۔ کار فراٹے بھرتی ہوئی گلبرگ کی طرف چل پڑی اور چند منٹوں میں بابو غلام حسین اپنے دفتر پہنچ گیا۔ اس کے بعد تو غلام حسین نے معمول ہی بنالیا، اچھے کپڑے پہنتا اور نہایت اعتماد اورتمکنت سے کسی آتی ہوئی کار کو اشارہ کرتا اور دوتین کاروں کے بعد کوئی نہ کوئی اسے سوار کرلیتا تھا۔
جس روز بابو غلام حسین کا دفتر میں آخری دن تھا اور اس کی الوداعی دعوت ہونا تھی وہ خاص طورپر تیار ہوکر گیا، مائع لگی ہوئی استری شدہ قمیض ، ترمیم کیا ہوا پرانا سوٹ اور پالش شدہ جوتے۔ اس روز واقعی وہ کسی اوسط درجہ کا کاروباری سیٹھ لگ رہا تھا۔ برسات کے دن تھے اور گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ موسم نہایت خوشگوار تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ترمیم شدہ پرانا سوٹ اس پر بیحد جچ رہا تھا ۔ وہ خوش تھا کہ آج اس کی ملازمت کا آخری دن ہے اسے ریٹائرمنٹ کے بعد وافر رقم مل جائے گی اور وہ بقیہ زندگی نسیم کے ساتھ آرام سے گزارے گا اس نے رنگ محل سے سالم تانگہ لیا اور لکشمی چوک پہنچ کر اسٹیشن سے آنے والی بس کا انتظا ر کرنے لگا ساڑھے آٹھ بجے کے قریب یہ اومنی بس میکلوڈ روڈ کے لکشمی چوک سٹاپ سے گزرتی تھی جس کے عین پیچھے اس کا سابقہ دفتر تھا۔ وہاں اس کی جان پہچان والے بہت سے لوگ اسے روز ملتے تھے دفتروں میں کام کرنے والے کلرک ، خوانچے والے، چائے کے سٹالوں کے ملازمین۔ سامنے واقع سینما کے ملازم اور فقیر۔ آج نجانے اس کے لباس کی چھب تھی یا خوشگوار موسم اس کا سبب تھا کہ ہر راہرو بابو غلام حسین کو بڑے تپاک سے مل رہا تھا۔ اللہ اللہ کرکے بس آئی اور وہ بس میں سوار ہونے کی تیاری کرنے لگا آج اس کے ہاتھوں میں ٹفن نہ تھا کیونکہ اس کے اعزاز میں دفتر کے سٹاف نے دوپہر کے کھانے کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ بابو غلام حسین کی بس جب مزنگ چونگی پہنچی تو بوندا باندی شروع ہوچکی تھی۔
جمشید دس برس ے ناروے میں مقیم تھا اور شادی کی غرض سے پاکستان آیا ہوا تھا۔ جمشید قرطبہ چوک برانچ سے ایک لاکھ ڈالر کے ٹریولر چیک بھنوا کر نکلا تو بارش تیزہوگئی تھی ۔ وہ بھاگ کر اپنے کزن سے مانگی ہوئی کارمیں بیٹھا تو دوسرے دروازے پر ایک خوش پوش ادھیڑ عمر شخص نظر آیا جو بارش میں بھیگ رہا تھا۔ ایک لمحے کیلئے تو جمشید نے سوچا کہ وہ بینک سے نکلا ہے مبادا یہ کوئی چور اچکا نہ ہو مگر اس کی شخصیت اور اپنی یورپ کی تعلیم اور ماحول کے باعث اس نے اس شخص کو بیٹھنے کی اجازت دے دی جمشید کی کار گلبرگ کی جانب روانہ ہوگئی۔ جمشید ابھی اس شخص سے بات کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ وو موٹر سائیکل سوار کار کے آگے آگئے اور جمشید پر پستول سے فائر کر دیا۔ کار بریک کی چرچراہٹ کے ساتھ گھومی اور سڑک کے کنارے درخت سے جاٹکرائی۔ وہ موٹر سائیکل سوار جمشید کی طرف بڑھے اور اس کا بیگ چھین کر فرار ہوگئے۔ جمشید کے سینے میں گولی لگی تھی اور وہ جانکنی کی حالت میں تھا۔ یہ واقعہ اتنی سرعت سے ہوا کہ بابو غلام حسین کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ جب واقعے کی سنگینی کا احساس ہوا تو بابو غلام حسین نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور باہر نکل کر مدد کے لیے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ اگر پولیس نے اس واقعے کے بارے میں اس سے تفتیش کی تو وہ کیا جواب دے گا اور آج تو ویسے بھی اس کا دفتر میں آخری دن ہے وہ روپوش ہونے کی غرض سے ساتھ والی گلی میں داخل ہونے لگاتو راہگیروں نے اسے پکڑ لیا۔ تفتیش کے دوران وہ وضاحت ہی نہ کرسکا کہ واردات کے وقت جمشید کی گاڑی میں کیا کررہا تھا اور جمشید سے اس کا کیا رشتہ اور کیا تعلق تھا۔ اسے ملزمان کا ساتھی سمجھ کر گرفتار کرلیا گیا۔
جب بابو غلام حسین کے دیئے گئے نمبر پر پولیس نے فون کیا تو اس کے سیٹھ نے اس واقعے سے پہلو تہی کرنے کی خاطر جواب دیا کہ” ملزم کل ہی ریٹائر ہوا تھا ممکن اب اس نے اس قسم کی وارداتیں کرنا شروع کردی ہوں آپ ضابطے کی کاروائی کریں ہم ہر ممکن تعاون کریں گے“اور فون بند کردیا۔ بابو غلام حسین کے اعزاز میں ہونے والی دعوت کا دفترمیں کسی نے ذکر تک نہیں کیا۔ ہر شخص نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بابو غلام حسین نے اس عمر میں اپنی عاقبت خراب کرلی ہے۔ ویسے بھی آخری دنوں میں اس کے ملبوسات، بنے ٹھنے رہنے اور بڑھاپے میں شادی کرلینے پر دفتر میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔
اس کے احباب میں سے ملاقات کے لیے صرف حکیم گلزار ایک بار جیل میں آیا تھا اور بھاری قانونی اخراجات کا ذکر کر رہا تھا ۔ جاتے ہوئے اس نے واسکٹ کی اندرونی جیب سے”مختار نامہ“ نکالا اور بابو غلام حسین کے دستخط کراکے لے گیا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker