عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

پاکستان، سیاست دان اور ادارے !۔۔عطا ء الحق قاسمی

بہت عرصہ قبل انڈیا جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک سینما میں فلم ’’گاندھی‘‘ لگی ہوئی تھی۔ مجھے یہ فلم دیکھنے کا اشتیاق تھا چنانچہ میں نے پوری توجہ سے یہ فلم دیکھی اور جب گاندھی جی پر بنی فلم دیکھ کر سینما سے باہر آیا تو میں قائداعظم کی عظمت کا پہلے سے زیادہ قائل ہو چکا تھا۔ فلم میں گاندھی جی لنگوٹی میں اور قائداعظم تھری پیس سوٹ میں ملبوس نظر آئے جبکہ عوام کے لئے کشش تو گاندھی جی کے گیٹ اپ میں تھی۔ قائداعظم ٹرین کے فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے، گاندھی جی تھرڈ کلاس کے ڈبے سے برآمد ہوتے دکھائے گئے جبکہ عوام کے دلوں میں گھر کر جانے والی ادا تو گاندھی جی کی تھی، گاندھی جی کو ہندی میں گفتگو کرتے دکھایا گیا جبکہ قائداعظم انگریزی میں بات چیت کرتے تھے، عوام کو تو گاندھی جی کی ادا بھانا چاہئے تھی لیکن ایسے نہیں ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان بھر کے مسلمان قائداعظم کے پرچم تلے جمع ہوتے چلے گئے، نیشنلسٹ علماء اُنہیں روکتے ہی رہے۔ قائداعظم کو کافرِ اعظم کہتے رہے، اُن کے طرزِ تمدن پر پھبتیاں کستے رہے، مسلمان سادہ لوح ضرور ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ اپنا برا بھلا نہ سمجھ سکے۔ ایک جلسے میں ایک دیہاتی مسلمان قائداعظم کی تقریر کے دوران وفورِ جذبات میں رو رہا تھا، کسی نے پوچھا میاں انگریزی میں تقریر ہو رہی ہے، تمہیں کیا سمجھ آرہی ہے؟ بولا صرف یہ سمجھ آ رہی ہے کہ یہ شخص جو بھی کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے چنانچہ میں جب گاندھی جی کے ڈرامائی کردار کے مقابلے میں قائداعظم کے اسپاٹ کردار کی فتح یعنی پاکستان بنتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ گاندھی جی اور قائداعظم میں سے بڑا لیڈر کون تھا، وہ جو ہزار جتن کے باوجود اپنا اکھنڈ بھارت کا خواب پورا نہ کر سکا یا وہ جو ہزار رکاوٹوں کے باوجود پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
گزشتہ 72برس میں بدترین حالات سے گزرنے کے باوجود آج بھی پاکستان عالمِ اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت ہے۔ ہم ایشیا کی ایک عظیم معاشی طاقت بھی بن سکتے ہیں اگر ہمارے کرم فرما اپنے کام سے کام رکھیں اور سیاستدانوں کو اپنا کام کرنے دیں۔ سیاست کے دھارے کو اپنے رخ پر چلنے دیا جائے، جب اُس کے آگے بند باندھا جاتا ہے یا مصنوعی طور پر اُس کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اُس سے سونامی جنم لیتے ہیں، جو تباہی اور بربادی کی علامت ہیں۔ قائد کی قوم بہت سی قباحتوں میں گرفتار ہونے کے باوجود آج بھی مجموعی طور پر کشادہ دل اور لبرل ہے۔ پاکستانی قوم نے کبھی اُن قوتوں کو برسر اقتدار نہیں آنے دیا جن کا منشور اُن کے روشن خیال قائد کی تعلیمات کے منافی ہو، یہ روشن خیالی اسلام سے بے پناہ محبت کی دین ہے۔ بدقسمتی صرف اتنی ہے کہ ہمارے ادارے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ بھارت کا سیاستدان ہمارے سیاستدانوں سے دس گناہ زیادہ کرپٹ ہے، اُن کے مالی اسکینڈلز ہم سے کہیں زیادہ ہیں لیکن اُن کے ادارے INTACTہیں، جس کے نتیجے میں وہ ایک منی سپر پاور بنتا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں کرپٹ اور نااہل لوگوں کو اقتدار میں لانے کی کوششیں ہوتی رہیں اور ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے۔
لیکن مایوسی گناہ ہے، ہمیں پاکستان کو قائداعظم کے خوابوں کا گہوارہ بنانا ہے۔ یہ ملک برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔ اِس کی بنیادوں میں ہمارا خون ہے اور ہم یہ خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ یہ آخری تماشا ہے جو ہم اِن دنوں دیکھ رہے ہیں۔ ناظرین اِس گھسے پٹے تماشے سے اُکتا چکے ہیں۔ میں نے بہت عرصہ قبل ایک پنجابی فلم دیکھی تھی جس میں دو کردار تھے، ایک عورت اور ایک مرد، عورت جس مرد سے شادی کرتی تھی وہ مرد شادی کے اگلے روز فوت ہو جاتا تھا اور مرد جس عورت سے شادی کرتا وہ عورت اگلی صبح انتقال کر جاتی۔ گاؤں والے اِس صورتحال سے پریشان تھے چنانچہ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اُن دونوں کی آپس میں شادی کر دی جائے۔ سو فیصلے پر عمل ہوا اور اُن کی شادی کر دی گئی۔ اگلی صبح اُن دو میں سے کسی ایک کی موت کے منتظر تھے کہ ’کلمہ شہادت‘ کی صدا بلند ہوئی اور ایک جنازہ گلی میں سے گزرتے دیکھا گیا۔ پتا کِیا تو معلوم ہوا کہ جس مولوی نے اُس جوڑے کا نکاح پڑھایا تھا وہ فوت ہو گیا ہے۔ سو آئندہ ادارے کے ’نکاح خواں‘ کو سوچ سمجھ کر اِس کام میں ہاتھ ڈالنا چاہئے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker