امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم:دلیپ کمار اور اردو

اردو ایک حیرت انگیز اور کرشماتی زبان ہے۔ آپ جب تک حیران نہیں ہوتے تب تک آگاہی کے دروازے نہیں کھلتے ۔ جان بوجھ کر حیران ہونے سے آگاہی کے دروازے نہیں کھلتے۔ کئی ایک حیران کن باتوں اور واقعات کو ہم سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے۔ اس لئے حیران نہیں ہوتے۔ مثلاً، ایک نوجوان آزاد قبائل سے روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے۔ مختلف مراحل سے ہوتا ہوا وہ کراچی پہنچتا ہے۔ پشتو کے علاوہ اسے کوئی زبان نہ بولنا آتی تھی اور نہ سمجھ میں آتی تھی۔ کچھ عرصہ اس نے پنجاب میں گزارا تھا۔ وہاں ہر شخص پنجابی بولتا تھا۔ وہ پنجابی سمجھنے اور بولنے میں ناکام رہا۔ کچھ عرصہ اس نے سندھ میں گزارا تھا۔ اس عرصے کے دوران نوجوان کو سندھی زبان نہ بولنے آئی، نہ ہی سمجھ میں آئی۔ کراچی آنے کے بعد اسے ایک کثیرالمنزلہ عمارت میں چوکیداری کی ملازمت مل گئی ۔ عمارت میں ستراسی فلیٹ تھے۔ مختلف بولیاں بولنے والے بلڈنگ میں رہتے تھے۔ ان سب کی مشترکہ زبان تھی اردو۔پختون نوجوان نے چند دنوں کے اندر کام کے کچھ الفاظ سیکھ لئے، جیسا کہ ، جی ہاں، جی نہیں، آتا ہوں ، پتہ نہیں۔ایک مہینے کے اندر وہ ٹوٹی پھوٹی اردو بھی بولنے لگا۔ دوسرے مہینے میں اس نے اردو کے کچھ اورالفاظ سیکھ لئے۔ تیسرے مہینے وہ پشتو لہجے میں اچھی خاصی اردو بولنے لگا۔ ویسے تو یہ عام سی بات لگتی ہے۔ مگر بات ہے غورطلب۔ پختون نوجوان نے کسی سے ٹیوشن نہیں لی ۔ اردو سیکھنے کے لئے اسے کسی اسکول جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اسے اردو خود بہ خود آنے لگی۔ میرے لئے یہ سب کچھ حیرت انگیز ہے۔ تین مہینوں کے اندر آپ برصغیر کی کوئی زبان فرفر نہیں بول سکتے، سوائے اردو کے۔ اپنی اپنی مادری زبان کے لہجے میں لوگوں کو اردو بولتے ہوئے دیکھ کر اردو کی کشش کا قائل ہونا پڑتا ہے۔
تقسیمِ ہند سے پہلے بنگال سے بمبئی اب ممبئی تک، اور کنیا کماری سے لے کر کشمیر تک لوگ اردو کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے۔ فلموں کے نام انگریزی، ہندی، اور اردو میں لکھے جاتے تھے۔ مگر تقسیمِ ہند کے بعد اردو پر بڑا ہی کٹھن اور کڑا دور آیا تھا۔ یہ باتیں میں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ آپ اندازہ لگاسکیں کہ اردو زبان اور ادب سے گہری عقیدت رکھنے والے دلیپ کمار کو کن حالات کے پس منظر میں کام کرنا پڑا تھا ۔اردو پر دو الزاموں کی چھاپ لگ گئی تھی۔ ایک یہ کہ اردو بٹوارے کی زبان تھی۔ مسلم لیگ نے پاکستان بنانے یا بننے کے لئے تمام تحریک اردو میں چلائی تھی۔ اردو پر لگنے والا دوسرا الزام مضحکہ خیز تھا۔ الزام لگا تھا کہ اردو مسلمان زبان ہے، یا مسلمانوں کی زبان ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ حیرت انگیز الزام تھا۔ زبانیں مسلمان ، ہندو، عیسائی، یہودی، نہیں ہوتیں۔ سبزیاں مسلمان، ہندو، عیسائی، یہودی نہیں ہوتیں، جانور مسلمان، ہندو، عیسائی یہودی نہیں ہوتے ۔ ہوامیں سانس لینے والے لوگ مسلمان، ہندو، عیسائی، یہودی ہوتے ہیں۔ سب اپنے آپ کو اعلیٰ اوردوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ اس قدر آپس میں لڑتے ہیں کہ تاریخ کے پنوں سے لہو ٹپکتا رہتا ہے۔ زبانیں ہندو، مسلمان، عیسائی نہیں ہوتیں۔
مگر بٹوارے کے بعد ہندو سیاستدانوں اور انتہا پسند ہندوؤں نے اردو پر مسلمان ہونے کی تہمت لگادی۔ مجھے لگتا ہے کہ انتہا پسند ہندو علم وادب سے نابلد تھے۔ ورنہ وہ اردو پر اس نوعیت کی بھونڈی تہمت نہ لگاتے۔تب ان کے علم میں ہوتا کہ کرشن چندر ، سرلادیوی، راجندر،سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور، اپندر ناتھ اشک، فراق گور کھپوری،پریم چند(چند نام) کے بغیر اردو ادب کی تاریخ ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہمیں اس بات سے بحث نہیں ہے کہ ہندوستان کا بٹوارہ ہونا چاہیے تھا یاکہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ویسے بھی یہ موضوع متنازع ہے۔ ہم تاریخ کو گواہ بناکر صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ بٹوارے کے نتیجے میں جو وحشت ناک فسادات ہوئے اور جس طرح انسانی رشتے زوال پذیر ہوئے،انہوں نے صدیوں کے اعتبار، اعتماد اور بھروسے کی ساکھ کو خاک میں ملا دیا۔ وہ دور برصغیر میں اردو کیلئے بڑا کٹھن دور تھا۔ ہندوستان میں اردو پڑھنے پڑھانے پر پابندی لگادی گئی۔ دکانوں سے اردو میں لکھے ہوئے بورڈ اتار دیئے گئے بٹوارے کے بعد فلموں کے اسکرپٹ میں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ ٹھونسے گئے۔ یہی وہ دور تھا جب فلم جگنو کے بعد دلیپ کمار کا بے مثال شہرت اور پذیرائی کی طرف سفر شروع ہوا تھا۔ دلیپ کمار کی عادت تھی کہ وہ فلم کا اسکرپٹ بار بار پڑھتے تھےاور اس قدر انہماک سے پڑھتے تھے کہ شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے فلم کی کہانی اور ڈائیلاگ اپنی روح میں انڈیل دیتے تھے۔ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کبھی اس بات پر اعتراض نہیں کرتے تھے کہ دلیپ کمار اپنے مکالموں پر نظر ثانی کرتے تھے۔ کبھی تو اپنے ڈائیلاگ خود تحریر کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دلیپ کمار کی فلموں میں خاص طور پر ان کے اپنے ڈائیلاگ نفیس ، شستہ اور عمدہ اردو میں ہوتے تھے۔ ایک واحد شخص دلیپ کمار نے اردو کیلئے ابتر حالات میں اردو کی ایسی حفاظت کی جس کی اردو ادب میں مثال نہیں ملتی، کتاب کی اہمیت اپنی جگہ، مگر لاکھوں کروڑوں لوگوں تک آپ صرف ملٹی میڈیا، یعنی ابلاغ عامہ کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں۔ اور وہ کام تہہ دل سے دلیپ آدھی صدی سے زیادہ عرصے تک کرتے رہے۔ اردو زبان پر تحقیق کرنے والے محقق بجا طور پر بڑے بڑے ادیبوں اور عالموں کے نام گنواتے ہیں اور حوالوں سے ان سب کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ مگر اپنے شستہ لب و لہجہ سے اردو کی جس قدر ترویج دلیپ کمارنے کی ہے۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker