تجزیےعمار غضنفرلکھاری

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی اور ہماری جانب کا “ سچ“ ۔۔ عمار غضنفر

دہشت گردی  کی جڑیں انتہا پسندی سے پھوٹتی ہیں۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انتہا پسندی کی بنیاد راسخ العقیدگی پر استوار ہوا کرتی ہے۔ مذہبی عقائد کے علاوہ ہمارے نظریات بھی کبھی کبھار اپنی شدّت کے باعث عقیدے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اپنے عقائد پر مضبوطی سے جمے رہنا جہاں ایک جانب باعثِ توصیف سمجھا جاتا ہے، تو دوسری جانب اپنی سوچ، عقائد اور نظریات کے متعلق لچک نہ رکھنا انتہا پسندانہ رویّوں کو بھی جنم دیتا ہے۔ یہ انتہا پسندانہ رویّہ تعصب کو ابھارتا ہے۔ اور اسی تعصب کے باعث ہمارا مخالفین کے معاملے میں ردِّ عمل اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ہم اپنے سچ کی فتح کی خاطر انسانی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
ہر گروہ، نسل، قوم، فرقے اور مذہب کا ایک اپنا سچ ہے۔ اور یہ سچ دوسرے کے سچ سے مختلف ہے۔ ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن ہے۔ ہمیں صرف اپنی جانب کا سچ، سچ نظر آتا ہے اور دوسروں کو ان کی جانب کا۔ اگر آپ کی پیدائش کسی ایسی کمیونٹی میں ہوئی ہے جو اپنے علاقے میں مذہبی، لسانی یا نسلی لحاظ سے اکثریت کی حامل ہے تو آپ اقلیت سے تعلق رکھنے والے کی سوچ ، جذبات اور نقطہء نظر کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اور بعینہ یہی صورتحال دوسری جانب بھی ہوا کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اچھائی اور برائی کو اپنے اپنے پیمانے سے جانچنے کی بجائے ایک واضح لکیر کھینچ دی جائے۔ یعنی انتہا پسندانہ رویّہ بہرصورت قابلِ مذ مّت ہے۔ دہشت گردی کا نشانہ ہمیشہ معصوم انسان بنتے ہیں ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم، نسل یا فرقے سے ہو۔ ایک شخص کے چلے جانے سے اس کا پورا خاندان دکھ اٹھاتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے اندوہناک سانحے کے بعد ہماری سائیڈ پر جو عمومی ردِّ عمل اور جذبات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر دیکھنے میں آ رہے ہیں، وہ صرف ہماری جانب کے سچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سب سے پہلا ردِّ عمل تو یہ ہے کہ ”دیکھا یہ لوگ مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں، جب کہ ان میں بھی دہشت گرد موجود ہیں“ ۔ مگر یہ چیز آپ کو کلین چِٹ تو ہر گز نہیں دلواتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں میں زیادہ تر مسلمان ہی ملوث پائے گئے۔ یہ ممکنہ طور پر اُس کا ایک ردِّ عمل بھی تو ہو سکتا ہے۔
دوسرا بڑا ردِّ عمل یہ ہے کہ ” دیکھا، مغربی میڈیا اور اربابِ اختیار کو اپنے دہشت گرد کے لیے دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرنے میں تامل ہے“ ۔ یقین مانیے، چند مستشنیات کو چھوڑ کر مغربی میڈیا اور حکومتی ترجمانوں نے اس واقعے کو دہشت گردی ہی قرار دیا ہے۔ ہماری جانب بھی ایسا مائنڈ سیٹ کافی تعداد میں پایا جاتا ہے جو اپنے مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ ہمیں بھی صرف وہ طالبان برے لگتے ہیں جو ہماری ملکی سرحدوں کے اندر دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے اور شہریوں کا خون بہاتے ہیں۔ ہم نے ٹیلی وژن چینلز پر نیوزی لینڈ کے شہریوں کی ایک کثیر تعداد کو دہشت گردی کا نشانہ بننے والی اس مسجد کے سامنے گلدستے رکھتے، شمعیں روشن کرتے اور آنسو بہاتے دیکھا ہے۔ ہمارے اپنے ادھر یہ حال ہے کہ ہم نے تو کبھی ایک فرقے کی عبادت گاہ پر حملہ ہونے پر مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو وہاں سوگ مناتے نہیں دیکھا۔
تیسرا ردِّ عمل یہ ہے کہ دیکھو ساری دنیا میں مسلمان ہی ظلم کا شکار ہیں، دہشت گردی کا نشانہ بھی وہی بن رہے ہیں اور انہی پر دہشت گردی کا لیبل بھی چسپاں کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ کیونکہ آپ کمزور ہیں۔ آپ اغیار کے غلبے کے خلاف جو مسلح جدوجہد کرتے ہیں، ان کی نظر میں وہ دہشت گردی ہوتی ہے۔ جب آپ ماضی میں دنیا بھر میں غالب تھے تو صورتحال یکسر مختلف تھی۔ اب بھی اگر آپ دوبارہ کبھی غالب آ گئے تو صوتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی۔
ایک اور غصّہ یہ پایا جاتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کی شدّت کو کم کرنے کے لیے اس کے تانے بانے نسلی تعصب سے ملائے جا رہے ہیں۔ دیکھیں، اس معاملے میں دونوں پہلو ہی بعید از قیاس نہیں۔ حملہ آور کا تعلق وائٹ سپریمیسی کا نظریہ رکھنے والی تنظیم سے ہے اور اس نے اس سے متعلق ایک نفرت انگیز مینی فیسٹو بھی آن لائن اپلوڈ کیا تھا۔ دوسری جانب اس کے ہتھیاروں پر ایسی جنگوں کے نام بھی کنندہ تھے جو تاریخی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑی گئیں۔ ہاں مگر حملے کے لیے مسجد کا انتخاب اس مؤ قف کی تصدیق کے لیے ضروری نہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل سفید فام برتری پر یقین رکھنے والی تنظیم کی جانب سے ایسا حملہ سیاہ فام باشندوں کے چرچ پربھی کیا جا چکا ہے۔
اس لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ ان بحثوں میں الجھنے کی بجائے مجموعی طور پر ایسی سوچ کو پروان چڑھایا جائے جو پوری انسانیت کے لیے بھلائی کا پیغام لائے۔ اور اپنے نقطہء نظر سے کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹ کر دوسرے فریق کی جگہ پر کھڑے ہو کر ایک مرتبہ اس کے جذبات و احساسات کی روشنی میں حالات کو سمجھنے کی کوشش بھی کر لی جائے۔اور انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسی انسان مخالف برائیوں کے متعلق بطورِ انسان ایک مشترکہ مؤ قف اپنایا جائے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker