پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوسرے پر ڈرون حملے کرنے اور ان کی تردید کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت کو حملوں کا اتنا ہی شوق ہے تو بے فکر رہیں پاکستان اپنے وقت اور اپنی مرضی کے مطابق جواب دے گا۔ ادھر برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ نے اطلاع دی ہے کہ بھارت نے سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس جنگی بحری بیڑا پاکستان کی جانب روانہ کیا ہے۔
اس طرح جوہری ہتھیاروں سے لیس برصغیر کے دو ملک جنگ کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ابھی تک امریکہ اور دوست ممالک کی طرف سے جنگ رکوانے اور دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس نے 7 مئی کو پاکستان میں متعدد مقامات پرمیزائل حملے کرکے پہلگام سانحہ میں ہلاک ہونے والے لوگوں کا انتقام لیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت نے کسی اشتعال کے بغیر پاکستانی سرزمین پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر تمام عالمی ضابطوں اور اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان اس جارحیت کا ضرور جواب دے گا۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت پہلگام حملہ میں پاکستان پر جھوٹا الزام عائد کررہا ہے اور اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں سوال کیا کہ کیا یہ اصول مانا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کا نام لے کر کسی خود مختار ملک پر بلا اشتعال حملہ کردیاجائے؟
یہی سوال پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے کسی جواز کے بغیر پاکستان پر میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔ درجنوں شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس جارحیت کو مان لینے کا مقصد ہوگا کہ بھارت مستقبل میں اسے معمول بنا لے گا اور پاکستان کی خو د مختاری کو چیلنج کرتا رہے گا۔ پاکستان ایئر فورس کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) وائس ایڈمرل راجا رب نواز کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر ل نے کہا کہ پاکستان نے اب تک خود پر ہونے والے حملوں کا دفاع کیا ہے۔ 7 مئی کو پاکستان پر میزائل حملے کرنے والے بھارتی فائٹر جیٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح پاکستان کی طرف بھیجے گئے ڈرون ضائع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزارت خارجہ اور فوجی ترجمانوں کے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ پاکستان نے بھارتی پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں مختلف تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جنہیں بھارت نے ناکام بنادیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان جواب دے گا تو اس کی خبر بھارتی میڈیا سے نہیں ملے گی بلکہ پوری دنیا میں اس کی گونج سنائی دے گی۔
اسلام آبا دمیں منعقد ہونے والی طویل پریس کانفرنس میں مسلح افواج کے ترجمانوں نے پہلگام سانحہ کو بھارت کی جعل سازی قرار دیا اور دعویٰ کیاکہ بھارت پاکستان میں ہمہ قسم دہشت گردی میں ملوث ہے اور اس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ فوج کے ترجمان کا دعویٰ تھا کہ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ سے توجہ ہٹانے کے لیے پہلے پہلگام کا ڈرامہ رچایا اور پھر اس کا الزام پاکستان پر لگا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ حالانکہ بھارت خود پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کو امداد فراہم کرتا ہے اور ان کا سرپرست ہے۔ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج جان پر کھیل کر دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہے۔ درحقیقت پاکستان دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ لیکن ا س دہشت گردی کی سرپرستی بھارت کی طرف سے ہورہی ہے۔
ان سنگین الزامات کے بعد پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی میڈیا پر نشر کی گئی خبروں کاجائزہ پیش کیا اور بتایا کہ کیسے گمراہ کن ، بے بنیاد اور اشتعال انگیز خبرین نشر کرکے ماحول خراب کیا جارہا ہے۔ تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیاہے کہ پاکستان 7 مئی کے حملوں کا جواب ضرور دے گا کیوں کہ بھارت کو بے بنیاد الزام تراشی اور پاکستان پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان واضح کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کی حفاظت کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ، بھارت پر حملہ کرنے کے لیے وقت اور جگہ کا تعین خود کرے گا۔ اس دوران یہ قیاس آرائیاں بھی سننے میں آرہی ہیں کہ یہ حملہ اگلے چند روز میں ہی ممکن ہے۔ ایک تو پاکستان زیادہ دیر تک اس تنازعہ کو جاری رکھنا نہیں چاہتا ۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورے پر آنے والے ہیں۔ خیال ہے کہ پاکستان اس سے پہلے بھارت کو جواب دینے کی کوشش کرے گا۔
امریکہ کے علاوہ سعودی عرب و ایران دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور تصادم کو مزید بڑھنے سے روکنے میں متحرک رہے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نئی دہلی کا دورہ کرنے کے بعد اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے انہیں بتایا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنےکے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اسے اپنے دفاع کے لیے اقدامات کا پورا حق حاصل ہے۔ دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی پاکستان اور بھارت میں کوئی مفاہمت کرانے میں سرگرم ہیں اور اسی سلسلہ میں گزشتہ روز نئی دہلی پہنچے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی دونوں ملکوں کی حکومتوں سے فون پر بات کی ہے اور تناؤ کم کرنے پر زور دیا ہے لیکن ابھی تک کوئی کوشش بارآور ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
کراچی کی بندرگاہ کی طرف بھارتی طیارہ بردار بیڑے کی پیش قدمی موجودہ اشتعال میں ایک غیر معمولی اضافہ کا اشاہ ہے۔ اس نقل و حرکت سے بھارت یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اگر پاکستان 7 مئی کی رات ہونے والے واقعات کو قبول کرکے آگے بڑھنے پر آمادہ نہیں ہوتا تو بھارت ہر محاذ پر کارروائی کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھارت کی طرف سے اپنی فضائیہ کی ناکامی کا اشارہ بھی ہے ۔ اب وہ اپنی بحریہ کی قوت کم وسائل کی حامل پاک بحریہ پر آزمانا چاہتا ہے۔ پاکستان نے 7 مئی کو بھارتی میزائل حملوں میں ملوث بھارتی طیاروں کو نشانہ بنا یاتھا اور پانچ بھارتی فائٹر جیٹ مار گرائے تھے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس لڑائی میں پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا اور صرف ان طیاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جنہوں نے پاکستانی علاقوں پر میزائل فائر کیے تھے۔ اگر پاکستانی فضائیہ فضا میں موجود دیگر طیاروں کو نشانہ بناتی تو دس سے زائد بھارتی فائٹر تباہ کیے جاسکتے تھے۔
اسلام آباد میں آئی ایس پی آر کے سربراہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ایئر فورس کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمدنے بتایاکہ ہم نے صرف 2 منٹ میں ردعمل دیا تھا۔ بڑی تعداد میں بھارتی جنگی طیارے آئے اور ہمارے جنگی جہاز پوزیشن پر موجود تھے۔ تقریباً 60 طیارے تھے جن میں 14 رافیل شامل تھے۔ ہماری طرف سے 42 جدید جنگی طیاروں نے ردعمل دیا ۔ ہماری حکمت عملی تھی کہ اپنی اسٹرینتھ کے مطابق لڑیں۔ ہمارے پاس ایک پلان تھا، انہیں ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس رافیل ہے۔ہم نے اسی کو ٹارگٹ کیا۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک چلا، پھر بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے واپس چلے گئے۔
اس فضائی جھڑپ کو دنیا میں سب سے طویل فضائی لڑائی کہا جارہا ہے جس میں دونوں طرف سے درجنوں طیارے شریک تھے لیکن انہوں نے ایک دوسرے کی فضائی حدود میں جانے کی بجائے تقریباً ایک سو میل کے فاصلے سے ایک دوسرے کو نشانے پر لیا۔ اسی لیے پاکستان کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ اگر بھارت نےمیزائل حملہ کرکے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے تو پاکستان نے بھی حملہ کرنے والے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو نشانہ بنا کر مناسب جواب دے دیا ہے۔ ایک ہی جھڑپ میں رافیل جیسے جدید طیارے سمیت پانچ بھارتی فائٹرز کو نشانہ بنا کر پاکستان واضح کرچکا ہے کہ وہ بھارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اب اس تنازعہ کو سمیٹنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان آنے والے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کا یہی پیغام تھا۔ البتہ پاکستانی مسلح افواج کے ترجمانوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس خیال کو مسترد کیا کہ پاکستان نے حساب برابر کرلیا ہے اور اب جنگی کیفیت ختم کی جائے۔
حالات و واقعات سے لگتا ہے کہ نئی دہلی نے پاکستان کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے، وہ اسے ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ثالثی کرانے والے ملکوں سے کہہ رہا ہے کہ اگر پاکستان مزید حملہ نہ کرے تو وہ معاملہ ٹھنڈا کرنے پر راضی ہے۔ لیکن اس تجویز میں پاکستان کو کوئی ایسی پیش کش نہیں کی گئی جو اسے مزید جنگی کارروائی سے روک سکے۔ پاکستان شاید چاہے گا کہ بھارت پہلگام کے حوالے سے پاکستان کے خلاف لگائے گئے الزامات واپس لے اور 7 مئی کے وقوعہ پر معافی مانگے۔ اس کے علاوہ بھارت کشمیر کے مستقبل پر بات چیت پر آمادہ ہو۔ نریندر مودی کی حکومت ان میں سے کوئی شرط نہیں مان سکتی کیوں کہ اس کا سارا سیاسی بیانیہ پاکستان دشمنی پر استوار ہے۔ وہ پہلگام سانحہ پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ بھارتی حکومت کو لگتا ہے کہ اگرچہ 7 مئی کی رات اس کے کئی فائٹر ضائع ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں متعدد مقامات پر میزائل پھینک کر انڈیا کے عوام کو یہ باور کرادیا گیا ہے کہ مودی حکومت نے وعدے کے مطابق پہلگام میں ملوث لوگوں اور ماسٹر مائنڈ سے بدلہ لے لیا ہے۔ اس وقت پاکستانی فوج و حکومت بھارتی حکومت کو یہ کریڈٹ دینے پر آمادہ نہیں ہے۔
دریں حالات اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں پاکستان کی طرف سے بھارت پر حملوں کا اندیشہ موجود ہے۔ تاہم یہ کہنا کسی کے بس میں نہیں ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے کے بعد حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے ختم کرنا اتنا ہی دشوار۔ نرنیدر مودی نے سیاسی جوش میں پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے لیکن اب اسے ختم کرنا بظاہر ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

