Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جنوری 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم
  • بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘ ۔۔لا پتا افراد کے ورثاء
  • پاکستانی بیوروکریسی کا نوآبادیاتی تناظر : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ
  • بے نظیر کا مائینس ہونے سے انکار ان کے قتل کی وجہ بنا ؟ : حامد میر کا کالم
  • پیر پگاڑا اور بلّی چوہے کا کھیل : سہیل وڑائچ کا کالم
  • نشانیاں ’ چیزیں ‘ نہیں ہوتیں : گھی کے ڈبے میکے کے باورچی خانے اور ابا کی یادیں : ڈاکٹر خدیجہ وکیل کا کالم
  • ’’ تمہیں پروین شاکر بنا دیں گے ‘‘ ادب میں کمپنی کی حکومت اور شاعرات کا استحصال : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • اسلام آباد: شادی والے گھر میں سلنڈر دھماکہ، دولہا دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق
  • امی جان کی یاد میں ابو کے نام ایک خط ( تاریخ وفات آٹھ جنوری 1968)
  • ترقی پسندی اور انقلاب ۔۔ایک فینٹیسی سے دوسری فینٹیسی تک : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»امر جلیل»امر جلیل کاکالم:سوال، جن کے جواب نہیں ملتے
امر جلیل

امر جلیل کاکالم:سوال، جن کے جواب نہیں ملتے

رضی الدین رضینومبر 29, 20221 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ایک اچھی فلم آپ کب تک اور کتنی مرتبہ دیکھ سکتے ہیں؟ کبھی کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ فلم اچھی نہیں ہوتی،مگر کچھ دیکھنے والوں کے لئےفلاپ یعنی ناکام فلم میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ وہ بار بار ناکام فلم دیکھتے ہیں اور ناکام فلم سے حظ اٹھاتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں، کامیاب اور ناکام فلم سے حظ اٹھانے والوں کو خود چل کر سینما ہاؤس جانا پڑتا ہے ۔ سینما ہال مع اچھی یا بری فلم کے خو د چل کر حظ اٹھانے والوں تک نہیں آتا۔ عام طور پر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کسی بندے کے حالات اس قدر دگرگوں بنا دیے جائیںکہ وہ فلم دیکھنے پر مجبور ہوجائے، مگر کبھی کبھی حالات اس قدر تنگ کردئیے جاتے ہیںکہ آپ فلم دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ آپ کیلئےاتنی سی گنجائش بھی نہیں چھوڑی جاتی کہ آپ بہانے بناکر فلم برداشت کرنے کے عذاب سے اپنی جان چھڑاسکیں۔ آپ کیلئےچھپنے کی گنجائش تک نہیں چھوڑی جاتی۔آپ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ منحوس فلم دیکھنے کا عذاب آپ کے مقدرمیں لکھ دیاگیا ہے۔ یہ چھوٹی سی تمہید آپ کو مبالغہ آمیز لگ رہی ہوگی۔ مگر یقین جانیے، زندگی میں کبھی نہ کبھی ہم سب کو ایسی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے جس کا ہم نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا ہوتا ۔
میں ایسی پر یکشا، پرکھ، امتحان سے گزر چکا ہوں، اور اب بھی گزررہا ہوں۔میں آپ کو حیران کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔آپ بھی میری طرح مجبور ہوکر چھبیس برس سے ایک ہی فلم صبح شام دیکھ رہے ہیں۔ میں انیس سو سینتالیس سے لگاتار ایک انتہائی بور فلم دیکھ رہا ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ڈرائونی ، ہیبت ناک واردات ہمارے وجود کو جھنجھوڑ کررکھ دیتی ہے۔ اب تو ایسی وارداتوں کی لمبی چوڑی فہرست ہماری تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ واردات کا معمہ حل کرنے کے لئے طرح طرح کی کھوجی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، مگر پچھلے 75 برسوں میں کھوجیوں کی کوئی ٹیم کسی ایک واردات کا معمہ حل کرنےمیں کامیاب ہونے سے کوسوں دوررہنے کے بعد اپنا وجود ، نام ونشان کھو بیٹھتی ہے۔ ایک ہیبت ناک واردات کی مثال دے رہا ہوں۔ ذرا غور سے سنیے گا۔ ذرا سااحساس رکھنے والوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔
آپ نے انیس سوسینتالیس کے بعد جنم لیا ہے، یا پھر دوہزار سات میں جنم لیا ہے، نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کا نام ضرور سنا ہوگا۔ آپ جس ملک میں رہتے ہیں اور جہاں پر آپ مطلق العنان کی طرح جائز اور ناجائز آزادی کے مزے اڑاتے ہیں، اس ملک کا نام پاکستان ہے۔ملک پاکستان جس کے آپ باسی ہیں، خود بخود نہیں بنا تھا۔ یہ ملک بنایا گیاتھا۔ اس ملک کو بنانے والے کا نام قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ لاغرصحت کے باوجود انہوں نے برسوں تک انگریز سے گفت وشنید اور بحث مباحثے کئے تھے۔انہوں نے منطقی دلائل سے انگریز کو ہندوستان کے بٹوارے پر آمادہ کرلیا تھا۔ میں تاریخ دان یا تاریخ نویس نہیں ہوں۔ میں تاریخ کا طالب علم ہوں۔ مسلم لیگ کی تاریخ پڑھنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بغیر پاکستان کا عالم وجود میں آنا ممکن نہیں تھا۔
