حیرت کدے میں حیرت ڈاکٹر علی شاذف کا شعری مجموعہ ہے جو اپنے پڑھنے والے کو واقعی حیران کر دیتا ہے ۔
شاعری نام ہی مشکل بات کو آسان الفاظ میں کہہ دینے کا نام ہے اس مجموعہ کلام میں خود سے لڑتا جھگڑتا تو کبھی سماج کے رویوں سے نالاں شاعر دکھائی دیتا ہے ۔ ان کے اشعار میں خود کلامی بھی ہے مکالمہ بھی ہے
اپنی تباہیوں کا سبب آپ ہی ہوں میں
ریشہ دوانیوں کا سبب آپ ہی ہوں میں
میں نے یہ کب کہا ہے زمانے کا ہے قصور
ساری خرابیوں کا سبب آپ ہی ہوں میں
ڈاکٹر علی شاذف پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور اس خطرناک مرض کے ڈاکٹر ہیں جس مرض کا نام لیتے ہی لوگوں کے پاؤ ں سے زمین نکل جاتی ہے۔۔ ماہر امراض کینسر برائے اطفال ۔ وہ ملتان میں واحد ڈاکٹر ہیں جو اس مرض کے حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ سیمینار اور مختلف پروگرام کرتے ہیں انتہائی حساس دل کے مالک ہیں حساس دل نے مجبور کیا کہ وہ اپنے جذ بوں کو الفاظ کی صورت میں ڈھال دیں اور ان کا پہلا شعری مجموعہ اس قدر نئے اور اچھوتے مضامین سے مزین ہے کہ پڑھنے والا اس حیرت کدے میں کھو جائے ۔
اپنی باتوں پہ کبھی ہنسنا اور کبھی رو دینا اس مجموعے کا حاصل ہے۔۔ زمانے سے تنگ آ کر وہ سوال بھی پوچھتا ہے مگر اسے شاید اپنے سوالوں کا جواب کبھی نہیں ملا مگر وہ کھوج میں لگا رہا کہ اپنی الجھنوں کو سلجھا سکے مگر وہ کبھی ایسے نہیں کر پاِئے گا ڈاکٹر علی شاذف کے اگلے مجموعہ کلام کا قارئین کو شدت سے انتظار رہے گا شاعری کی دنیا میں خوبصورت اضافہ ہوا
جب مجھے مار دیا جائے گا
مجھ کو تسلیم کیا جائے گا
آج پھر تم نہیں آئے ملنے
ہجر کا زہر پیا جائے گا
فیس بک کمینٹ

