گزشتہ روز آرمی ایکٹ کے فیصلے کے بعد ملکی سیاست میں ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے۔ فضا میں پھیلی بے یقینی، سیاسی حدت، اور طاقت کی مختلف سطحوں پر ہونے والی خفیہ و علانیہ چالیں اس امر کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ آنے والے دن پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کے امکانات پر بحث و تمحیص اپنی جگہ لیکن اصل بھونچال اس وقت پیدا ہوا جب مختلف حکومتی حلقوں اور تجزیہ کاروں نے اس امکان کا ذکر کیا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی فیصلے کے بعد عمران خان کے خلاف کارروائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، اور اگر فیض حمید جیسے سابق طاقتور عہدیدار کی گواہی سامنے آ گئی تو صورتحال ان کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔کیاجنرل فیض حمید کو ہونے والی سزا کے بعد عمران خان کو سزائے موت ہو گی؟
اس تمام منظرنامے میں سیاسی فضا میں وہ جملہ گردش کرنے لگا ہے کہ تحریکِ انصاف کو شاید اپنے نئے لیڈر، شاہ محمود قریشی کی شکل میں، مستقبل کی قیادت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ یہ جملہ خواہ کسی کی خواہش ہو یا کسی حلقے کی پیش گوئی، مگر زمینی حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عمران خان کے گرد قانونی شکنجہ جس طرح سخت ہو رہا ہے، اس کے سیاسی اثرات سے انکار ممکن نہیں۔
موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ گزشتہ برسوں میں جو سیاسی اور عسکری کھینچا تانی جاری رہی، وہ محض بیانات اور جلسوں کی حد تک محدود نہ تھی بلکہ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان عدم اعتماد ایک ایسے مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں معاملات معمول کی سطح پر واپس لانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری، ان پر لگائے جانے والے مقدمات، اور پھر ان کے ساتھیوں کے ٹوٹ کر دوسری جماعتوں یا ملکی سیاسی دھاروں میں شامل ہونے کا سلسلہ اس بات کا اشارہ تھا کہ کھیل اب ان کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہا۔
تاہم آرمی ایکٹ کے حالیہ فیصلے نے اس صورتحال کو ایک بالکل نئے رخ پر موڑ دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ایکٹ کے تحت دیے گئے اختیارات کے مطابق شواہد مضبوط ہوں تو غداری کا مقدمہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ وہ تمام کمزوریاں جو پہلے رکاوٹ بن رہی تھیں، اب راستے سے ہٹ سکتی ہیں۔ اس میں سب سے اہم کردار اس ممکنہ گواہی کا ہے جس کا ذکر فیض حمید کے حوالے سے کیا جا رہا ہے۔ فیض حمید کا نام صرف ایک فرد کا نام نہیں؛ یہ ایک دور، ایک طاقت، اور ریاستی معاملات کی ان پرتوں کا عنوان ہے جن کے بارے میں عوامی سطح پر ہمیشہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ اگر وہ واقعی عدالت میں بیان دیتے ہیں تو عمران خان کے لیے دفاع کا راستہ انتہائی تنگ ہو سکتا ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تحریکِ انصاف اپنی قیادت کے بحران سے کیسے باہر نکلے گی۔ مگر پارٹی کے اندرونی حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کی گفتگو اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ شاہ محمود قریشی اب پارٹی کے لیے ایک ایسے چہرے کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جو قانونی طور پر بھی قابلِ قبول ہوں اور سیاسی طور پر بھی متبادل کے طور پر پیش کیے جا سکیں۔ تحریکِ انصاف کے کارکن اگرچہ اب بھی عمران خان کو اپنا واحد لیڈر تصور کرتے ہیں، مگر سیاسی جماعتیں جذبات پر نہیں بلکہ حقائق پر چلتی ہیں۔ اگر لیڈر نااہلی، مقدمات یا ممکنہ سزا کے باعث عملی سیاست سے باہر ہو جائے تو پارٹی کو نئے فیصلے کرنا ہی پڑتے ہیں۔
نو مئی کے کیسز ابھی تک اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچے۔ ان مقدمات میں شامل شواہد، ویڈیوز، اور عینی شہادتیں وہ مواد ہیں جن کی بنیاد پر ریاستی ادارے اپنی کارروائی آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان مقدمات کی نوعیت محض سیاسی نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا فیصلہ آنے والے وقت میں عمران خان کی سیاسی زندگی کا حتمی فیصلہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ مختلف حکومتی عہدیداروں کے بیانات اسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کیسز کے نتیجے میں ہونے والی قانونی پیش رفت اگلے سیاسی منظرنامے کا تعین کرے گی۔ اگر ان مقدمات میں سخت فیصلے آئے تو پھر عمران خان کی سیاست میں واپسی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔
پاکستانی سیاست میں منظر ایک لمحے میں تبدیل ہوتا ہے۔ مگر تجزیہ نگاروں کے مطابق جو واقعات پچھلے ڈیڑھ برس میں پیش آئے انہوں نے کسی بھی بڑی تبدیلی کے امکان کو کم نہیں کیا بلکہ مستقبل کے راستے کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت کے مراکز کبھی بھی ایک ہی شخص کے ہاتھ میں نہیں رہتے۔ اگرچہ عمران خان نے ایک وقت میں غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل کی تھی، مگر ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم میں کوئی بھی سیاسی رہنما زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ یہ اصول پاکستانی تاریخ میں پہلے بھی کئی بار ثابت ہو چکا ہے۔
تحریکِ انصاف کی موجودہ حکمتِ عملی بھی خود پارٹی کے لیے سوالات پیدا کر رہی ہے۔ اگر لیڈر بیرک نمبر تین میں بند ہو، قیادت تقسیم ہو، کارکن عدالتوں کے چکر لگا رہے ہوں اور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تلخی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہو، تو پھر سیاسی بقا کے لیے صرف نعروں سے کام نہیں چل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ پارٹی کو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ شاہ محمود قریشی، جو خود اس وقت کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، پھر بھی پارٹی کے اندر ایک قابلِ قبول چہرے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ایک حد تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سیاسی تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے ملکی سیاست اور عوامی ردعمل پر کیا اثرات ہوں گے؟ عوامی ردعمل یقینی طور پر دو حصوں میں بٹ سکتا ہے۔ ایک وہ طبقہ جو عمران خان کو سیاسی شہید کے طور پر دیکھے گا، اور دوسرا وہ طبقہ جو اسے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے گا۔ تاہم ریاستی طاقت کے سامنے عوامی ردعمل کی شدت وہ اثر پیدا نہیں کر سکتی جس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ تبدیل ہو سکے۔ نو مئی کے واقعات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ریاست اپنی ساکھ کے مسئلے پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر جس تصویر کو جنم دیتے ہیں وہ یہی ہے کہ عمران خان کا سیاسی سفر اب اپنے سب سے مشکل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قیادت تخت سے تختے تک کا سفر طے کرتی ہے۔ تاریخ ایسے بے شمار واقعات کی گواہ ہے۔ عوامی مقبولیت ایک حقیقت ہو سکتی ہے مگر ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کا نتیجہ ہمیشہ طاقت کے توازن کے مطابق نکلتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے چند ماہ پاکستان کی سیاست کا رخ متعین کر دیں گے۔ تحریکِ انصاف کیا فیصلہ کرتی ہے، عمران خان کے خلاف مقدمات کہاں تک جاتے ہیں، اور فیض حمید کی ممکنہ گواہی کیا رخ اختیار کرتی ہے—یہ سب وہ سوالات ہیں جن کے جواب تاریخ کا حصہ بننے والے ہیں۔ مگر موجودہ منظرنامہ یہی بتا رہا ہے کہ سیاسی تخت پر بیٹھنے والا کبھی کبھار لمحوں میں تختے پر بھی پہنچ جاتا ہے، اور یہی پاکستانی سیاست کی اصل داستان ہے۔
فیس بک کمینٹ

