امریکی فوج کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکلولس مادورو کی گرفتاری دنیا میں طاقت کے اصول کی بالادستی کو تقویت دے گی۔ اس اقدام سے یہ اصول مسلمہ سمجھا جائے گا کہ کوئی بھی طاقت ور ملک جب چاہے کسی دوسرے ملک میں داخل ہوکر من مانی کرسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے اقوام متحدہ کا رہا سہا وقار ختم ہوجائے گا اور جنوبی امریکہ میں عدم استحکام بڑھے گا۔
نکولس نادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی سیکورٹی فورسز نے ایک خفیہ آپریشن میں دارالحکومت کراکس سے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرکے گرفتار کیا۔ ابھی تک اس آپریشن کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں ۔ صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران جو تفصیلات بتائی ہیں ، ان کے مطابق وینزویلا میں فوج یا دوسری فورسز نے کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ وہ امریکی فوجیوں کی آمد کا انتظار کررہے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر کی بجلی بند کرکے رات کے اندھیرے میں کارروائی کی گئی اور صدر مادورو کو گرفتار کرکے ان کی اہلیہ سمیت ملک سے نکال لیا گیا۔ بعد میں امریکی صدر نے وینزویلا کے صدر مادورو کی ایک تصویر جاری کی جس میں انہیں ہتھکڑی میں دکھایا گیا ہے ۔ امریکی حکومت نے صدر مادورو کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے الزام میں نیویارک میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔
کسی دوسرے ملک پر حملہ کرکے اس کے صدر کو گرفتار کرکے ملک سے اغوا کرنا اپنی جگہ تمام مسلمہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن امریکی صدر نے اس فوجی آپریشن کے بعد پریس کانفرنس میں وینزویلا کی حکومت چلانے کا اعلان کرکے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ یہ اقدام کسی ایک شخص سے دشمنی یا اس کی امریکہ مخالف پالیسیوں کا رد عمل نہیں تھا بلکہ امریکہ وینزویلا کے حوالے سے وسیع تر عزائم رکھتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا کے تیل کی پیداوار کا انتظام کریں گی تاکہ وہاں کے عوام کے لیے پیسہ کمایا جائے۔ البتہ امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ کسی خود مختار ملک کے وسائل کا انتظام کیسے کیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والے وسائل کیسے استعمال ہوں۔ تاہم اگر طاقت کے زور پر امریکہ کی طرح کسی ملک پر قبضہ کرنے کا اقدام کیا جائے گا تو اسے قانون کی بجائے زور ذبردستی اور بدمعاشی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
وینزویلا میں حکومت چلانے کا اعلان کرنے کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ امریکہ کیوبا میں بھی ایسی ہی کارروائی کرسکتا ہے۔ جب ٹرمپ یہ بات کررہے تھے تو ان کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لقمہ دیا کہ’ اگر میں کیوبا کی حکومت میں ہوتا تو اس وقت ضرور پریشان ہوتا‘۔ امریکی حکام کے یہ اشارے واضح کرتے ہیں کہ وہ طاقت کے سوا کسی دوسری زبان میں بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ البتہ اس وقت ایک ملک کے صدر کی گرفتاری اور کامیابی کے دعوؤں کے ہجوم میں ٹرمپ یا ان کی حکومت کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ماضی میں امریکہ کبھی ایسی کوششوں میں کامیاب نہیں ہؤا ۔ البتہ امریکہ کے فوجی اقدامات نے متعد ممالک میں انتشار، مستقل بدامنی اور معاشی تباہی کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کی دو تازہ ترین مثالیں عراق اور لیبیا میں امریکی جارحیت ہے جس کے نتیجے میں تیل کی دولت سے مالامال یہ دونوں ملک سیاسی ہیجان اور معاشی احتیاج کا شکار ہوچکے ہیں۔ جہاں تک کسی ملک ہر حملہ کرکے وہاں قبضہ قائم رکھنے کا منصوبہ ہے، اس کی بدترین مثال افغانستان ہے۔ اپنے تمام اتحادیوں کی غیر مشروط اعانت و حمایت کے باوجود امریکہ کو اگست 2021 میں شکست خوردہ فوج کی طرح کابل سے بھاگنا پڑا تھا۔ اس انخلا کے نتیجے میں امریکہ اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی افغانستان میں چھوڑنے پر مجبور ہؤا جو اب طالبان کی سخت گیر حکومت کے علاوہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگا ہے ۔ اس اسلحہ کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھی استعمال کیا جارہاہے۔
اسی تناظر میں سیاسیات کے متعدد ماہرین یہ واضح کررہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود وینزویلا پر امریکی حکومت یا اختیار قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ امریکی مداخلت کے نتیجہ میں وہاں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے جو طویل اور خطرناک ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کی حکومت چلائے گا جب تک کہ وہاں’ محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہیں ہو جاتا۔ ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ یہ کام کس طرح کرے گا تو انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر مادورو کو گرفتار کرنے اور جنوبی امریکہ میں امریکی طاقت کی دھاک بٹھانے کے علاوہ صدر ٹرمپ کاوینزویلا کے حوالے سے کیا منصوبہ ہے۔ فوری طور سے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کل رات ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد مزید فوجی کارروائی ضروری نہیں ہوگی۔ البتہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ دوسرے مرحلے میں زیادہ سخت اور وسیع فوجی کارروائی کرے گا۔ لیکن اس بات سے بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ امریکہ وینزویلا میں مسلسل قابض رہنے اور حکومت چلانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں سامنے آنے والے اشاروں سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ وینزویلا ہی میں موجود حکومتی عہدیداروں کے ذریعے ایسا حکومتی انتظام نافذ کرنا چاہتے ہیں جو امریکی خواہشات کے تابع ہو اور امریکہ کو وہاں زمینی فوج بھی نہ بھیجنا پڑے۔ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ حال ہی میں وینزویلا میں جمہوریت کی جد و جہد کے لیے نوبل انعام جیتنے والی ماریا کورینا ماچادو کو نہ تو عوام کی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی اسے وہ احترام میسر ہے جو وینزویلا کاانتظام چلانے کے لیے ضروری ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے ماچادو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ واضح کرچکی تھیں کہ وہ حکومتی انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ البتہ ٹرمپ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
وینزویلا کے حکومتی انتظام اس حوالے سے یہ اشارہ بھی دیا گیا تھا کہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نئی حکومت کی سربراہ بننے پر تیار ہوگئی ہیں۔ البتہ روڈ ریگرز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نکولس مادورو ہی وینزویلا کے واحد صدر ہیں‘۔ حکومت وینزویلا کے دفاع کے لیے تیار ہے۔انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے اور اتحاد قائم رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔ وینزویلا کے حقیقی حالات ابھی تک اسرار کی گہری دھند میں ہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ چند گھنٹوں یا دنوں میں وہاں کیا صورت حال رونما ہوتی ہے ۔ امریکی فوجیوں کے حملے اور صدر کی گرفتاری کے دوران وینزویلا کی سکیورٹی فورسز کی خاموشی اور اس آپریشن کی کامیابی سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کےعسکری و حکومتی حلقوں میں وسیع اثر و رسوخ حاصل کیا ہؤا ہے اور اس کے ایجنٹ ملک کے ہر شعبہ میں سرگرم ہیں۔
وینزویلا کے ابتر حالات، بدانتظامی، حکومتی ناکامی، معاشی بدحالی یا انتخابی دھاندلی کے باوجود امریکہ کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ایک ہمسایہ ملک پر حملہ کرکے وہاں کے لیڈر کو پکڑ لے اور اسے قانون کی بالادستی یا انصاف کا نام لیا جائے۔ اگر کوئی امریکی عدالت صدر مادورو کی گرفتاری کو جائز سمجھ کر انہیں سزا دینے کا اقدام کرتی ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ امریکی عدالتیں بھی قومی مفادات کی محتاج ہیں اور قانون و انصاف کو تعصب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین، روس، جنوبی امریکہ کے متعدد ممالک اور دنیا کے دیگر ملکوں کی طرف سے اس حملہ کی مذمت کی جارہی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہا گیا ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی ایسی طاقت یا اتفاق رائے موجود نہیں ہے جو متفقہ عالمی قوانین کو نافذ کرانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
امریکہ کے حلیف یورپی ممالک اس جارحیت کی مذمت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ صرف اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ’ اسپین نے مادورو کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن اہم ایسی مداخلت کو بھی تسلیم نہیں کرتےجو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو‘۔ یا اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے کہا کہ بیرونی فوجی کارروائی آمریتوں کو ختم کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ’اپنی سلامتی پر حملے کے خلاف دفاع کرنا جائز ہے‘۔ یوں انہوں نے وینزویلا پر امریکی حملہ کا جوز فراہم کیا۔ ایسے میں نیویارک سٹی کے نومنتخب میئر زہران ممدانی نے دوٹوک الفاظ میں اس امریکی حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یک طرفہ طور پر کسی خودمختار ملک پر حملہ جنگی اقدام ہے اور وفاقی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے‘۔
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد دنیا ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوگی جہاں کوئی طاقت ور ملک اپنے مفادات کے لیے کسی بھی عالمی قانون کو ماننے یا کسی بھی ملک کے خلاف جنگ جوئی کو اپنا حق قرار دے گا۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اس طریقے پر عمل کرتا رہا ہے۔ یورپ یا امریکہ اب روس سے بھی یہ مطالبہ نہیں کرسکتے کہ یوکرین میں اس کی جنگ ناجائز یا کسی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ ان حالات میں یہ اندیشہ موجود رہے گا کہ امریکہ کا اگلا ہدف کون سا ملک ہوگا۔ کیا ایران پر حملہ کرکے وہاں کی قیادت کو ختم کیا جائے گا یا کابل میں طالبان لیڈر ٹرمپ کے نشانے پر ہوں گے۔
یہ اصول منوا لینے کے بعد امریکہ کو اس بات کا انتظار کرنا چاہئے کہ کوئی دوسرا طاقت ور ملک مثلاً چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تائیوان یا کسی دوسرے خطے پر قابض ہوجائے اور امریکہ مذمت سے آگے نہ بڑھ سکے۔ وینزویلا پر حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عدم مداخلت کے اصول کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔ دنیا اگر اس جارحانہ طرز عمل کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی تو تیسری جنگ کی باتیں محض قیاس آرائیاں نہیں رہیں گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

