راولپنڈی : انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جج امجد علی شاہ نے 14 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ افراد گذشتہ رات گرفتار کیے گئے تھے اور عدالت میں پیش کیے گئے۔ اس مقدمے میں تھانہ صدر بیرونی نے 35 نامزد ملزمان سمیت تقریباً 400 افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت شامل کیا ہے۔ مقدمے میں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ، نورین نیازی، قاسم خان، سلمان اکرم راجہ اور عالیہ حمزہ کے نام بھی درج ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پولیس پر حملے اور ریاست کے خلاف مجرمانہ سازش کی منصوبہ بندی کے الزامات ہیں۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی، سڑک بلاک کی اور عوام کو مشکلات میں ڈالا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے کارکنان کو اشتعال دلایا، کارِ سرکار میں مداخلت کی، پولیس پر پتھراؤ اور بوتلیں پھینکیں، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھٹ گئیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے ماضی میں اس نوعیت کے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے احتجاج پُرامن ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے پولیس پر تشدد اور واٹر کینن کے استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں۔
( بشکریہ :بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

