سرائیکی وسیبکالملکھاری

بیس اکتوبر : سید اصغر علی شاہ کی برسی ۔۔ پروفیسر سید ظفر عباس نقوی

سید اصغر علی شاہ کا تعلق انبالہ کے سید خاندان سے تھا ۔ ان کے داد اکا نام سید رجب علی شاہ تھا سید رجب علی شاہ کا پیشہ کاشتکاری تھا۔ سید اصغر علی شاہ کے والد سید اللہ دیا شاہ نے بھی اسی پیشے کو اپنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جانوروں کی تجارت بھی کرتے تھے۔سید اصغر علی شاہ 25 فرور ی1933ء کوضلع انبالہ کے موضع چڑیالہ میں پیدا ہوئے۔اصغر علی شاہ اپنے والد کی تیسری بیوی کی اولاد ہیں ۔ سید اصغر علی شاہ کے والد اللہ دیا شاہ نے تین شادیاں کیں۔ سید اللہ دیا شاہ کی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ ہوئی اور وہ قضائے الٰہی سے وفات پاگئی۔ ان کے فوت ہونے کے بعد سید اللہ دیا شاہ نے اپنی مرحومہ بیوی کی بہن سے شادی کی۔ اصغر علی شاہ کی دوسری والدہ سے تین بچے پیدا ہوئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ جلیل فاطمہ، ہاشم علی اور قاسم علی ہیں۔
جلیل فاطمہ سولہ سترہ برس کی عمر میں زچگی کے دوران میں انتقال کر گئیں۔ ہاشم علی اور قاسم علی دونوں بیٹے عالم شباب میں داغِ مفارقت دے گئے۔تیسری بیوی سے گلزار فاطمہ کے علاوہ دو بھائی اصغر علی شاہ اور صفدر علی شاہ پیدا ہوئے ۔ گلزار فاطمہ پانچ سال کی عمر میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔ 1937ء میں سید اصغر علی شاہ کے والد سید اللہ دیا شاہ انتقال کر گئے۔ ہیضے کی بیماری ان کی موت کا سبب بنی۔ والد کے انتقال کے وقت اصغر علی شاہ چارسال کے تھے۔ سید اللہ دیا شاہ کو چڑیالہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ اسی قبرستان میں اصغر علی شاہ کے خاندان کے بزرگ عبداللہ شاہ کا مزار بھی ہے۔ اس مزار پر ہر جمعرات دیا روشن کیاجاتا ہے گاؤں کے لوگ مزار کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
1937ء میں اصغر علی شاہ کی والدہ مصطفائی بیگم اپنے دو بچوں اصغرعلی شاہ اور صفدر علی شاہ کو لے کر اپنے میکے ملتان آگئیں۔ اصغر علی شاہ نے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے ننھیال میں رہنا شروع کردیا۔ اصغر علی شاہ کے نانا کا نام سید حسین تھا۔ سید حسین اندرون بوہڑ گیٹ محلہ شاہ گردیز ملتان میں رہائش پذیر تھے۔ 1939ء میں سید اصغر علی شاہ کو سٹی سنٹر سکول اندرون بوہڑ گیٹ ملتان میں پہلی جماعت میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ میونسپل کمیٹی ملتان کا قائم کردہ سکول تھا۔1943 میں انہوں نے سٹی سنٹر پرائمری سکول اندرون بوہڑ گیٹ ملتان سے پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانے میں پرائمری تعلیم پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک پانچ سالوں کی بجائے چار سالوں کے دورانیے کی حامل تھی۔ انہوں نے1943ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ملتان (جسے آج کل گورنمنٹ پائلٹ سکول کہا جاتا ہے) میں چھٹی جماعت میں داخلہ لے لیا۔ اس ادارے سے انہوں نے 1946ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا۔ 1948ء میں انہوں نے اسی ادارے سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ انہوں نے میٹرک اپنی نانی اماں غلام فاطمہ کے تعاون سے کیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد انہوں نے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیوشن پڑھانی شروع کردی۔ انہوں نے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے1952ء میں انٹر میڈیٹ کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ بعدازاں انہوں نے 1954ء میں گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے بی۔ اے کیا۔ انہوں نے بی ۔ اے کے دوران میں اپنے عربی کے استاد منظور احمد صاحب جو عروض کے ماہر تھے ان سے علم عروض سیکھا۔ انہوں نے بی۔ اے میں عربی اختیاری مضمون رکھاجس میں علم عروض بھی شامل تھا۔ ایمرسن کالج میں منظور احمد صاحب ان کے عربی کے استاد تھے۔ وہ علم عروض کے بہت ماہر تھے۔ منظور احمد نے انہیں اس کے قواعد و ضوابط سے روشناس کروایا۔ اس کی مزید مشق کرنے سے انہیں عربی، فارسی اور اردو عروض پر عبور حاصل ہوگیا۔ بعد ازاں انہوں نے سید اظہر علی کی لکھی ہوئی کتاب ’’المختصر‘‘ کا مطالعہ کیا۔ شاعری اور علم عروض کے شوق نے انہیں دیگر زبانیں سیکھنے کی طرف مائل کیا۔ انہوں نے انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، ہریانوی، پنجابی، سرائیکی اور کسی حد تک سنسکرت کا بغور مطالعہ کیا۔ اور اُن زبانوں کے اسرار و رموز سیکھے۔ 1954 میں آپ لاہور چلے گئے اور آپ نے پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں ایم اے عربی میں داخلہ لے لیا۔ عربی آپ کا پسندیدہ مضمون تھا آپ نے 1956ء میں اورینٹل کالج سے ایم۔ اے عربی کا امتحان پاس کیا۔اسی سال انہیں ’’اے جی‘‘ آفس میں اپر ڈویژن کلرک کی ملازمت مل گئی۔ دوران ملازمت آپ نے یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں ایم۔ اے۔ اسلامیات میں داخلہ لے لیا۔ آپ صبح6 سے 8بجے تک اورینٹل کالج میں ایم۔ اے اسلامیات کی کلاسز پڑھتے اور اس کے بعد آفس میں دفتری کاموں میں مشغول ہو جاتے۔1957ء میں انہوں نے یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم۔ اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا.10 ؍ ستمبر1958ء میں تحریری امتحان اور انٹرویو کے بعد گورنمٹ کالج میانوالی میں بطور لیکچرار عربی ملازمت کا آغاز کیا۔ ایک ہفتے کے بعد 17؍ ستمبر1958 ء کو آپ کا تبادلہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری کالج لیہ ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گورنمنٹ کالج میانوالی میں آپ سے پہلے موجود پروفیسر مقامی تھا۔ اس نے سفارش سے دوبارہ نوکری حاصل کرلی اور آپ کا تبادلہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری کالج لیہ ہوگیا۔ جہاں آپ نے ساڑھے تین ماہ تدریسی فرائض سرانجام دیئے۔1959ء میں آپ کا تبادلہ گورنمنٹ کالج منٹگمری (ساہیوال) ہوگیا۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال میں ملازمت کے دوران میں اصغر علی شاہ کی شادی21؍ اپریل1963ء کو رشتہ دار بلقیس فاطمہ سے ہوگئی۔ اصغر علی شاہ نے ساڑھے گیارہ سال گورنمنٹ کالج ساہیوال میں پڑھایا۔ آپ کا شمار گورنمنٹ امامیہ کالج ساہیوال کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ 1969ء میں آپ کے استاد منظور احمد گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے ریٹائر ہوئے تو اس کالج میں عربی کے استاد کی نشست خالی ہوگئی۔ ستمبر1969ء میں آپ نے اس خالی نشست پر اپنا تبادلہ گورنمنٹ کالج ملتان کروالیا۔1976ء میں گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں ملازمت کے دوران میں دو سال کے لیے سعودی عرب جانے کا موقع ملا۔ سعودی عرب جانے کا سبب یہ بنا کہ ایک منصوبہ پاکستانی گورنمنٹ اور عرب لیگ کے درمیان طے پایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہرسال تیس پروفیسر پاکستان سے ریاض یونیورسٹی سعودی عرب اور خرطوم یونیورسٹی سوڈان بھیجے جائیں گے جو وہاں سے عربی کی مخصوص تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس پاکستان آئیں گے اور اپنے ملک میں کالج کے پروفیسروں کو یہ تعلیم دیں گے۔ چنانچہ اصغر علی شاہ نے ریاض یونیورسٹی سے عربی کی یہ خاص تعلیم حاصل کی۔ 1978ء میں وہ وطن لوٹے اور کئی پاکستانی اساتذہ کو یہ تعلیم دی۔ آپ کے جانے کا مقصد تدریس عربی برائے غیر عرب ناطقین کا کورس کرنا تھا۔آپ نے پہنچنا تو ستمبر میں تھا لیکن سرکاری تاخیر کی بناء پر جنوری میں سعودی عرب پہنچے تو اس کام کا آغاز ستمبر سے ہو چکا تھا ۔ اس لیے اس دوران میں تدریس عربی برائے غیر عرب ناطقین نامی کو کورس تو نہ کر سکے۔ البتہ عربی زبان کے متعلق تقویۃ اللغہ کورس کرلیا۔ جون ۱۹۷۶ء میں آپ پاکستان وپس آگئے۔ ستمبر میں آپ دوبارہ ریاض یونیورسٹی پہنچے۔ اس کورس کے کل گیارہ پرچے تھے جن میں علم الاصوات سب سے اہم تھا۔ڈاکٹر محمد کمال بشر (جنہوں نے جامعۃ الازہر اور کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے علم الاصوات پر دوبار ڈاکٹریٹ کی ہوئی تھی) اس پرچے کی تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے انہوں نے مختلف حرو ف مثلاً جب اصغر علی شاہ اور ان کے ہم جماعت ث کوس، ق کوک اور ذ۔ض ظ کوز سے ادا کرتے تو وہ نہ صرف ان کی اصلاح کرتے بلکہ حروف کی آوازوں کی پریکٹس بھی خوب کرواتے۔ اس طرح اصغر علی شاہ علم الاصوات کے ماہر بن گئے اور انہیں ریاض یونیورسٹی سے غیر عربوں کے لیے تدریس عربی کا 1978ء میں ڈپلومہ مل گیا. 1979ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے تعلیمی پروگراموں سے وابستہ ہوگئے یہ سلسلہ2012 تک چلتا رہا۔16؍ فروری 1993ء کو آپ کا تبادلہ بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج خانیوال ہوگیا ۔ 24؍فروری 1993ء کو آپ گورنمنٹ کالج خانیوال سے ریٹائر ہوگئے’ ۔
پروفیسر اصغر علی شاہ کا گزشتہ برس20 اکتوبر کو ملتان میں انتقال ہوا
آج ان کی پہلی برسی کے موقع پر ہم نے ان کی زندگی کا مختصر احوال قلم بند کر دیا ہے تا کہ نئی نسل کو ان کی زندگی کے روز و شب اے آگاہی ہو سکے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker