آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم : اچھا شوہر کیسے بنیں

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ اچھی بیوی کیسے بنا جائے۔ جن قارئین کو بہشتی زیور پڑھنے کا اتفاق ہوا ہو وہ خوب جانتے ہوں گے کہ مصنف کے خیال میں اچھی بیوی ایک ایسے مردے کا نام ہے جو گھر کے جملہ کام کاج سمیٹ کے اپنے تابوت میں جا کر سو جائے۔
بہشتی زیور کے مطابق ایک زندہ عورت، اچھی بیوی نہیں بن سکتی۔ مصنف پر یقیناً وکٹورین اقدار کا اثر رہا ہو گا کیونکہ نہ اسلام میں اور نہ ہی ہمارے علاقائی رسم و رواج میں کہیں بہشتی زیور والی مردہ عورت کا تصور ہی پایا جاتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کتاب پر فی الفور پابندی عائد کر دی جاتی لیکن ہوا برعکس، اشاعت کی صنعت کو چلانے کے لیے اس کتاب کو جہیز میں دینا ایک روایت بن گیا۔ اس روایت نے ایک جیتی جاگتی ہمہ جہت شخصیت کی مالک عورت کو ’بیوی‘ کے کردار اور پھر اس کردار کو ’اچھی‘ اور ’بری بیوی‘ تک محدود کر دیا۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ کسی نے مردوں کو یہ نہ بتایا کہ اچھے شوہر اور ہر دل عزیز داماد کیسے بنا جاتا ہے۔ اس اہم ترین ’نالج گیپ‘ کو بھانپتے ہوئے راقم یہ ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے کا عزم کرتا ہے۔
یوں تو یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ایک ضخیم کتاب جلد ہی لکھی جائے گی لیکن فی الحال چند اہم نکات ضرور گوش گزار کر دیے جائیں تاکہ دنیا میں صرف اچھی بیویاں ہی نہ رہ جائیں، کچھ اچھے شوہر بھی پائے جائیں۔
نکتہ نمبر 1: اچھا شوہر بننے کے لیے سب سے پہلے روزانہ خود کو آئینے میں دیکھیں اور پلٹ کے ایک نظر اپنی بیگم کو دیکھیں، خدا کا شکر ادا کریں۔
نکتہ نمبر 2: گھر میں بھی کبھی کبھار مسکرا لیا کریں۔ ٹاک شوز اور کرکٹ میچ دیکھنے کے علاوہ بھی زندگی میں کچھ راحتیں ہیں، انھیں بھی تلاش کریں، جیسے گھریلو باغبانی اور اتوار کے دن گھر کے کام میں ہاتھ بٹا دینا، گھر کے فیوز بلب، ٹوٹے شاور، ہلتے دروازے،اکھڑے پینٹ اور خراب یو پی ایس کی مرمت وغیرہ۔
نکتہ نمبر 3: یہ جو تین چار اجنبی افراد گھر میں نظر آتے ہیں، جن کا ناک نقشہ آپ سے بہت ملتا جلتا ہے، آپ ہی کی اولاد ہیں۔ انھیں وقت دیں۔
نکتہ نمبر 4: پانج بجے تک کام کر کے آپ ہی نہیں تھکتے، بیگم اگر باہر کام نہیں بھی کرتیں تب بھی ان کا دن پانج بجے ختم ہو جانا چاہیے۔ انھیں اپنی ملازمت پر مستعد رکھنے کی بجائے مل کر شام گزاریے۔
نکتہ نمبر 5: زندگی کے اہم دن یاد رکھنے اور اس روز پھول لانے یا کسی طرح اس دن کو اہم بنانے سے مونچھ نیچی نہیں ہوتی۔
نکتہ نمبر6: بیوی کے ماں باپ بھی آپ کے والدین کی جگہ ہیں۔ ان کی خدمت کرنا آپ کا بھی اخلاقی فرض ہے۔
نکتہ نمبر 7: جس طرح آپ کے دوست آپ کے گھر دعوت پر آتے ہیں تو آپ فقط سج سنور کے ان کے سامنے جاتے ہیں۔ کھانا پکانے، برتانے کی سب ذمہ داری بیگم کی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کبھی ان کے مہمان آ جائیں تو یہ کام آپ بھی کر سکتے ہیں، شان بالکل نہیں گھٹے گی۔
نکتہ نمبر 8: ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنی توند کنٹرول میں رکھیں، وسائل کے اندر خوش لباس رہیں۔ بیگم کے دادا سسر نظر آنے میں کوئی اتراہٹ نہیں۔ بیگم بھی انسان ہیں انھیں بھی عمر بھر ساتھ چلنے والے کو بہتر حلیے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے۔
نکتہ نمبر 9: بیوی پر بنے لطیفے سنانے، دوسری شادی کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کرنے، اپنی بیگم کو ہر شادی میں دیر سے پہنچنے کی وجہ بتانے اور ان کے شاپنگ کی شوقین ہونے کا ڈھنڈورا پیٹنے سے احتراز کیجیے۔
نکتہ نمبر 10: میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ بیگم کے امراض کا کھلم کھلا ذکر اپنے دوستوں کے سامنے نہ کیا کیجیے سخت بد تہذیبی ہوتی ہے۔
نکتہ نمبر 11: بیوی کے زیور، اس کی جائیداد اور اس کے مال پر نظر نہ رکھیں، خاص کر امیر سسر کے جلد مرنے اور سالے کے خبط الحواس ہونے کے خواب دیکھنے سے زیادہ اپنے آپ کمانے پر زور دیں۔
نکتہ نمبر 12: بیگم کے خطوط کو کھولنے، ان کے فون اور ذاتی کاغذات میں گھسنے سے باز رہیے۔ آپ کی طرح انھیں بھی پرائیویسی کا حق حاصل ہے۔
نکتہ نمبر 13: اگر بیوی آپ کی ہر بدکلامی، کمی ،کجی ٹال کے کسی طرح نبھا رہی ہے تو اس کی قدر کریں ورنہ اچھی بیوی کے فرمے میں فٹ کرتے کرتے کہیں بیوی سے ہاتھ ہی نہ دھو بیٹھیں۔
نکات بے شمار ہیں لیکن سہج پکے سو میٹھا۔ فی الحال یہ ہی سبق یاد کیجیے۔
یوں ہی خیال آیا، اچھی بیوی بننا سکھانے والے خود کتنے اچھے شوہر ہیں؟ یہ بات بتانے کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے اور اس راز سے پردہ اٹھنے کے بعد بھی کیا وہ اچھی بیوی بننے کے گر ہی بتائیں گے یا اچھے انسان بننے کی کوشش بھی کریں گے؟
بارہا عرض کیا، آج بھی دہرا رہی ہوں، انسانوں کو مرد عورت، اچھے برے، شوہر بیوی، کے خانے میں رکھنے کی بجائے انسان سمجھیے اور یہ سوچیے کہ اچھا اور ہر دل عزیز انسان کیسے بنا جا سکتا ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker