جب سے ملک میں بچیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن کا اعلان کیا گیا اس کے ساتھ ہی ویکسینیشن کے خلاف ایک طوفان سا برپا کر دیا گیا ہے ۔ حضرت علامہ اقبال نے ہمارے بحر بے اضطراب کے لیے طوفان آشنائی کی دعا کی تھی لیکن ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ صرف طوفان بدتمیزی سے ہی آشنا ہونا ہے۔ ایسے ایسے لوگ ویکسین کے خلاف ماہرانہ رائے دے رہے ہیں جو گھر میں مسور کی دال پکانے کا مشورہ دیں تو بیگم کہتی ہے یہ منہ اور مسور کی دال ۔
کل ایک صاحب کے فرمودات نظر سے گزرے ، حسب معمول پاکستان اور مسلم اُمہ کے خلاف ہر قسم کی سازشی تھیوریوں کا چورن بیچا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ دیگر اقسام کے کینسرز سے اتنے لوگ مر رہے ہیں ان کے خلاف ویکسینیشن کی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی ! اطلاعآ عرض ہے کہ کسی کینسر کے خلاف ویکسین دستیاب ہی نہیں۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بعض اقسام کے کینسرز کے خلاف ویکسین کے کامیاب تجربات کیے ہیں لیکن وہ ویکسین ابھی تک مارکیٹ میں نہیں آ ئی۔ اور ایچ پی وی ویکسین بھی ایک اینٹی وائرل ویکسین ہے جو ایچ پی وی وائرس انفیکشن ہونے سے روکتی ہے۔
ایچ پی وی وائرس خواتین میں بہت عام ہے ، یہ دو جلدوں کے ملاپ سے پھیلتا بھی ہے ، عموماً اس کا انفیکشن بغیر بڑی علامات کے خود ختم ہو جاتا ہے بعض اوقات مسے بناتا ہے جو تکلیف بھی دے سکتے ہیں ، لیکن تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایچ پی وی انفیکشن کا سروائیکل کینسر سے گہرا تعلق ہے اور بہت سے کیسز میں یہ سروائیکل کینسر پر منتج ہوتا ہے۔ لہذا اس کی ویکسین کینسر ہونے سے روکتی ہے ۔ کینسر کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ یہ کتنا موذی مرض ہے ، اگر جلدی تشخیص ہو جائے تو سرجری ، ریڈیو تھراپی ، کیموتھراپی یا ان کے ملاپ سے انسان کی جان بچ سکتی ہے لیکن یہ علاج بہت منہگے اور انتہائی تکلیف دہ بھی ہیں۔
رہیں سازشی تھیوریاں تو آپ سب کو یاد ہو گا ، کل کی بات ہے کہا جا رہا تھا کہ جو کرونا وائرس کی ویکسین لگوائیں گے وہ ایک سال کے اندر مر جائیں گے ، مرے ؟
پولیو ویکسین کے بارے میں تو گزشتہ صدی سے ہی کہا جا رہا تھا کہ یہ پاکستانی مسلمانوں کی افزائش نسل روکنے کے لیے کفار کی سازش ہے لیکن بار بار پولیو کے قطرے پینے کے باوجود پاکستان میں سب سے زیادہ پیداوار یہی ہے پاکستانی مسلمان ، کہو ماشاءاللہ ۔۔ اور یار کوئی ہمارے خلاف سازش کیوں کرے گا ، دوسروں کو اور کوئی کام نہیں یا ہم اتنے طاقتور اور خوشحال ہیں کہ وہ ہم سے جل کر ہمارے خلاف سازشیں کریں گے ۔
پچاس کی دہائی میں حسین شہید سہروردی نے مسلم امہ کے اتحاد کے بارے میں کہا تھا کہ صفر جمع صفر جمع صفر۔۔ ۔ برابر صفر اور آج اسرائیلی حملے کے خلاف ہونے والے دوحہ اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد کے متن نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پچھتر سال بعد بھی ہم صفر ہیں۔ تو بھائی لوگو کوئی کام دھندہ کرو ، نہ خود پریشان رہو اور نہ دوسروں کو پریشان کرو
و ما علینا الاالبلاغ

