امجد اسلام امجدکالملکھاری

انڈس اسپتال … ایک روشن مثال۔۔امجد اسلام امجد

گزشتہ ہفتے ایک نئی ادبی تنظیم”تہذیب “ کے زیراہتمام ہونے والی ایک دو روزہ ادبی کانفرنس اور مشاعرے میں شرکت کے لیے کراچی جانا ہوا۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں فروغ ادب اور اظہار سپاس ایک جگہ جمع کر دیئے گئے تھے۔ تفصیل اس جمال کی یوں ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابقہ استاد اور نامور ادیب پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی کینسر کی موذی مرض کی لپیٹ میں آ گئے ہیں مگر انھوں نے اس سے ہار نہیں مانی اور اس قدر بہادری ‘ سلیقے اور تسلسل سے اس کا مقابلہ کیا کہ اب رب کریم نے انھیں اس سے مکمل صحت یابی عطا کر دی ہے۔
آغاز میں یہ تقریب ایک جشن صحت کی شکل میں تھی جسے ان کے شاگردوں ‘ احباب اور ادب دوستوں نے ترتیب دیا تھا جن میں سب سے نمایاں نام کشور عدیل جعفری کا تھا مگر اس کی تیاری کے دوران انھوں اور ان کے احباب نے محسوس کیا کہ اسے ایک باقاعدہ ادبی تقریب کی شکل بھی دی جا سکتی ہے، سو یہ سلسلہ دو دنوں پر پھیل گیا جس میں کراچی کے نمایندہ ادیبوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں سے بھی پندرہ سے زیادہ لکھنے والوں کو مدعو کیا گیا اور یوں یہ اظہار سپاس اور اعتراف خدمت ایک ایسے جشن توقیر کی شکل اختیار کر گیا جس میں اپنے درمیان موجود زندہ اور ادب اور زندگی سے کمٹڈ اہل قلم کی تحسین کا ایک مستحسن اور لائق تقلید سلسلہ ایک عملی شکل میں ڈھل کر سامنے آ گیا ہے۔
بیماری اور حیات و موت کے معاملات کا انسانی زندگی سے چولی دامن کا ساتھ ہے، سو ہوا یوں کہ اسی روز دن کے وقت برادرم شیخ محمد صدیق کے برادر خورد شیخ ادریس کی تعزیت کے لیے میں محمد اشرف شاہین ان کے گھر پہنچے تو دعا کے بعد مرحوم کی علالت اور اس سے متعلقہ تفصیلات کا ذکر چھڑ گیا اور وہاں سے ہوتی ہوئی بات وطن عزیز میں طبی خدمات اور اس میں حکومت اور اہل دل کے تعاون اور رویے تک جا پہنچی۔ صدیق بھائی اس سے قبل بھی کئی بار انڈس اسپتال کا ذکر کرتے رہتے تھے کہ وہ اس کے آغاز بلکہ تصور سے لے کر اب تک نہ صرف اس کے ساتھ وابستہ ہیں بلکہ ایک مشن کی طرح اس کے دائرہ خدمات کو مسلسل بڑھانے اور اس کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے پر کمربستہ رہتے ہیں اور کئی بار مجھے اس کی وزٹ کے لیے وقت نکالنے کا کہہ چکے تھے۔
ان کے اس تعلق کی مضبوطی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگرچہ میں ان کے پاس ایک ذاتی تعزیت اور غم گساری کے لیے گیا تھا مگر یہ جان کر کہ اس وقت اس وزٹ کی گنجائش نکل سکتی ہے وہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر مجھے انڈس اسپتال پر ایک نظر ڈالنے کے لیے ساتھ لے کر چل پڑے۔ اس وقت مجھے ان کا یہ اصرار کچھ عجیب سا لگا مگر اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ یہ نیکی ان کے نصیب میں پہلے سے لکھی ہوئی تھی کہ خدمت خلق کی ایسی روشن اور حوصلہ افزا مثال وطن عزیز میں بوجوہ کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے اور جو ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہاں گزرا وہ میر ے لیے اپنی قوم اور سرشت انسان کی نیکی اور انسان دوستی کی فضا میں گزرا ہوا ایک ایسا کوالٹی ٹائم تھا جس سے روح سرشار اور سمٹتی ہوئی ہمت بے کنار ہو جاتی ہے۔
اس اسپتال کی کل عمر گیارہ سال کے لگ بھگ ہے مگر اس مختصر سے عرصے میں اس کی کارکردگی ا ور کارنامے کچھ ایسے ہیں کہ جن کے حسن اور پھیلاﺅ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں سے اعتبار اٹھنے لگتا ہے ایک ایسے دور میں جب سرکاری اسپتالوں میں بھی علاج کی سہولیات اور معیار انتہائی کم اور اخراجات روز افزوں ہیں کسی ایسے اسپتال کا تصور کہ جس میں داخلے کے بعد مریض اور اس کے لواحقین سے ایک پیسہ بھی نہ لیا جاتا ہو اگر ناممکن ہے تو انڈس اسپتال بنانے اور چلانے والوں نے اسے ممکن کر کے دکھا دیا ہے۔
اس اسپتال کی صفائی‘ علاج کے معیار ‘ ڈسپلن اور سہولیات کو ان لوگوں نے کس طرح قائم رکھا ہوا ہے اس کی تفصیلات بھی بیک وقت ہوش ربا اور ایمان افروز ہیں کہ یہاں ہر برس تقریباً دو لاکھ مریضوں کے علاج اور اسپتال میں نئی تعمیرات اور اسٹاف کے اخراجات پر تقریباً120 ملین امریکی ڈالر خرچ دیجیے جاتے ہیں۔ میرا حساب ویسے بھی بہت کمزور ہے اور پھر معاملہ اگر ہزاروں اور لاکھوں کے بجائے ملین اور امریکی ڈالرز کا ہو تو یہ بالکل ہی جواب دے جاتا ہے سو اس بحث میں پڑے بغیر کہ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم کتنی بنتی ہے۔ فیض صاحب کے اس مصرعے سے ہی کام چلاتے ہیں جس کی شکل انور مسعود نے ایک اپنے اضافہ کردہ مصرعے کے ساتھ کچھ یوں بنا دی ہے کہ
جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
کل تم کو بتا دیں گے رقم کتنی بنی ہے
ایمانداری کی بات یہی ہے کہ اس اسپتال کے ماحول‘ خدمات‘ تنظیم‘ وسعت اور اس کی ٹیم کی محنت اور صلاحیت کو دیکھ کر جی بہت خوش ہوا ہے اور علامہ صاحب کا یہ مصرعہ بار بار یاد آیا ہے کہ
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی
برادرم شیخ محمد صدیق اور اشرف شاہین نے اس کے لیے عطیات دینے والوں کے کچھ بظاہر ناقابل یقین مگر سچے اور ایمان افروز واقعات سنائے کہ اپنی قوم اور انسانیت کے زوال کے تمام قصے کچھ دیر کے لیے ہوا ہو گئے۔ ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اس کام میں کس قدر دل کھول کر حصہ لیتے ہیں اور کس خاموشی سے اس کار خیر میں اپنا سب کچھ نثار کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس کو سن کر قلب و روح میں ایک حرارت اور روشنی سی پھیل جاتی ہے۔ مجھے ڈاکٹر امجد ثاقب کی ”اخوت“ میاں عبدالشکور کی ”الخدمت“ عزیزی یاسر کی ”سائٹ“ اور جعفری برادران کی غزالی ایجوکیشن سسٹم کے حوالے سے تعلیم کے شعبے میں اپنی قوم کے جذب صادق کو دیکھنے کے کچھ قریبی مواقع ملے ہیں لیکن یہ جان کر مزید خوشی ہوئی کہ اب ہمارے لوگ تعلیم اور صحت سمیت زندگی کے دیگر شعبوں مثلاً یتیموں اور بیواﺅں کی خدمت کے لیے بھی مثالی ادارے قائم کر رہے ہیں۔
اس دوران میں یہ بات بار بار سننے میں آئی کہ اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کے لیے خاموشی اور اعلان دونوں ہی طریقے جائز اور مستحسن ہیں کہ اعلانیہ نیکی دوسروں کے لیے تحریک کا سبب بنتی ہے۔ انڈس اسپتال کی مالی مدد کرنے والوں میں بھی دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں مگر اس حوالے سے ایک دوست کی سنائی ہوئی یہ بات دل کو بہت چھوتی ہے کہ جب کسی مخیر آدمی سے ایک بھاری عطیے کی وصولی کے بعد اس کا نام پوچھا گیا تو اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ متعلقہ تنظیم کے لوگوں نے کہا کہ انھیں اپنے دفتری ریکارڈ کے لیے ان کے نام کی ضرورت ہے تاکہ معلوم رہے کہ یہ عطیہ کس نے دیا تھا، سو آپ مہربانی فرما کر اپنا نام لکھوا دیجیے اس پر اس شخص کا جواب کمال کا تھا اس نے کہا
” میں نے جس کے نام پر یہ عطیہ دیا ہے اس کو میرا نام معلوم ہے“
انڈس اسپتال کی شاخوں اور اس کے زیر انتظام چلنے والے اسپتال اس بات کی ایک زندہ اور روشن مثال ہیں کہ تمام تر مسائل اور خرابیوں کے باوجود ہم ایک زندہ اور اچھی قوم ہیں، ضرورت صرف اس نیکی کو کسی مربوط سسٹم میں ڈھالنے کی ہے اور اس اسپتال اور اس جیسے کچھ اور اداروں کی موجودگی میں اب ہمیں کہیں دور جانے کی ضرورت بھی نہیں۔ رب کریم ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker