امجد اسلام امجدکالملکھاری

’’افطاریاں‘‘۔۔امجد اسلام امجد

اتفاق سے گزشتہ سات آٹھ کالم رودادِ سفر ہی کے چکر میں نکل گئے، اس دوران میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت کچھ ہوا جس پر بہت سی باتیں ہوسکتی تھیں لیکن ذرا ہلکے پھلکے انداز میں اس صورتِ حال کو دیکھنے کی کوشش کیجیے تو پھر روحی کنجاہی کا وہی مصرعہ سامنے آجاتا ہے جواب کثرتِ استعمال کی وجہ سے بہت پرانا ہوچکا ہے مگر جس کی اندرونی تازگی آج بھی اُسی طرح برقرار ہے:
’’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘‘
یاد پڑتا ہے کہ کلامِ اقبال میں بھی اسی کیفیت کا حامل ایک مصرعہ پڑھا تھا لیکن شائد وہ فارسی میں ہونے کی وجہ سے مطلوبہ شہرت حاصل نہیں کرسکا، اب مجھے اس کے الفاظ ٹھیک سے یادنہیں لیکن کچھ اس طرح کی بات تھی کہ
’’چنیس شدیم چہ شدوگر چناں شدیم چہ شد‘‘
یعنی اگر ایسا ہوجاتا یا ویسا ہوجاتا بات تو ایک ہی تھی ہونا تو کچھ بھی نہیں تھا، اب اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ عمران خان اور اس کی حکومت پر ہونے والی تنقید، ڈالر کی بلند پروازی، مُودی کی کامیابی، اپوزیشن کی معنی خیز بیداری ، ایران امریکا کشیدگی، گوادر میں دہشت گردی، چینی لڑکوں کے شادی اسکینڈل، ورلڈ کپ میں پاکستان کے چانسز اور آئی ایم ایف سے مذاکرات سمیت درجنوں ایسے موضوعات ہیں جن پر اس دوران میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ا ور ابھی اور بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر ان کی طرف گئے تو رمضان اور اس سے متعلق افطاریوں کا ذکر بیچ میں ہی رہ جائے گا اور اس کی تلافی کے لیے اگلے رمضان کا انتظار کرنا پڑے گا، سو بہتر ہے کہ اس چکر میں پڑنے سے پہلے اس سے فارغ ہولیا جائے، اس چکر سے ایک بہت دلچسپ لطیفہ نما واقعہ یاد آرہا ہے، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسجد میں جماعت کھڑی ہوچکی تھی کہ دو نوجوان تقریبا! بھاگتے ہوئے آئے اور اس میں شامل ہوگئے جب امام صاحب سلام پھیر چکے تو ایک نے دوسرے کا ہاتھ دبا تے ہوئے فکریہ انداز میں کہا ’’بہت اچھا ہوا جو ہم وقت پر پہنچ گئے اگر وضو کے چکر میں پڑتے تو نماز گئی تھی‘‘
اب کچھ ایسا ہی قصہ روزوں اور نمازیوں کا بھی ہے کیونکہ ہر محفل میں آپ کو کچھ اس طرح کے لوگ ضرور ملتے ہیں جو زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اگر روزے کے چکرمیں پڑتے تو افطاری گئی تھی۔ روزہ داروں کی طرح روزے خور بھی اس مہینے کے وہ خاص کردار ہیں جو ہر زمانے میں پائے گئے ہیں البتہ روزے خوروں کے بہانے ضرور بدلتے رہتے ہیں۔ مولانا حالیؔ نے کہا تھا،
کہیں افطار کا حیلہ تو نہیں ہے حالیؔ
آپ اکثر رمضاں ہی میں سفر کرتے ہیں
افطاری کا اہتمام یوں تو اسلامی کلچر کا ہمیشہ سے ایک خوبصورت اور منفرد پہلو رہا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے اس کا بڑے پیمانے پر اور ادارہ جاتی یا سرکاری سطح پر انتظام ایک قدرے نئی چیز ہے، بہت سے مخیّر حضرات غریبوں اور مسافروں کے لیے مختلف مقامات پر اس کا بندوبست بھی کرتے ہیں لیکن ا س کا سب سے زیادہ رُوح پرور منظر مسجد نبویؐ میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں کھانے کی چیزوں کی افراط کے ساتھ ساتھ روزہ داروں کے لیے ایک طرح کی مقابلہ بازی بھی دیکھنے میں آتی ہے اور لوگ دوسروں کا روزہ کھلوا کر وہ خوشی محسوس کرتے ہیں جو ایک طرح سے ہمارے دین اور انسانیت کا بھی درس اول ہے، اسی طرح کا اہتمام اب وطنِ عزیزمیں بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ افطاری کے وقت نہ صرف یہ کہ ہوٹلوں میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی بلکہ اپنے گھروں میں بھی لوگ بہت ذوق و شوق سے اس کا اہتمام کرتے ہیں اور اس قدر دعوتیں ملتی ہیں کہ معذرتیں ، وعدوں سے زیادہ نمبر لے جاتی ہیں، اس بار اس کا آغاز میرے ہمسائے اور محترم بھائی میجر (ریٹائرڈ) رفیق حسرت صاحب کی افطاری سے ہوا جس کی ایک اضافی خوبصورتی ہماری ڈیفنس کی مرکزی مسجد کے خطیب مولانا سرفراز احمد اعوان کی گفتگو تھی، سو اُن کے انداز بیان اور میجر حسرت کی پرخلوص میزبانی نے اس شام کو یادگار بنادیا۔ برادرم ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت اور فائونٹین ہاؤس کے سالانہ افطار کا اہتمام اس بار بھی گورنر ہاؤس میں کیا تھا جہاں بہت احباب سے ملاقات رہی۔
ہمارے الخدمت اور غزالی ٹرسٹ کے دوست بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ برادرم ائیر کموڈور خالد چشتی کے گھر پر افطار اور ڈنر کے درمیان سیاسی حالاتِ حاضرہ پر بہت بھرپور گفتگو رہی کہ شرکائے گفتگو میں نہ صرف زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق لوگ تھے بلکہ سب کے سب اپنی اپنی فیلڈ کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے چنانچہ گفتگو کا معیار ایک ایسی سطح پر رہا جو آج کل بوجوہ بہت ہی کم برقرار رکھی جاتی ہے۔ ہمارے ’’اچھی گزر گئی‘‘ا ورحال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’ایسا تھا میرا شہر کراچی‘‘ کے مصنف سعید جاوید نے بھی حسبِ معمول اپنی افطار پارٹی میں ایسے عمدہ لوگوں کو جمع کیا جن سے تبادلہ خیال کے بعد ذہن میں کشادگی اور دل میں فرحت پیدا ہوتی ہے، اس رمضان کی برکت سے شاعری کے دستر خوان میں بھی کچھ پیش رفت ہوئی ہے، سو اُس سے حاصل کردہ ایک نعت کی مہک میں آپ کو بھی شامل کرتے ہیں۔
آپؐ نے دکھایا جو، راستہ ہے منزل کا
آپؐ نے بتایا جو، وہ پتا ہے منزل کا
آخری مسافت میں، شرفِ بازیابی ہو
پھر ہے لطف رستے کا، پھر مزا ہے منزل کا
آپؐ جس کے رہبر ہوں، اُس سفر کا کہنا کیا
پھر تو جو بھی منظر ہو، دل کشا ہے منزل کا
آپؐ ہی نے کھولا ہے، زندگی کے مقصد کو
اصل ہر مسافت کی، فیصلہ ہے منزل کا
اُنؐ کی پاک سیرت ہی، روشنی کی ضامن ہے
اُن کے ہر پڑاؤ کو، مرتبہ ہے منزل کا
مصطفیٰؐ کی آمد ہی، آخری اشارہ تھا
حشر تک کا جھگڑا طے، ہوگیا ہے منزل کا
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker