امجد اسلام امجدکالملکھاری

نیا سال… خواب اور خدشے۔۔امجد اسلام امجد

روزانہ شام آٹھ سے گیارہ بجے رات تک (کم از کم ٹی وی کی حد تک) یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وطن عزیز میں سوائے ہر طرح کی گڑبڑ کے کچھ بھی نہیں ہو رہا اور کوئی بھی چیز اپنی صحیح جگہ پر نہیں ہے اور ہر خبر ایک دھمکی یا بدخبری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔
اس پر مجھے اشفاق صاحب کا ایک جملہ بہت یاد آتا ہے۔ چند برس قبل ڈرانے کا یہی کام اخبارات کے ذریعے کیا جاتا تھا کہ جس میں خیر کی خبر کو سرے سے خبر ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اشفاق صاحب نے بتایا کہ ان دنوں ان کے گھر میں روزانہ تین اخبار آیا کرتے تھے اور ایک اخبار کی قیمت سات روپے ہوا کرتی تھی۔
ہماری آپ کی بانو آپا یعنی بیگم اشفاق احمد صبح کا بہت سا وقت ان اخبارات کے مطالعے میں گزارتی تھیں۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے بانو سے کہا یہ جو روز تم اکیس روپے خرچ کرکے طرح طرح کا ”ڈر“ خریدتی ہو اگر تم مجھے دس روپے روز دینے کا وعدہ کرو تو میں تمہیں ان اخباروں سے زیادہ ڈرا دیا کروں گا۔ غالباً اسی پس منظر میں No News is a Good News کا فلسفہ ایجاد ہوا تھا۔ پی ٹی وی اگرچہ ریاستی ادارہ ہے مگر اپنی اجارہ دارانہ یکتائی کے دنوں میں یہاں ریاست کو ”حکومت“ کے معنوں میں لیا جاتا تھا اور کسی بھی سرکاری پالیسی کی مخالفت دبی زبان میں کرنا بھی تقریباً ناممکن تھا اور یوں عوام تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے سے تقریباً محروم رہتے تھے۔
پرائیویٹ نیوز چینلز نے آکر اس جمود کو توڑا تو سہی اور کھل کر بات کرنے کا آغاز بھی کیا لیکن بہت جلد پرانا زمانہ ایک نئی شکل میں لوٹ آیا کہ اب حکومت کے حق میں بات کرنا ایک کارے دارد کی حیثیت اختیار کرگیا لیکن زیادہ خرابی اسی وقت ہوئی جب مختلف چینل کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان بننا شروع ہو گئے اور گنتی کے چند اینکر خواتین و حضرات عقل و دانش اور سیاسی بصیرت کے ایک طرح سے ٹھیکے دار بن گئے۔ ان کے اس رویے کے عناصر ترکیبی میں ان کی ذاتی رائے، ان کے ادارے کی رائے، اسٹیبلشمنٹ کا نکتہ نظر اشتہارات اور خفیہ اور اعلانیہ غیر ملکی فنڈنگ نے مل جل کر Veiws اور News کا ایک ایسا نیا قوام تیار کیا جس کی پیکنگ پر خطاطی کے فرق سے قطع نظر ایک ہی لیبل درج ہوتا تھا ”انتشار“ اور جس کا ذیلی عنوان نان ایشوز کو ایشوز بنانا ہوتا تھا اور ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ کسی گفتگو یا مذاکرے کے شرکاء اپنی اپنی باری پر اور تمیز کے ساتھ اپنی بات کرتے اور دوسرے کی سنتے تھے۔ اس کے بعد بلند آواز میں بولنا فیشن ٹھہرا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس میں دوسرے کی بات سنے بغیر اپنی بات پر اڑے رہنا اور ”میں نہ مانوں“ کے ساتھ ساتھ ایسی زبان کا استعمال عام ہونے لگا جسے کسی بھی طرح سے شرفاءیا پڑھے لکھے اور مہذب لوگوں کی زبان نہیں کہا جا سکتا تھا۔ سو ہم نے یہ بھی دیکھا کہ یہ بدزبانی، گالم گلوچ اور بھانڈپن سے ہوتی ہوئی براہ راست ہاتھاپائی کی شکل بھی اختیار کر گئی۔
اپنی ہر بات کو صحیح اور دوسرے کی ہر بات کو غلط سمجھنا ایک ایسا رویہ ہے جس کی مثالیں یوں تو ہمیں تاریخ کے ہر دور میں ملتی ہیں مگر میڈیا کے فروغ کے بعد اس کی جو شکل سامنے آئی ہے اس پر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کج بحثی اور ہٹ دھرمی کسی بھی فرد یا معاشرے کے لیے ایک زہر قاتل سے کم نہیں کہ اس کا سب سے پہلا شکار برداشت، انصاف اور مکالمہ ہوتے ہیں۔ روس اور امریکا کی سرد جنگ کی شدت کے دنوں کا ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ روسی صدر نے اپنے وزیر خارجہ سے کہا کہ امریکی حکومت کی ہر بات کے جواب میں تم نے No کہنا ہے۔
فون پر گفتگو کا آغاز ہوا تو روسی وزیر خارجہ نے دی گئی ہدایت کے مطابق ہر بات کے جواب میں No,No کی رٹ لگا دی۔ کسی سوال کے جواب میں وہ رکا اور ہچکچاتے ہوئے Yes کہنے کے بعد پھر نو نو کی گردان کرنے لگا۔ گفتگو ختم ہوئی تو صدر نے غصے سے پوچھا جب میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ ہر بات کے جواب میں No کہنا ہے تو پھر درمیان میں تم نے ایک بار Yes کیوں کہا؟ اس پر وزیر خارجہ نے سر کھجاتے ہوئے کہا سر وہ پوچھ رہا تھا کیا تمہیں میری آواز آرہی ہے؟
2019ء کے آغاز پر پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے چار ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں اگر میڈیا کی رپورٹ کے حوالے سے دیکھا جائے تو انھوں نے سوائے اپوزیشن کو دبانے، مہنگائی میں اضافہ کرنے اور دوست ملکوں کے آگے کاسہ گدائی پھیلانے کے اور کچھ بھی نہیں کیا اور جہاں تک حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کا تعلق ہے ان کی حالت بھی متعلقہ روسی وزیر خارجہ سے کچھ مختلف نہیں کہ ان کا کام دوسرے کی ہر بات پر No کہنا اور مخالفین اندرونی انتشار اور تباہی کی پیش گوئیاں کرنے کے سوائے کچھ اور نہیں۔
اس میں شک نہیں کہ ہماری قومی تاریخ، سیاسی مزاج، تربیت کی کمی اور میڈیا کی غیر ذمے داری سب ہی اس میں برابر کے شریک ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز کی سلامتی، ترقی اور سالمیت کا دارومدار اور اس کا نفع نقصان ہم سب کا سانجھا ہے کہ حکومت کی کسی غلط پالیسی یا اپوزیشن کے کسی ناروا احتجاج کا نقصان ان سے زیادہ ہماری ریاست اور اس کے عوام کو ہو گا۔
گزشتہ حکومتوں نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا اس کا حساب اپنی جگہ موجودہ حکومت ان کے کیے دھرے کا رونا رونے کے ساتھ ساتھ ان کی کی ہوئی غلطیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا کر یا نہیں کر رہی اس کی تفصیل اور تفسیر بھی اپنی جگہ مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے مسائل کے اس پہاڑ سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے۔ جس کا پھیلاو¿ سمیٹنے کے بجائے دم ہمہ دم بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
سو مسئلہ ماضی کی کرپشن یا مبینہ طور پر مشکوک نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کا ہو یا موجودہ حکومت کی مالی پالیسیوں اور عوام کی حالت بہتر بنانے کے دعوو¿ں کا، زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ 2019ءکا ہر آنے والا دن ان مسائل کی گردان کرنے کے بجائے ان کے حل کی طرف محو سفر ہو۔ بلاشبہ نہ اگلوں کا ہر کام غلط تھا اور نہ ہی عمران خان کی حکومت کا ہر اقدام آئینے کی طرح صاف شفاف ہو سکتا ہے کہ کامل ذات تو صرف اس کائنات کے خالق ہی کی ہے۔ البتہ ہم اس کی دی ہوئی عقل و دانش، برداشت اور باہمی محبت سے کام لے کر ایک ایسا رویہ ضرور اپنا سکتے ہیں جس کا مقصد خیر کا حصول ہو اور مجھے یقین ہے کہ جس قدر جلد ہم اس راستے کو اپنائیں گے اسی قدر تیزی سے یہ نیا سال خدشوں کو روندتا ہوا خوابوں اور ان کی خوب صورت تعبیروں کو ہماری جھولی میں ڈالتا چلا جائے گا۔
(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker