شاکر بھائی خوش ہو ناں
تمہارا خط ملا اور تمہارے حالات کاعلم ہوا۔ جس روز تمہیں خط پوسٹ کیا اسی روز قمررضا آگیا ۔رات کو ہمارے ساتھ ٹھہرا۔اگلے روزاس کی واپسی تھی ۔سو میں اس کے ساتھ ہی ملتان چلاگیا۔کل صبح واپس آیا ہوں۔ اب میں ملتان سے رات بارہ بجے روانہ ہوتا ہوں اورصبح لاہور پہننچتا ہوں۔ اب کے تو جاتے ہوئے بھی یہی ہوا یعنی کراچی ایکسپریس اور عوام ایکسپریس سبھی نکل گئیں۔ آخری گاڑی تیز رو تھی جو لاہور سے رات دس بجے روانہ ہو کر صبح چار بجے خانیوال پہنچی ۔وہاں سے بس لے کر صبح چھ بجے گھر پہنچا۔ ملتان کی باتیں بعد میں کروں گا پہلے تمہارے خط کاذکر ۔ میری غزل تمہیں پسند آئی توگویاسب کوپسند آگئی۔ ممتاز اطہر،نسیم شاہداورنظامی کے ساتھ دوبارہ بول چال پر تمہیں خوشی ہوئی۔ یہ میرے لیے بھی خوشی کی بات ہے۔تازہ کالم تمہیں ارسال کررہا ہوں جو انور جمال صاحب کی تصویر کے ساتھ ہے۔ ملتان میں ممتاز اطہر سے سرسری اور نسیم شاہد سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ کوئی ایک گھنٹہ تک میں اور نسیم ہوتل بابا کوبرا بھلا کہتے رہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اقبال ساغر صدیقی کی ملازمت ختم ہوگئی تھی تاہم ثاقبہ رحیم الدین کی سفارش پر بحالی ہوگئی۔
تمہارے لیے مناسب سا کارڈ لے کر اس پر عید مبارک کی سکرین پرنٹنگ کرالوں گا۔ مسئلہ تمہیں بھیجنے کاہوگا شعبان کے آخر میں کوئی سعودیہ گیاتو اس کے ہاتھ بھیج دوں گا۔ کارڈوں کے ساتھ ایڈریس بھی بھیج دوں گا۔ میں نے اسلام تبسم کو کہا کہ تم مختصر خط لکھتے ہو تفصیل سے لکھاکرو۔ اس شریف آدمی نے پورے صفحے پر باربار یہی لکھا کہ ” سوچ رہا ہوں کیا لکھوں؟“۔ اس بار ہم نے بہت شغل کیا۔ رات گیارہ بجے اس کی بیٹھک پردستک دی ۔اس نے پوچھا کون ہے ،ہم نے لڑکیوں کی آواز نکال کرکہا ،اسلام دروازہ کھول دو، صاحب جی تو خوف زدہ ہوگئے ۔کہنے لگے بھاگ جاﺅ، میں نے کہا صرف 15روپے میں ، اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ تین چار منٹ تنگ کرکے اصلی آواز میں بولے تو اس کی جان میں جان آئی۔ ادھر سبطین لودھی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ”انتخاب“ دوبارہ چھاپنے کا کہہ رہا تھا۔ میں نے وقتی طورپر گول کردیا کیونکہ ساتھ جو صاحب بیٹھے تھے وہ کہہ رہے تھےانتخاب کے لیے میرے رسالے انشعاب کی کاپیاں لے لو، ٹائٹل پر میرا نام بھی چھاپ دینا۔ سنا ہے غضنفر مہدی نے گورنر صاحب کے ساتھ کام کرنے سے انکارکردیا ہے۔ آج کل لودھی بھی مخدوم سجاد کوبرا بھلا کہہ رہا ہے۔ان دنوں اسلم یوسفی صاحب لاہور آئے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگوں سے ملنا چاہتے تھے میں پہلے اظہر جاوید کے پاس ، پھر خالد شفیق کے ہاں اور آخرمیں مشاعرے میں لے گیا ۔انہیں مہمان خصوصی بنوادیا۔ وہ بہت خوش واپس آئے۔ابھی یہیں ہیں ۔پرسوں میں سکول کے زمانے کے ایک دوست سے ملنے گیا۔وہ آج کل لاہور میں ہے۔ وہیں سے ایک اورپرانے بیلی کا ایڈریس مل گیا۔ کسی روز اسے بھی ملوں گا۔آج جونیجو نے موچی دروازے میں جلسہ کیا۔ مجھے بھی جانا پڑا ۔میری ڈیوٹی بشری رحمان نے لگائی تھی کہ دیکھ کرآﺅں کہ کیسا جلسہ ہے۔ لطیفہ سنو جونیجو صاحب نے کہنے لگے ”صرف کچی آبادیوں کے بارے میں ہی مجھے اعلان نہیں کرنا، مجھے ایک اور اہم اعلان بھی کرنا ہے ، آپ لوگ بیٹھے رہیں ،( لوگ واپس جانے لگے تھے )۔ میں آج آپ کو ایک اور خوش خبری سنانا چاہتا ہوں اوروہ یہ ہے کہ میں یہاں موچی دروازے میں اعلان کررہا ہوں کہ گھی کی قیمت میں پچاس پیسے فی کلوگرام کمی کردی گئی ہے“۔ دیکھا کیسے ہمدرد ہیں یہ ہمارے یعنی ایک چھٹانک گھی لینے والے کو تین پیسے کی بچت ہوگی اور تم جانتے ہو کہ ایک ایک پیسہ کتنا قیمتی ہوتا ہے۔میں اس موضوع پر کالم لکھنا چاہتاہوں ۔ممکن ہے لکھ ہی دوں۔ ”کتاب نما“ دہلی میں انور سدید کا جائزہ شائع ہوا ہے جس میں ہمارا بھی ذکرہے۔ بشری رحمان کہہ رہی تھیں کہ دیکھو انور سدید نے کالم نگاروں میں تمہارا نام تو لکھ دیا میرا نہیں لکھا۔ حالانکہ میں جنگ میں لکھتی ہوں۔ میں خاموش رہا کیا جواب دیتا۔ قدسیہ ہما نے دفتر کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا ۔اب تم آفس کے پتے پرہی خط لکھ دیاکرو۔ یہ خط عجلت میں لکھ رہا ہوں کہ آج کل میرے پرچے ہونے والے ہیں۔
تمہارا رضی
7اپریل 1986
تمہارا خط ملا اور تمہارے حالات کاعلم ہوا۔ جس روز تمہیں خط پوسٹ کیا اسی روز قمررضا آگیا ۔رات کو ہمارے ساتھ ٹھہرا۔اگلے روزاس کی واپسی تھی ۔سو میں اس کے ساتھ ہی ملتان چلاگیا۔کل صبح واپس آیا ہوں۔ اب میں ملتان سے رات بارہ بجے روانہ ہوتا ہوں اورصبح لاہور پہننچتا ہوں۔ اب کے تو جاتے ہوئے بھی یہی ہوا یعنی کراچی ایکسپریس اور عوام ایکسپریس سبھی نکل گئیں۔ آخری گاڑی تیز رو تھی جو لاہور سے رات دس بجے روانہ ہو کر صبح چار بجے خانیوال پہنچی ۔وہاں سے بس لے کر صبح چھ بجے گھر پہنچا۔ ملتان کی باتیں بعد میں کروں گا پہلے تمہارے خط کاذکر ۔ میری غزل تمہیں پسند آئی توگویاسب کوپسند آگئی۔ ممتاز اطہر،نسیم شاہداورنظامی کے ساتھ دوبارہ بول چال پر تمہیں خوشی ہوئی۔ یہ میرے لیے بھی خوشی کی بات ہے۔تازہ کالم تمہیں ارسال کررہا ہوں جو انور جمال صاحب کی تصویر کے ساتھ ہے۔ ملتان میں ممتاز اطہر سے سرسری اور نسیم شاہد سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ کوئی ایک گھنٹہ تک میں اور نسیم ہوتل بابا کوبرا بھلا کہتے رہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اقبال ساغر صدیقی کی ملازمت ختم ہوگئی تھی تاہم ثاقبہ رحیم الدین کی سفارش پر بحالی ہوگئی۔
تمہارے لیے مناسب سا کارڈ لے کر اس پر عید مبارک کی سکرین پرنٹنگ کرالوں گا۔ مسئلہ تمہیں بھیجنے کاہوگا شعبان کے آخر میں کوئی سعودیہ گیاتو اس کے ہاتھ بھیج دوں گا۔ کارڈوں کے ساتھ ایڈریس بھی بھیج دوں گا۔ میں نے اسلام تبسم کو کہا کہ تم مختصر خط لکھتے ہو تفصیل سے لکھاکرو۔ اس شریف آدمی نے پورے صفحے پر باربار یہی لکھا کہ ” سوچ رہا ہوں کیا لکھوں؟“۔ اس بار ہم نے بہت شغل کیا۔ رات گیارہ بجے اس کی بیٹھک پردستک دی ۔اس نے پوچھا کون ہے ،ہم نے لڑکیوں کی آواز نکال کرکہا ،اسلام دروازہ کھول دو، صاحب جی تو خوف زدہ ہوگئے ۔کہنے لگے بھاگ جاﺅ، میں نے کہا صرف 15روپے میں ، اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ تین چار منٹ تنگ کرکے اصلی آواز میں بولے تو اس کی جان میں جان آئی۔ ادھر سبطین لودھی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ”انتخاب“ دوبارہ چھاپنے کا کہہ رہا تھا۔ میں نے وقتی طورپر گول کردیا کیونکہ ساتھ جو صاحب بیٹھے تھے وہ کہہ رہے تھےانتخاب کے لیے میرے رسالے انشعاب کی کاپیاں لے لو، ٹائٹل پر میرا نام بھی چھاپ دینا۔ سنا ہے غضنفر مہدی نے گورنر صاحب کے ساتھ کام کرنے سے انکارکردیا ہے۔ آج کل لودھی بھی مخدوم سجاد کوبرا بھلا کہہ رہا ہے۔ان دنوں اسلم یوسفی صاحب لاہور آئے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگوں سے ملنا چاہتے تھے میں پہلے اظہر جاوید کے پاس ، پھر خالد شفیق کے ہاں اور آخرمیں مشاعرے میں لے گیا ۔انہیں مہمان خصوصی بنوادیا۔ وہ بہت خوش واپس آئے۔ابھی یہیں ہیں ۔پرسوں میں سکول کے زمانے کے ایک دوست سے ملنے گیا۔وہ آج کل لاہور میں ہے۔ وہیں سے ایک اورپرانے بیلی کا ایڈریس مل گیا۔ کسی روز اسے بھی ملوں گا۔آج جونیجو نے موچی دروازے میں جلسہ کیا۔ مجھے بھی جانا پڑا ۔میری ڈیوٹی بشری رحمان نے لگائی تھی کہ دیکھ کرآﺅں کہ کیسا جلسہ ہے۔ لطیفہ سنو جونیجو صاحب نے کہنے لگے ”صرف کچی آبادیوں کے بارے میں ہی مجھے اعلان نہیں کرنا، مجھے ایک اور اہم اعلان بھی کرنا ہے ، آپ لوگ بیٹھے رہیں ،( لوگ واپس جانے لگے تھے )۔ میں آج آپ کو ایک اور خوش خبری سنانا چاہتا ہوں اوروہ یہ ہے کہ میں یہاں موچی دروازے میں اعلان کررہا ہوں کہ گھی کی قیمت میں پچاس پیسے فی کلوگرام کمی کردی گئی ہے“۔ دیکھا کیسے ہمدرد ہیں یہ ہمارے یعنی ایک چھٹانک گھی لینے والے کو تین پیسے کی بچت ہوگی اور تم جانتے ہو کہ ایک ایک پیسہ کتنا قیمتی ہوتا ہے۔میں اس موضوع پر کالم لکھنا چاہتاہوں ۔ممکن ہے لکھ ہی دوں۔ ”کتاب نما“ دہلی میں انور سدید کا جائزہ شائع ہوا ہے جس میں ہمارا بھی ذکرہے۔ بشری رحمان کہہ رہی تھیں کہ دیکھو انور سدید نے کالم نگاروں میں تمہارا نام تو لکھ دیا میرا نہیں لکھا۔ حالانکہ میں جنگ میں لکھتی ہوں۔ میں خاموش رہا کیا جواب دیتا۔ قدسیہ ہما نے دفتر کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا ۔اب تم آفس کے پتے پرہی خط لکھ دیاکرو۔ یہ خط عجلت میں لکھ رہا ہوں کہ آج کل میرے پرچے ہونے والے ہیں۔
تمہارا رضی
7اپریل 1986
فیس بک کمینٹ

