وہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھی اپنی جائز خواہشات کو پورا کرنا اس کا حق تھا مگر وہ اس حق سے محروم تھی ۔اس کے چھوٹے چھوٹے بہت سارے خواب تھے مگر ان خوابوں میں سے ایک خواب بھی پورا نہیں ہوا تھا ۔اپنے خوابوں کو پورا نہ کرنا کس قدر اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے یہ صرف وہی جانتی تھی۔اسے اپنا وجود بے وقعت لگنے لگا تھا ایک ایسے بوجھ کی طرح جو اتارے نہیں اترتا تھا ۔
اسے ایسے محسوس ہوتا جیسے وہ جسمانی طور پر معذور ہےکیونکہ ہاتھ پاوں تو سلامت تھے مگر کر کچھ نہیں سکتی تھی۔بولنے کی صلاحیت ہونے کے باوجود وہ بول نہیں سکتی تھی ۔وہ سوچتی کیا اس کی طرح کوئی اس دنیا میں کوئی لاوارث و لاچار ہو سکتا ہے ۔اس کے منہ پہ جیسے تالے لگے ہوں اور جن کی چابیاں کسی گہری کھائی میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئی تھیں۔اس کی زندگی ایسے تھی جیسے لاوارث جیل کی قیدی ہو۔جس کا کوئی مستقبل نہیں ہے جو صرف حکام بالا کے احکامات کی منتظر رہتی ہے اور جہاں رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔وہ چاہتی تھی بولے مگر گونگوں کی طرح سب کے چہرے دیکھتی رہتی تھی بے بسی سے۔
وہ اکثر اوقات اکیلی بیٹھی یہ ساری باتیں سوچتی اور اپنے دکھڑے اپنے مالک کو سناتی اور خود ہی رب سے شکوے شکایات کرتی کہ اس کی زندگی کیا صرف آزمائش کے لیے ہے کیا اس کا زندگی پہ کوئی حق نہی ہے ۔؟؟
مگر پھر یہی جواب ملتا کچھ لوگ ساری زندگی آزمائشوں میں گزار دیتے ہیں ان کا صرف رب ہی وارث ہوتا ہے
کیا جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا واقعی رب وارث ہوتا ہے ؟؟
فیس بک کمینٹ