برسوں کی تگ ودونے قائد اعظم کی تپ دق کی تکلیف بڑھا دی تھی۔ تب پاکستان کو عالم وجود میں آئے ہوئے ایک سال اور ایک مہینے کا عرصہ گزر چکا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح، پاکستان کے بانی، پاکستان کے گورنر جنرل کوئٹہ کے قریب زیارت میں زیرعلاج تھے۔ انہیں آرام کی سخت ضرورت تھی۔ دن رات،ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود وہ لگاتار لکھتے رہتے تھے۔ ان کے اس دنیا سے رُخصت ہونے کے بعد آج تک وہ لکھے ہوئے اوراق کسی نے نہیں دیکھے۔ بہرحال گیارہ ستمبر کو اچانک طبیعت خراب ہوجانے کے بعد قائد اعظم کو کوئٹہ سے کراچی لایاگیا۔ جہاز ماڑی پور ائیربیس پر اترا تھا۔ قائد اعظم کو ایک رواجی ایمبولینس میں دوپہر کے وقت گورنر ہاؤس روانہ کیاگیا۔ ماڑی پوری روڈ سے گزرتے ہوئے، ڈرائیور نے یہ بتاتے ہوئے، کراچی میں سب سے بڑے مہاجر کیمپ کے سامنے، روڈ کے دوسری طرف گاڑی روک دی کہ گاڑی میں کچھ خرابی ہوگئی ہے۔ اس نکتہ سے فقیر کے ذہن میں پچھلے چوہتر برس سے خدشات سے بھرے ہوئے سوال آج تک جواب کی خاطر تلاطم برپا کئےہوئے ہیں ۔جواب نہیں مل پاتے۔
میرا پہلا سوال ہے کہ قائد اعظم کو ایک عام رواجی ایمبولینس میں ماڑی پور ائیربیس سے گورنر ہائوس تک لے جانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ میرا دوسرا سوال ہے کہ ڈرائیور کو عین مہاجر کیمپ کے سامنے ایمبولینس کو انجن میں خرابی کا بہانہ بناکر روکنے کی ہدایت کس نے کی تھی؟ مہاجر کیمپ میں مہاجرین کی حالت بے انتہا خراب تھی۔ کچھ مہاجرین کے اعضا کٹے ہوئے تھے۔ کوئی بازوئوں سے اور کوئی ٹانگوں سے محروم تھا۔نہ ڈاکٹر تھے۔نہ دیکھ بھال اور نہ ہی کھانے پینے کا بندوبست کرنے کے لئے عملہ تھا۔ کیمپ کے تمام لوگ غصہ سے بھرے ہوئے تھے۔مجھے لگتا ہے کہ ہدایات دینے والے نے یہ سوچ کر ایمبولینس کو مہاجر کیمپ کے سامنے روکنے کا منصوبہ بنا یاتھا کہ غصہ سے بھرے ہوئے مہاجر قائد اعظم کی ایمبولینس پرٹوٹ پڑیں گے، مگر اتفاق سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ میرا تیسرا سوال ہے کہ ملک کے بنانےوالے، بانی، گورنر جنرل کو بغیر پروٹوکول کے ائیرپورٹ سے گورنر ہاؤس کے لئے روانہ کردیاگیا تھا۔کیا ایمبولینس کے آگے پیچھے کوئی گاڑی نہیں تھی؟ ایسے کیوں کر ممکن تھا؟ قائداعظم کو کسی دوسری گاڑی یا ایمبولینس میں شفٹ کرنا کیا بہت بڑا مسئلہ تھا؟ میرا چوتھا سوال ہے کہ اس روز لیاقت علی خان اور ان کے وزرا کہاں تھے؟
دوڈھائی گھنٹے قائد اعظم کوعذاب میں مبتلا کرنے کے بعد گورنر ہاؤس لایا گیا ۔ رات کے دس بج کر بیس منٹ پر قائد اعظم یہ دنیا چھوڑ کرچلے گئے۔ میرا پانچواں اور آخری سوال ہے کہ کیا اس سانحے پر سرکار نے کبھی کوئی کمیٹی بنائی تھی؟اگر بنائی تھی، تواس کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کہاں ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ : عمران خان اب سپریم کورٹ کی سرپرستی چاہتے ہیں!
Next Article خالد مسعود خان کا کالم:ایک ترمیم کا سوال ہے بابا!
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم

جنوری 13, 2026

بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘ ۔۔لا پتا افراد کے ورثاء

جنوری 12, 2026

پاکستانی بیوروکریسی کا نوآبادیاتی تناظر : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ

جنوری 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم جنوری 13, 2026
  • بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘ ۔۔لا پتا افراد کے ورثاء جنوری 12, 2026
  • پاکستانی بیوروکریسی کا نوآبادیاتی تناظر : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ جنوری 12, 2026
  • بے نظیر کا مائینس ہونے سے انکار ان کے قتل کی وجہ بنا ؟ : حامد میر کا کالم جنوری 12, 2026
  • پیر پگاڑا اور بلّی چوہے کا کھیل : سہیل وڑائچ کا کالم جنوری 12, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.