آصف علی فرخکالملکھاری

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے ۔۔ آصف علی فرخ

کوئی بھی شخص چاہےوہ حکمران ہو، پارٹی لیڈر ہو، کسی ٹیم کا کپتان ہو یاکسی بھی ادارے کا سربراہ اسکا اچھا منتظم ہونا اچھی بات لیکن اکیلا وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا، اچھے دوست، مشیر آپ کو آسمان کی بلندیوں پر بھی پہنچاسکتے ہیں اور آپکو زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں بھی دھنسا سکتےہیں قبل اسکے میں اصل موضوع کی طرف آئوں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا واقعہ یاد دلائو‍ں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک جگہ تشریف فرما تھے آپ کے ایک مشیر نے پوچھا اے امیر المومنین کیا بات ہے کہ آپ بہت بہادر ہیں، صاحب علم ہیں، صاحب حکمت ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ پچھلے خلفاء کے دور پرامن تھے لیکن آپ کے دور میں انتشار وبدامنی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تحمل کیساتھ سننے کے بعد فرمایا ” انکے مشیر ہم تھے، ہمارے مشیر تم” اب جناب وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو ہی دیکھ لیں انکے بارے میں انکے بہی خواہوں کا استدلال ہے کہ وہ کرپٹ نہیں، باقی ان سے پہلے کرپٹ بھی تھے اور کئ عیاش بھی لیکن کیا ایک اچھے حکمران کیلئے کرپٹ نہ ہونا کافی ہے، جبکہ اسکے گرد کرپٹ و چاپلوس ٹولے نے حصار ڈال رکھا ہو، وزیراعظم اتنے معصوم ہیں کہ انھیں یہ پتا ہی نہیں کہ جو لوگ انھیں بوریاں بھر بھر کر نوٹ پارٹی فنڈ میں دے رہے ہیں،دوسری پارٹی کے لوٹوں کو ڈھونے کیلئے طیارہ اور دیگر خدمات ہر وقت پیش، تو جناب وہ بوریاں بھی گن کر دیتے ہیں اور اس سے کئ گن زیادہ مفادات بھی بھر بھر کر لیتے ہیں، اگر کوئی آپ کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلارہا ہے تو جناب امیرالمومنین اس گناہ بے لذت کا بالواسطہ جناب بھی شکار ہوئے، دودن قبل چینی کے بحران پر رپورٹ سب نے دیکھ لی، حکومت میں شامل کون کون ہے جس نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھو یے، دھرنا ہو یا کچھ اور ہر وقت عمران خان کے دائیں چپکے جہانگیر ترین کا نام اربوں کی سبسڈی کیساتھ سرفہرست ہے، ہر حکومت چاہے وہ نام نہاد جمہوری ہو یا آمریت اسکی گود میں بیٹھے خسرو بختیار(موصوف کا فرنٹ مین بھائی تھا) دوسرے نمبر ہے، اتحادی پرویز الہی کا بیٹا مونس اور دیگر بھی پیچھے نہیں رہے، ہاتھ تو مریم کے سمدھی چوہدری منیر اور شہباز شریف کے بیٹے سلمان نے بھی خوب دھوئے، عمران کے طرز سیاست پر غور کریں تو وہ نئے پاکستان کے نعرے کیساتھ سیاست میں اترے تھے، تو جناب ایسا ہوتا ہے نیا پاکستان؟؟ اب تو عوام بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ” رحم دل ڈاکو ‘ ہی ٹھیک تھے کم از کم ہمارے سر چھپانے کو کچھ تو چھوڑ دیتے تھے ‘ قوم پوچھتی ہے کیا نیب اور دیگر ادارے صرف مخالفین کیلئے ہیں، حکومت میں شامل ترین، خسرو، زلفی بخاری اور ان جیسے کئ دودھ کے دھلے ہوئے،ہیں؟؟
وزیراعظم سے پچھلے دنوں ملاقات میں رئوف کلاسرا نے جہاں انھیں کئی باتوں پر آئینہ دکھایا وہاں انھوں نے خصوصی مشیرزلفی بخاری کے حوالے سے بھی سوال کرنے کی جسارت کی جسکا انھوں نے جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھا، ترین کے حوالے سے یہ یاد دلا دوں کہ موصوف ماضی میں شریف برادران کے بھی خاص مصاحبوں میں شامل تھے، ان سے بھی کئی نوازشات لیں، ڈوبتی نائو دیکھ کر چھلانگ لگا دی لیکن اب بھی شہباز کے ذریعے رابطے میں ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آوے!!!! چینی بحران سے یہ بھی عقدہ کھلا کہ ایکدوسرے کے سیاسی مخالفین کاروبار میں حلیف ہیں، ان سیاستدانوں نے لوگوں کو اسطرح بیوقوف بنارکھا ہے کہ اگر تین بھائی بھتیجے ہیں تو ایک ہی ٹی آئی، دوسرا پی پی اور تیسرا ن لیگ میں شامل، کیونکہ حکومت میں فی الحال ان تینوں جماعتوں نے ہی ایک ایک کرکے آنا ہے، قوم جائے بھاڑ میں مفادات متاثر نہیں ہونے چاہئیں، چینی بحران پر کہا تو یہی جارہا ہے کہ یہ رپورٹ وزیر اعظم نے خود جاری کرائی لیکن ایک روز قبل انکا کہنا کہ 25 اپریل کی فرانزک رپورٹ کے بعد فیصلہ کرونگا نے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع دیدیا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے، وزیراعظم اپنے چہیتو ں کو بڑی سزا دینے کی بجائے مشیروں کے مشورے پر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرینگے، ہوسکتا ہے کہ یہ ” گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو ” کے مترادف وزیراعظم کیلئے گڑھا ثابت ہو، اور وزیراعظم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو…. انہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی……
جناب وزیراعظم آپ کو اس نہج پر پہنچانے والی یہ وہ وہیل مچھلیاں ہیں اگر انھیں چھڑا تو سب کچھ ہڑپ کرجائیں گی، کیا مونس الٰہی کو چھیڑا تو چودھری بیساکھیوں کے سہارے کھڑی اس کمزور ترین حکومت کو چھوڑ دینگے ؟؟؟ خسرو بختیار پھر سرائیکی صوبے سے روا زیادتیوں کا زخم تازہ کرا دے گا، تو پھر وزیراعظم کی حکومت کہاں ہوگی؟؟ نظریاتی کارکنوں کو دھتکار کر پہلے ہی اپنے سے دور کر چکے، پھر جھولی میں فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری جیسے ہی بچے ہیں، ان میں سے اکثر کو وہ خود نہیں لائے بلکہ انھیں انکی جھولی میں زبردستی ڈالا گیا ہے، اشارے پر وہ پھر سے اڑ جائیں گے، فواد نے تو رنگ دکھا شروع کردیئے ہیں، اتحادی شیخ رشید نے بھی ہوا کا رخ دیکھ لیا ہے، انھیں تو خود اعتراض ہے کہ وزیر ریلوے وہ ہیں کورونا سے ٹرینوں کی بندش کے فیصلے کہیں اور سے صادر ہوگئے، انھیں کون سمجھائے حضور کورونا کے حوالے سے فیصلے جناب وزیراعظم کے ہاتھ میں ہیں، نہیں جناب، وہ تو ایک روز قبل فرما رہے تھے کہ لاک ڈاؤن نہیں کروں گا، پھر اگلے ہی دن انکے وسیم اکرم پلس بزدار کو پنجاب میں لاک ڈاؤن کرنا پڑگیا، پہلے کہتے تھے پاکستان میں اٹلی، چین جیسے حالات نہیں ،کرونا بوڑھوں کو مارے گا، انکے اس بیان پر نوجوان سڑکوں پر ویلنگ کرتے نظر آئے، اب شاید کچھ کے سمجھانے پر فرما رہے ہیں کہ خبردار کرونا کسی کو نہیں چھوڑ ے گا تو جناب کچے کانوں پر مشیروں کی ہر بات پر یقین نہ کرلو آنکھیں ودماغ کھلے رکھو، یہ مشیر کسی کے نہیں ہوتے کل نا ؤ ڈوبتی دیکھ کر کسی اور کے مشیر بن جائیں گے، اورخدانخواستہ آپکی….. داستاں تک نہ بھی ہوگی داستانوں میں…..

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker