اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ خطرات مول لینے والے انسانوں کی زندگیاں رولر کوسٹر کی طرح ہوتی ہیں۔ میرے نزدیک یہی زندگی کا حسن ہے۔ گھسے پٹے اصولوں پر زندگی گزارنے والے افراد اس لطف سے محروم رہتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں سانحے اور حادثے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ دل کا ٹوٹنا اہل دل کے سفرِ زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں میرا دل ٹوٹا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر کا حساس انسان ابھی زندہ ہے۔ میں ایک مدت سے محبت سے خالی تھا اور مجھے اس کا احساس تک نہیں تھا۔ میں بھرپور زندگی گزارنے کا قائل ہوں۔
میں ترقی پسند ہوں اور ہمیشہ آگے بڑھنے پر یقین رکھتا ہوں۔ اس عمر میں دل ٹوٹنا میرے لیے حیران کن تھا۔ مجھے نوجوان علی شاذف یاد آ گیا۔ یہ حادثہ برسوں بعد رونما ہوا تھا۔
میرا ردِعمل بھی عجیب تھا۔ میں نے اپنا دکھ شیئر کرنے کے لیے اپنی چھوٹی بہن لومی کو فون کیا۔ لومی نے فون اٹھایا تو پریشان ہو گئی۔ "بھائی جان سب خیریت تو ہے؟” وہ سمجھی کہ میں نے شاید اسے کسی افسوسناک خبر کی اطلاع دینے کے لیے فون کیا ہے۔ میں نے اسے دل کا احوال سنایا تو وہ بہت حیران ہوئی۔ وہ سمجھی کہ شاید میں مذاق کر رہا ہوں۔ لیکن یہ مذاق نہیں بلکہ بہت سنجیدہ حقیقت تھی۔ یہ میرے لیے ایک بڑا نفسیاتی صدمہ تھا۔ "بھائی جان سنا ہے اس عمر کی محبت بہت خطرناک ہوتی ہے، اپنا بہت خیال رکھنا۔” لومی سے بات کر کے میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ کئی برسوں سے میری اس سے صرف رسمی بات چیت ہوتی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس موقع پر مجھے اپنی اسی بہن کا خیال کیوں آیا۔ آخر میرے بہت سے دوست، دوسرے بہن بھائی، کزن اور کامریڈ بھی تو ہیں۔
ہماری زندگی میں ہر مشکل کو شیئر کرنے کے لیے کچھ مخصوص لوگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ کس برے وقت میں کون ہمارے کام آئے گا۔ لیکن کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو ہمارا ہاتھ تھام لیتا ہے یا ہم خود اس کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ یہ سماجی تعلقات کی دنیا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اور شاید ہماری زندگی کا مقصد یہی ہے کہ ہم کسی نہ کسی مرحلے پر ایک دوسرے کے کام آتے رہیں۔
دل ٹوٹنا ایک جذباتی اور نفسیاتی سانحہ ہے۔ ہر صدمے کی طرح اس صدمے کے بھی کچھ مراحل ہوتے ہیں۔ یہ مراحل کسی خاص ترتیب سے رونما نہیں ہوتے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک مرحلہ گزر جائے تو ہم دوبارہ اس مرحلے سے نہیں گزریں گے۔ صدمے کی شدت ظاہر ہے کہ ہماری محبت کی شدت کے برابر ہوتی ہے۔
پہلا مرحلہ انکار کا ہوتا ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ شاید اس نے جھوٹ بولا ہو، یا مذاق کیا ہو۔ شاید وہ میری خاطر اسے چھوڑ دے گی۔ یہ خیالات انتہائی غیر معقول ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ہمارے ذہن کو صدمے کی شدت سے بچانے کے لیے اسے جذب کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ غصے کا ہوتا ہے۔ یہ غصہ باہر یا اندر کی طرف ظاہر ہو سکتا ہے۔ باہر کی طرف جائے تو ہم چیختے اور چلاتے ہیں۔ اندر کی طرف جائے تو ہم خود سے باتیں کرتے ہیں۔ جیسے: "آخر وہ میری زندگی میں کیوں آئی؟ مجھے اس سے محبت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، آخر میں ہی کیوں؟”
تیسرا مرحلہ بارگیننگ یا سودے بازی کا ہے۔ اس میں ہمارا دماغ ایک متبادل منظر نامہ تشکیل دیتا ہے۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی، کہانی ابھی جاری ہے اور کسی بھی وقت حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔ یہ ہمارے دماغ کی ہماری تقدیر کے ساتھ سودے بازی ہوتی ہے۔ یہ بھی ہماری خود کو نفسیاتی ضرب کی شدت سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔
چوتھا مرحلہ افسردگی یا ڈپریشن کا ہے۔ ہمیں سرنگ کے آخر میں موجود روشنی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
(جون ایلیا)
ہم پاتال میں گرنے لگتے ہیں۔ تنہائی ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے۔ یہ ماتم کا مرحلہ ہوتا ہے۔ ہم باقاعدہ غم مناتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ کیفیت بھی عارضی ہوتی ہے اور ہم جلد یا بدیر بالآخر اس سے نکل ہی آتے ہیں۔
پانچواں مرحلہ قبولیت کا ہے۔ ہم حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ ‘ہمارے راستے الگ الگ ہیں اور ہم کبھی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔” اس مرحلے پر پہنچ کر دل کے زخموں کا اندمال شروع ہو جاتا ہے اور ہم دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے لگتے ہیں۔
اوپر بیان کیے گئے مراحل بار بار آ سکتے ہیں لیکن ہر بار ان کی شدت پہلے سے کم ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ایسے صدمات سے گزرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم اپنے اندر محبت کے قدرتی انسانی جذبات رکھتے ہیں اور اپنے گرد موجود افراد کے حسن اور ذہانت سے متاثر ہوتے ہیں۔ یقینا یہی وہ جذبات ہیں جو ہمیں عملی زندگی میں عام انسانوں کی خدمت کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے صدمات کے تمام مراحل کو کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کہنا چاہیے تاکہ اندمال کی طرف ہمارا سفر جلد از جلد شروع ہو سکے۔

