اہم خبریں

آئی ایس آئی کا صحافی اسد طور پر تشدد سے اظہار لا تعلقی

اسلام آباد : پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ایک غیرمعمولی بیان میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے صحافی اور ویڈیو بلاگر اسد علی طور پر تشدد کے واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق ہفتہ کو وزارت اطلاعات اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا رابطہ ہوا، جس میں اسلام آباد میں ’ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی اسد علی طور پر مبینہ تشدد سے آئی ایس آئی نے مکمل لاتعلقی ظاہر کی ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسے الزامات کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت آئی ایس آئی کو ففتھ جنریشن وار فیئر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘خیال رہے کہ اسلام آباد میں مقیم صحافی اور یو ٹیوب ولاگر اسد علی طور پر گذشتہ دنوں نامعلوم افراد نے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
سرکاری بیان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ’ آئی ایس آئی سمجھتی ہے کہ جب سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کی شکلیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں تو پھر تفتیش آگے بڑھنی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔‘ ادھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے صحافی اسد علی طور کے معاملے پر ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ اس مسئلے میں بعض لوگ حساس ترین ایجنسیوں کو بلاوجہ ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ ’آج ایک اہم فوٹیج ملی ہے جس کے ذریعے ہم ملزموں تک پہنچ جائیں گے۔‘
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’آئی جی اسلام آباد اور ایف آئی اے مل کر اسد علی طور کے ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔‘ رات گئے وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں آئی ایس آئی تفتیشی اداروں سے مکمل تعاون کرے گی اور وزارت اطلاعات اس ضمن میں اسلام آباد پولیس سے رابطے میں ہے اور انہیں امید ہے کہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ بغیر ثبوت اداروں پر الزامات کی روش ختم ہونی چاہیے اس طرح کی منفی روایات ملک کے اداروں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں اور جلد اصل کردار بے نقاب ہوں گے۔
دوسری جانب حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی آج صحافی اسد علی طور کی رہائش گاہ کا دورہ کیا ہے۔واضح رہے کہ صحافی اسد علی طور پر حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے آئی جی پولیس قاضی جمیل الرحمان نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والی اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس پی صدر ہیں جبکہ دیگر ارکان میں ڈی ایس پی رمنا، ڈی ایس پی سپیشل برانچ اور ایس ایچ او شالیمار شامل ہیں۔عدالتی رپورٹنگ اور حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقیدی تحریروں اور ویڈیوز کے لیے مشہور اسد علی طور پر کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج پر تنقید کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔تقریباً ایک مہینے کے دوران وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں پر ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے جس کے بعد صحافتی تنظیموں نے جمعے کو ملک بھر میں احتجاج بھی کیا تھا۔اس سے قبل 20 اپریل کو سینئیر صحافی اور پیمرا کے سابق چئیرمین ابصار عالم کو ان کی رہائش گاہ کے قریب ایک نامعلوم حملہ آور نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker