امجد اسلام امجدکالملکھاری

بس یہی بات پوچھنی ہے مجھے / امجد اسلام امجد

مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ’’بس یہی‘‘ کا سلسلہ کہیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، جواب تو کیا ابھی کوئی سوال بھی مکمل نہیں ہو پاتا کہ ایک نیا سوال سر اٹھانے لگتا ہے اور دائروں میں دائرے الجھتے چلے جاتے ہیں۔ ابھی کل کا سنا‘ دیکھا‘ پڑھا اور سوچا ہوا کسی باقاعدہ اور نتیجہ خیز شکل میں ڈھلتا بھی نہیں کہ ’’آج‘‘ کی بمباری شروع ہو جاتی ہے۔
صبح کے اخبار سے لے کر آدھی رات کو سونے سے قبل تک ملنے والی تقریباً ہر دوسری خبر کسی دھمکی یا سانحے کی پیغام بر ہوتی ہے اور ان کی تعداد اتنی زیادہ اور ہمہ پہلو ہوتی ہے کہ ٹھیک سے ڈرنے اور رونے کا وقت بھی نہیں ملتا، رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے کہ اس میں سے اگر 95% افواہوں اور غیرمصدقہ خبروں کو نکال بھی دیا جائے تب بھی باقی کی5% دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
بالخصوص وہ معاملات اور مسائل جن کا تعلق عالم انسانیت اور اس کے مستقبل سے ہیں، اس لیے زیادہ پریشان کرتی ہیں کہ مقامی اور ملکی میڈیا ایک مخصوص دائرے میں گھومنے کے باعث نہ تو ان پر مناسب توجہ دیتا ہے اور نہ ہی اس عوامی اور اجتماعی ردعمل کو ٹھیک سے ریکارڈ پر لاتا ہے جن سے ہمارا تعلق اس کرہ ارض پر بسنے والی اس انسانی برادری سے بنتا ہے جس کا ہر فرد رنگ‘ نسل‘ عقیدے‘ تاریخ اور جغرافیے کی تقسیم سے ہٹ کر ایک مساوی حقوق کا حامل باشندہ ہے کہ آخری تجزیے میں سب ہی کو اس کے لیے جوابدہ ہونا ہے۔
جنگ کوئی بھی چھیڑے! ہتھیار کوئی بھی بنائے یا چلائے! نظام معیشت کے اصول کوئی بھی طے کرے! خطرناک اور نئی سے نئی بیماریوں کا پتہ کوئی بھی چلائے اور ان کا علاج کوئی بھی ڈھونڈے! رزق اور پانی کی فراہمی یا کمی کہیں بھی ہو اور بچہ کسی کا بھی مرے! اس کھیل کے کردار وہ سب لوگ ہیں اور رہیں گے جو انسان کے روپ میں پیدا ہوتے اور مرتے ہیں۔ آپ ازل‘ ابد‘ حادث یا قدیم‘ کیوں‘ کب اور کیسے پر لاکھ اختلاف کر لیں۔
آپ کا ہاتھ دینے والا ہو یا لینے والا، آپ اشیا کے بنانے والے ہوں یا صرف استعمال کرنے والے‘ آپ کا تعلق پہلی دنیا سے ہو یا تیسری دنیا سے‘ ستاروں کا شکار کرنے والے ہوں یا ان سے صرف فال نکالنے والے‘ سب کے سب ایک سطح پر اس عمل میں برابر کے شریک ہیں اور یوں جو بات مجھے پوچھنی ہے اس کا جواب بھی مجھے ہی دینا ہے۔ مثال کے طور پر شام میں ہونے والی بمباری اور ہلاکتوں کی داستانوں‘ تصویروں اور بچوں اور عورتوں کی چیخوں میں جو بھی کچھ دکھائی اور سنائی دیتا ہے (یا بظاہر نہیں بھی دیتا) وہ سب کا سب ہمارا یعنی اس دور میں سانس لینے والوں کا ہی عکس اور منظرنامہ ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے یہودی پوری دنیا میں دربدر پھر رہے تھے اور آج وہی دنیا ان کے اشاروں پر چل رہی ہے۔
افریقہ سے جہازوں میں بھر کر اور زنجیروں سے باندھ کر مشقت کے لیے افریقہ سے کالے لوگوں کو جانوروں کی طرح لایا جاتا اور دیکھا جاتا تھا اور آج بارک اوباما اسی ملک کی سب سے اونچی کرسی کا منصب دار رہنے کے بعد آزادی اور حقوق انسانی کا نمایندہ ترین علمبردار ہے۔ کل شام اور اس کے ارد گرد کے کئی ملک فلسطینیوں پر گرائے جانے والے بموں کو گرتے ان کے بچوں کی چیخوں کو سنتے اور مرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ اور ان کے شاعروں کے نوحوں اور نعروں کو سن رہے تھے اور آج وہ خود اس منظر کا حصہ ہیں اور باقی کی دنیا یہ سب کچھ دیکھ اور ہم لوگ اکرام بسرا‘ رحمن فارس اور ان جیسے کئی نوجوان شاعروں کی پردرد نظمیں پڑھ اور شیئر کر رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ اگلے سین میں کیا ہونے والا ہے اور ہم میں سے کون کہاں ہو گا اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ہم اس حقیقت کو سمجھ نہیں لیتے کہ جو بات ہم دوسروں سے پوچھ رہے ہیں۔
اس کے جواب دہ بھی ہم خود ہی ہیں کہ یہ ’’دوسرے‘‘ بھی ہم خود ہی ہیں۔ لمحہ موجود ایک ایسے پل کی طرح ہے جس کے دونوں طرف صرف ہم ہی ہم ہیں کوئی دوسرا نہیں فرق صرف یہ ہے کہ دریا کے اس کنارے سے جو کنارا نظر آتا ہے وہ ہمیں دوسرا اور اس کے پار رہنے والے ’’دوسرے‘‘ دکھائی دیتے ہیں اور یہی التباس نظر اس طرف سے دیکھنے والوں کو ہوتا ہے اور یہ شاید اس وقت تک اسی طرح سے ہوتا رہے گا جب تک ہم ’’خود کلامی‘‘ کے زندانوں سے نکل کر ’’مکالمے‘‘ کی کھلی فضا میں داخل نہیں ہوتے۔
یہ نظم ’’بس یہی بات پوچھنی ہے مجھے‘‘ بھی اسی سے ملتی جلتی کیفیت کا ایک منظرنامہ ہے۔ آئیے اس استعارے کو تشبیہہ کی شکل میں دیکھنے کی کوشش کریں کہ وجہ شبہ کے اس پل کے درمیان کھڑے ہو کر دیکھنے سے شاید یہ راز کھل سکے کہ جس کو ہم دوسرا سمجھتے ہیں وہ بھی ہم خود ہی ہیں اور اس مکالمے کی میز کے دوسری طرف بھی ہم ہی بیٹھے ہیں
بس یہی بات پوچھنی ہے مجھے
بس یہی بات پوچھنی ہے مجھے
وقت کی برق پا روانی سے
بخت کی سرنگوں گرانی سے
مجھ کو سونپا گیا ہے جو کردار
اس کے ہونے کا یا نہ ہونے کا
کیا تعلق ہے اس کہانی سے!
بس یہی بات پوچھنی ہے مجھے!
کھڑکیاں بند ہیں مکانوں کی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
یہ اداسی ہے کن زمانوں کی!
کس تحیر نے ڈال رکھے ہیں
ان کے ہونٹوں پہ‘ ان کی آنکھوں میں
چپ کے اتنے بڑے بڑے تالے!
درودیوار پر لگے تالے
بولتے کیوں نہیں ہیں آپس میں!
بھیگتے جا رہے ہیں کیوں موسم
بے یقینی کی تیز بارش میں!
کیوں دریچے اداس رہتے ہیں
دوریاں کیوں ہیں خواب و خواہش میں؟
(بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker