عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

زمینی خداﺅں کے لئے ایک تحریر !۔۔عطا ءالحق قاسمی

گزشتہ روز میری ملاقات ایک متکبر شخص سے ہوئی۔ یہ ایک دولت مند شخص تھا اور رعونت سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے تعلقات حکومت کے بڑوں سے ہر دور میں مستحکم رہے۔ یہ زمین پر یوں چلتا جیسے آسمان پر چل رہا ہو۔ یہ جب ان لوگوں سے بات کرتا جو اس کے زیر نگیں تھے تو اس کا خدائی لہجہ دیکھ کر دل کانپ اٹھتا تھا۔
گزشتہ روز اس سے میری ملاقات بہت عجب ماحول میں ہوئی، میں اپنے ایک دوست کے ساتھ قبرستان میں سے گزر رہا تھا اور انسان کی بے ثباتی کے بارے میں بات کر رہا تھا کہ ایک قبر کے قریب سے گزرتے ہوئے کسی نے مجھے میرے نام سے پکارا۔
مجھے یہ آواز جانی پہچانی محسوس ہوئی، یہ اسی متکبر شخص کی آواز تھی وہ کہہ رہا تھا ”قاسمی صاحب خدارا ایک منٹ کے لئے رک جائیں “ میں رک گیا اور پوچھا ”تم کہاں ہو اور تمہیں میرے نام کا پتہ کیسے چلا؟“اس نے کہا میں آپ کے پاﺅں کے نیچے قبر میں ہوں۔ میں نے آپ کو آپ کی آواز سے پہچانا، آپ ایک دفعہ میرے دفتر آئے تھے۔
میں نے جواب دیا ہاں مجھے یاد ہے اور میں تمہارا اس روز کا رویہ بھی نہیں بھولا۔ اس نے کہا ”خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں، میں یہاں بہت تکلیف میں ہوں اور آپ کی مدد چاہتا ہوں“۔
میں نے پوچھا ”میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟“
اس نے کہا اسلام آباد میں سیکرٹری انڈسٹریز ہیں، ان سے میرے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ اگر کبھی اسلام آباد جائیں تو انہیں میرا سلام کہیں۔ میں نے جواب دیا کہہ دوں گا۔ بولا: ان سے کہیں کہ کسی سے کہہ سن کر مجھے عذاب قبر سے نجات دلا دیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا:وہ بیچارا اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہے؟
یہ متکبر شخص بولا قاسمی صاحب آپ بہت بھولے ہیں سب کچھ ہو سکتا ہے، میں اس کے لئے خرچہ پانی دینے کو بھی تیار ہوں۔
میں نے کہا:لگتا ہے فرشتے تمہارے دماغ پر بھی ضربیں لگا رہے ہیں، تبھی تم ایسی الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو۔ یہ سن کر اس کی آواز بھر آئی اور وہ لجاجت سے بولا قاسمی صاحب آپ صرف ان تک میرا پیغام پہنچا دیں۔ اگر وہ نہ ملیں تو سیکرٹری پروڈکشن سے بات کریں۔ یہ دونوں بڑے اثرو رسوخ والے لوگ ہیں، میری زندگی میں انہوں نے کبھی میری بات نہیں ٹالی تھی اور میں نے کبھی ان کی کوئی فرمائش بھی رد نہیں کی تھی۔ میں نے سوچا یہ شخص ابھی تک پرانے خیالوں میں الجھا ہوا ہے اسے یقین نہیں آ رہا کہ ایک دنیا ایسی ہے جہاں نہ کوئی سفارش کام آتی ہے اور نہ رشوت سے مسئلے حل ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں نےسوچا اسے انہی خیالوں میں مگن رہنے دو مزید کچھ وقت گزرنے کے بعد اسے خود بخود عقل آ جائے گی۔ اس دوران مجھے ایک بار پھر اس کی آواز سنائی دی ”قاسمی صاحب آپ کے بھی بڑے تعلقات ہیں آپ ہی کچھ مہربانی کریں۔ میں ہر طرح کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔ ادھر میرا کام ہو گا اور ادھر میرے بیٹے آپ کے پاس پہنچ جائیں گے اور جو حکم آپ دیں گے وہ اس کی تعمیل کریں گے“۔
میں نے کہا: تمہیں شاید علم نہیں کہ تمہارے بیٹے تمہیں اب صرف مٹی کا ڈھیر سمجھتے ہیں جس کا ثبوت تمہاری قبر کی خستہ حالت ہے۔ اس کی آواز سے لگا جیسے یہ بات اس کیلئے بہت صدمے کا باعث بنی ہے۔ اس نے کہا: میں نے تو زندگی میں جتنے ہیر پھیر کئے، وہ سب انہی کیلئے کئے، کیا وہ واقعی مجھے بھول چکے ہیں؟ میں نے جواب دیا: ہاں اور اب تمہاری ہی طرح خدا کی زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتے ہیں اور انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہوئے اپنے پاﺅں کے نیچے روندتے چلے جاتے ہیں۔
یہ سن کر اس کی آواز میں مزید نقاہت پیدا ہوئی اور بولا:مجھے ان سے یہ امید نہیں تھی مگر قاسمی صاحب مجھے ایک بات سمجھ نہیں اتی۔ میں نے پوچھا :وہ کیا۔
وہ بولا: میرا انتقال ہوا تو مجھے قبر میں ایک فرشتے نے بتایا کہ تمہاری بخشش کیلئے ابھی تک دو ہزار مرتبہ پورا قرآن پڑھا جا چکا ہے، لاکھوں مرتبہ سورة یٰسین کی تلاوت کی جا چکی ہے تو مجھے اطمینان ہوا کہ اب مجھے عذاب سے نجات مل جائے گی مگر یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اس کی کیا وجہ ہے؟میں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ دعاﺅں اور التجاﺅں سے حقوق اللہ کی معافی تو ہوسکتی ہے حقوق العباد کی نہیں، تم نے دولت جمع کرنے کیلئے جتنے دونمبرکام کئے اور ان کاموں کی زد میں ملک اور عوام کے جتنے طبقے یا افراد آئے وہ سب تمہارے خلاف استغاثے کے گواہ ہیں۔ کسی معاشرتی جرم کو تو کوئی فرد بھی معاف نہیں کر سکتا، اللہ تعالیٰ کیوں معاف کرے گا۔
اس پر مجھے قبر میں سے رونے کی آواز آئی بلکہ تھوڑی دیر بعد چیخیں بھی سنائی دیں اس کے ساتھ شڑاب شڑاب کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ غالباً عذاب قبر پر مامور فرشتے ہنٹر لیکر اس متکبر شخص کے پاس پہنچ چکے تھے۔ میرے دوست نے میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا ” اب یہاں سے کھسک لینا چاہئے“۔
میں نے پوچھا :کیوں؟
بولا ”ہماری اپنی کرتوتیں کون سی اچھی ہیں لیکن دھیان کبھی ان کرتوتوں کے نتائج کی طرف نہیں گیا۔ میں یہ سب کچھ دیکھ کر سہم گیا ہوں اور خود تم بھی مجھے سہمے ہوئے لگتے ہو۔ چنانچہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے خوف سے ہم صاف ستھری زندگی گزارنا شروع کر دیں اور عاقبت بہتر بناتے بناتے اپنی دنیا خراب کر بیٹھیں۔ آگے چل کر جو ہو گا وہ اس وقت دیکھ لیں گے، اب تو آرام سے گزرتی ہے لہٰذا اسے اسی طرح گزرنے دو۔“
(بشکریہ:روز نامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker