کہتے ہیں کہ برسوں کی محنت سے بنی کسی عمارت کو دھڑام سے نیچے گرانا ہو تو جن ستونوں پر وہ کھڑی ہے انھیں مسلسل ضربیں لگاؤ ، تھوڑے وقت میں ملبے کا ڈھیر آپ کے سامنے ہوگا، یہی صورت حال ایک ریاست پر بھی صادق آتی ہے، ویسے تو عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ کو ہی ریاست کے تین ستون کہا جاتا ہے لیکن وطن عزیز میں صحافت بھی چوتھے ستون میں شمار ہوتی ہے،یہ ستون اپنی اپنی اپنی جگہ (Domain) میں رہیں تو یقین جانیں ریاست کی اس عمارت کو کوئی بھی ہلا نہیں سکتا، لیکن پھر وہی بات کہ ہمارے ہاں قیام پاکستان سے اب تک فوجی یا سول حکمرانوں نے اپنے مفادات کو متاثر ہوتے دیکھ کر کسی نہ کسی ستون سے ضرور چھیڑ خانی کی،انجام مشرقی پاکستان اور اس جیسے کئی سانحات کی صورت نکلا۔
پارلیمنٹ کو ہمیشہ بے توقیر رکھا گیا، ارکان کو کروڑوں ووٹرز منتخب کرکے اپنے مسائل کے حل کیلئے ایوان میں بھیجتے تھے، لیکن ایک آمر اٹھا ون ٹو بی کا ہتھوڑا چلا کر عوامی مینڈیٹ تہس نہس کردیتا تھا، بہرحال ایک جمہوری حکومت نے ہی یہ کلہا ڑا چھینا، عدلیہ کو قانونی و آئینی فیصلے کرنے کی بجائے نظریہ ضرورت کے تحت استعمال کیا گیا، بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کا یہ بھی وطیرہ رہاہےکہ اسمبلیوں میں اکثریت بیشک نہ ہو، فکر مندی کی ضرورت نہیں بس ایک آ رڈیننس جاری کرکے مرضی کی قانون سازی کرلو، ن لیگ،پیپلزپارٹی سمیت جمہوریت کے سبھی چیمپئنز نے یہ کچھ کیا،شاید ان کے سر پنچوں کا خمیر بھی آمریت سے ہی اٹھا تھا ۔
اب جولائی 2018 کے الیکشنز کے نتیجے میں بننے والی ”نیاپاکستان “ حکومت نے بھی اس روش کو شاید انتہا پر پہنچا دیا ہے، اب کابینہ سے منظوری بعد کی بات ہے، ایک سرکلر جاری کرکے منظوری لےلی جاتی ہے، اس کی مثال حال میں تاجروں کو سہولت کے نام پر دوستوں کو نوازنے کیلئے نیب ترمیمی آرڈیننس کا اجرا ء ہے، صرف اچانک کسی کو اعتماد میں لئے بغیر ایک سرکلر کے ذریعے اجراء ہوا، اس کی تصدیق پی ٹی آئی کے، عزیز چن نے پچھلے دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں بھی کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کہا جارہا ہے کہ اس ترمیمی آرڈیننس کا اپوزیشن کو بھی فائدہ ہوگا، جبکہ اپوزیشن اسے قبول نہ کرتے ہوئے واویلا مچا رہی ہے، واہ کیا مذاق ہے؟؟ اب سنا ہے کہ اپوزیشن کیساتھ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا اختیار بھی حکومت ایک آ رڈیننس کے ذ ریعے اپنے ہاتھ میں لے لے گی، یعنی اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کی کوئی ضرورت نہیں، اس سے پہلے بھی انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہے ہیں، اب جو اقتدار میں ہوگا، مرضی کا الیکشن کمیشن بھی لگا سکےگا، جس طرح کا مرضی نتیجہ حاصل کرو، اب تو سنا ہے کہ بعض سنجیدہ وزراء نے "جان کی امان پاؤں” کی درخواست کرکے تجویز دی ہے کہ حضورنام نہاد ریاست مدینہ کے آپ والی ہیںگستاخی معاف ہمیں اعتماد میں لے لیا کریں، کسی کو باہر منہ بھی دکھانا ہوتا ہے، بہرحال فیصلہ سازوں کو اس غیر سنجیدہ حکومت کے حوالے سے سنجیدگی سے کچھ سوچنا ہوگا، یہ اب اداروں کی بے توقیری کی طرف جارہے ہیں اور معذرت کے ساتھ جہاں فرد واحد زبردستی اختیار ات چھیننے کی کوشش کر تا ہے وہاں تصادم ہوکر رہتاہے، اس کا نقصان ان میں سے کسی کو نہیں ہوگا، تباہ ہوگی تو صرف اور صرف ریاست… کوئی ہے جو انہیں روکے؟؟
فیس بک کمینٹ

