آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم : ادبی میلے اور ٹھیلے

پچھلے چند برس سے دنیا بھر میں عموماً اور ہمارے ملک میں خصوصاً ادبی میلوں اور ان میلوں میں لگے ٹھیلوں کا رواج روز افزوں ہے۔
چند برس پہلے یہ میلے بپا ہونے شروع ہوئے تو ہمارے کان کھڑے ہوئے۔ نو آموزوں کے کان یوں بھی بات بے بات کھڑے ہو جاتے ہیں کھڑکنے جو ٹھہرے۔ خیر، جے پور لٹریچر فیسٹیول وہ پہلا ادبی میلہ تھا جس کی ہمیں کچھ سن گن ملی۔
میلہ اور وہ بھی ادبی میلہ، جاٹ دماغ کے لیے ان دو تصورات کو جوڑنا خاصا مشکل تھا۔ گو ادب کا تو ہمیں کچھ نہ کچھ معلوم ہی تھا اور میلے سے بھی اپنے تئیں ہم واقف ہی سمجھتے تھے۔
بابا فرید کے عرس پر ہمارے شہر میں بڑا بھاری میلہ لگا کرتا تھا۔ اس میلے پر سرکس بھی آتا تھا جس میں ہاتھی گھوڑے اور بارہ ببر شیروں کے کمالات دکھائے جاتے تھے، ایک شوکیس میں عجوبہ دھڑ لومڑی کا اور سر عورت، موت کا کنواں اور اس میں دوڑتی موٹر سائیکل اور پھٹے پر ناچتے خواجہ سرا۔ ہنڈولے، چینی مٹی کے برتن، حیدر آباد کی چوڑیاں، قتلمے، قیمے والے نان اور ڈاجنگ کارز۔
اس میلے میں ڈانگیں اور چھرے بیچنے والے بھی آتے تھے اور میں ہر میلے پر ڈانگ خریدنے کے لیے مچل جاتی تھی۔ ڈانگ کا یہ ہے کہ ڈانگ اٹھانے والے کا قد ناپ کے خریدی جاتی ہے۔
جس عمر تک مجھے میلے میں گھومنے کی آزادی تھی اس عمر کے بچوں کے لئے ڈانگ نہ بنائی گئی تھی اور جب میں نے ذرا سر نکالا تو میلہ دیگر آزادیوں کے ساتھ شجر ممنوعہ بن گیا۔
میلے کے اس الف لیلوی تصور کے ساتھ جب ادبی میلے کا تصور کیا تو ایک بار تو دماغ چکرا گیا۔ کہاں پھٹے پر رقص کرتے خواجہ سرا، موت کے کنوئیں میں دوڑتی موٹر سائیکل اور سر انسان کا، دھڑ لومڑ کا لیے عورت اور کہاں ادب اور ادیب؟
ہم نے تو انتظار حسین جیسے نستعلیق ادیب ہی دیکھے تھے۔ ادب میں زیادہ سے زیادہ مشاعرے میں ہی کچھ دل بستگی کے مواقعے نظر آتے تھے۔
مگر بات یہ تھی کہ ادب کے نام پر ہمیں جس اندھیری گلی میں بلایا جاتا ہم کل بھی جانے کو تیار تھے، بخدا آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔
کئی ادبی میلوں میں ہم نے بھی شرکت کی، کبھی سٹیج پر بیٹھے کبھی سامعین میں بیٹھے۔ کبھی سر آنکھوں میں بٹھائے گئے، کبھی کسی سیشن میں جگہ نہ ہو نے کے باعث مجلس کی جوتیوں میں بھی بٹھائے گئے۔
کبھی شرکا میں وہ لوگ تھے، جنھیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، کبھی وہ لوگ بھی نظر آئے کہ کلیجے پر انگارے سے برسے۔ کبھی کسی ایسے کے ساتھ بیٹھنا پڑا کہ فشار خون، کہیں کا کہیں پہنچا اور کبھی کسی ایسے سے ملاقات ہوئی (ادھوری ہی سہی) کہ آج بھی قیمتی یادوں کی پٹاری میں سینت کے رکھی ہوئی ہے۔
کسی ادبی میلے میں کوئی ایسا قاری آ ٹکرایا کہ جس نے حرف حرف پڑھ کے حفظ کر رکھا تھا اور کسی جگہ فقط سیلفیوں کے شائقین نے گھیرا۔
کسی میلے کو ملک گیر احتجاج نے سبو تاژ کر کے رکھ دیا اور کسی میلے میں سردیوں کی شیر گرم دھوپ میں گیندے کی لڑیوں کے سائے میں اونگھتے، چونکتے ایسے ایسے سنگیت سنے اور رقص دیکھے کے روح تک شاد ہو گئی۔
قصہ مختصر، کسی بھی میلہ گھومنی کی طرح میں ہر اس ادبی میلے میں، جس تک پہنچنے کی میری بساط ہوتی ہے، مانگ کاڑھ کے، شال لپیٹ کر پہنچ جاتی ہوں۔ لٹریری فیسٹول کا یہ فیشن اب بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ گیا ہے کہ کچھ عرصے میں ‘چک ترڈی والا لٹریچر فیسٹول’ عرف سی ٹی وی ایل ایف، بھی منعقد ہونے لگے گا۔
حاشا و کلا ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ ایک گونہ خوشی ہے۔ معترضین کو غصہ اس بات کا ہے کہ ان میلوں میں مقامی ادیبوں شاعروں کو نظر انداز کر کے سودیشی اور ’برگر کلاس‘ کے لوگوں کو بلایا جاتا ہے۔
ہمیں ان کے اعتراض پر بھی اعتراض نہیں۔ مگر درج بالا سطور میں اصلی تے وڈے میلوں کی جھلک پڑھ کر یقینا یہ شکوہ کسی حد تک مٹ جائے گا۔
میلے تو منعقد ہی عجائب و غرائب کو مجھ جیسے غریب غربا کی دسترس میں لانے کے لیے ہیں۔ کبھی میلوں پر مقامی میراثیوں اور نانبائیوں کے گرد خلقت دیکھی؟ نہیں نا؟ ہجوم تو موت کے کنوئیں پر ہی ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں معترضین کی ہر بات سے اتفاق سہی لیکن اس گھٹن میں جو بھی ہوا چلتی ہے ہمیں جینے کی نوید دیتی ہے، صبا ہو یا صر صر۔ ہم اس ہوا کے لئے کھڑکیاں وا کر دیتے ہیں۔
تو صاحبو! اس تمہید سے آپ جان ہی گئے ہوں گے کہ راقم، پھر سے بال کاڑھ کر، شال سنبھال کر کسی میلے کی طرف رواں دواں ہے۔ کسی بہانے ہی سہی اس ملک میں کتاب کی بات تو ہو رہی ہے، ادیب کو جانا تو جا رہا ہے۔ اس کی بات سنی تو جا رہی ہے۔
قدغنوں، پابندیوں اور کتاب دشمنی کے اس دور میں یہ ایک ’نکی جئی ہاں‘ ہے، اس ہاں میں اپنی ہاں ملاتے جائیے یہاں تک کہ ہماری ’ہاں‘ زمین سے آسمان تک محیط ہو جائے اور اس کے بلند آہنگ میں ان کی ناں سنائی نہ دے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker