آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: اجے قیامت نئیں آئی!

لیجیے صاحب! جو سارا ہنگامہ تھا، جس کے لیے ہزاروں سال سے لوگ پیش گوئی کر رہے تھے اور وعید دینے والے کہتے تھے کہ جب وہ گھڑی آئے گی تو سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا ۔ وہ گھڑی آ گئی۔
ہمیں واٹس اپ پہ قریباً تین سو سے زائد پیغامات موصول ہوئے کہ اتوار یعنی اکیس جون دو ہزار بیس کو صبح گیارہ بج کے پنتالیس منٹ پہ دنیا ختم ہو جائے گی۔
چونکہ میں جمہوریت پہ یقین رکھتی ہوں اور دنیا کے ختم نہ ہونے کے بارے میں ایک بھی پیغام نہ آیا تو میں نے یقین کر لیا کہ ایسا ہی ہو گا اور اگر ہو بھی گیا تو کیا ہو گا؟ زیادہ سے زیادہ مر ہی جائیں گے؟ یوں بھی یہ جینا بھی کوئی جینا ہے ببوا؟
دہلانے والے یقین سے کہہ رہے ہیں کہ مائین تقویم کے مطابق 2012 اصل میں جارجئین 2020 ہے اور بس بڑھیا ری بڑھیا اپنا باسن سمیٹ لے، پرانی دلی کا دروازہ گرتا ہے، اڑا اڑا دھم!
خیر دنیا کے ختم ہونے کا یہ الٹی میٹم اس قدر تاخیر سے ملا کہ تانب طنبورہ سمیٹنے کو چند گھنٹے ہی ملے۔ بہت سوچا کہ ان گھنٹوں میں کیا کیا جائے؟ کیا کیا خواہش رہ گئی ہے کہ مکمل کر لی جائے؟
پہلے تو دوڑی کہ اپنا غیر تکمیل شدہ ناول مکمل کروں، پھر سوچا کہ نہ تو یہ کل تک مکمل ہو گا اور اگر مکمل ہو بھی گیا تو گو میدان حشر میں ناشر کا گریبان پکڑنے کی خواہش ہر ادیب کی ہوتی ہے لیکن میں غیر مطبوعہ ناول لے کر وہاں کہاں اپنے ناشر کو ڈھونڈوں گی؟
دوسراخیال یہ آیا کہ ابھی تو کئی ملکوں کی سیر نہیں کی۔ کتنے لوگوں سے ملاقات کی خواہش تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی۔ انگوروں کا ایک باغ لگانا تھا جس میں صاف پانی کے چشمے بہہ رہے ہوں، نتھیا گلی کی ڈیزی سے پٹی ڈھلوانوں پہ ایک کاٹیج تعمیر کرنا تھا جہاں ریٹائرڈ زندگی گزاروں، اپنی ذاتی کشتی پہ دنیا کا گرد چکر لگانا تھا۔
بکروالوں کے ساتھ دیوسائی سے لے کر چولستان تک پیدل سفر کرنا تھا۔ کتنی ہی فلمیں دیکھنے والی ہیں اور کس قدر کتابیں ابھی نہیں پڑھیں۔
ٹیوب روز اور نرگس کی گانٹھیں نکال کر رکھی تھیں، ابھی ان کو بونا تھا، ہار سنگھار کا نیا پودا لگایا تھا، جس پہ ابھی پھول نہیں آئے تھے اور کیکٹس کے پودے پہ اس چاند کی چودھویں پھول کھلنا تھا، اتنے سارے کام ادھورے رہ جائیں گے۔
صحن میں سوکھتی امچور کی پھانکیں، کچری اور انجیر کے ہار، ان کا کیا ہو گا؟ قیامت کی ہما ہمی میں ان کو کون سنگھواتا پھرے گا؟ اچار کے مرتبان تو سنبھال لیے کہ اگر کبھی دوبارہ دنیا بسی اور کسی نے کھدائی کی تو کم سے کم ہماری بود و باش کا کچھ نشان تو ملے گا۔
مرغی انڈوں پہ بیٹھی ہے اور ابھی فقط انیس دن گزرے ہیں۔ تین روز اور مل جاتے تو ان انڈوں سے چوزے ہی نکل آتے۔ گائے کے ہاں ولادت متوقع ہے۔ آنے والی کا نام نصیبن سوچ رکھا ہے اور اس کے کان کا ٹیگ پہلے سے لکھ کر رکھ لیا ہے۔
قیامت آگئی تو نصیبن کا کیا ہو گا اور اس کی کن چھیدن کی تقریب بھی نہ ہو پائے گی۔
ان سب فکروں سے بچنے کو سوچا کہ آخری چکر اس ٹبے کا بھی لگا لوں جو وبا کا اعلان ہونے کے پہلے دن دریافت کیا تھا۔ ٹبے پہ پہنچی تو سورج ڈوبنے والا تھا۔ دھان کے کھیتوں پہ سونے کے ورق کے ورق بکھرے تھے اور پانی کے نالوں میں جیسے پگھلا ہوا سونا بہہ رہا تھا۔
جٹا دھاری برگد اور املی کا چھتنار درخت، بڑے سکون سے ایستادہ تھے۔ ان کے پاس نہ سمارٹ فون تھا، نہ واٹس اپ کرنے والے مہربان۔ نہ انہیں کہیں جانے کی جلدی تھی نہ لوٹ آنے کی عجلت۔ نہ بقا کی ہوس تھی اور نہ فنا کا ڈر۔ ڈوبتے سورج کی تمازت میں آنکھیں موندے وہ سکون سے کھڑے تھے۔
اب ایسا ہے کہ دن چڑھ چکا ہے۔ چائے کی دوسری پیالی پی کے واٹس اپ والے خیر خواہوں کی پیش گوئی کا انتظار کر رہی ہوں اور اگر آج بھی یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو اس کی وجہ یہ ہی ہو گی کہ ابھی کچھ لوگوں کے بہت سے خواب ادھورے ہیں،کئی ارادے بغچیوں میں بند ہیں اور کئی ولولے دل میں تڑپ رہے ہیں۔
خواب دیکھتے رہیں، چاہے قیامت آنے میں چند گھٹنے ہی کیوں نہ با قی ہوں، اپنے خوابوں سے کبھی دستبردار مت ہو ئیے گا۔ یہ ہمارے خواب ہی ہیں جو قیامتوں کو ٹال دیتے ہیں۔ اگر ایک آنکھ میں بھی خواب باقی ہیں تو یقین کیجئے ،’اجے قیامت نئیں آنی!‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker