عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

امریکہ بھائی جان سے ایک گزارش!۔۔عطا ء الحق قاسمی

کسی”چھوٹے“ کو اس بات کی اجازت تو نہیں ہوتی کہ وہ اپنے ”مالک“ کو کوئی ایسا مشورہ دے جو اسے پسند نہ ہو مگر میں نے سنا ہے کہ ماضی کے جابر شہنشاہوں کو اس نوع کا مشورہ دینے سے قبل اگر کوئی چھوٹا ”جان کی امان پاؤں تو عرض کروں“ کہہ کر صرف مدعا زبان پر لے آتا تھا اور اگر وہ مشورہ اچھے لفظوں میں یعنی ایک قصیدہ نما تمہید کے بعد دیا جاتا اور اس سے شہنشاہ کے مفادات پر بھی ضرب لگنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو یہ مشورہ برداشت کر لیا جاتا لیکن اگر لفظوں کے انتخاب میں قدرے بے احتیاطی ہو جاتی تو مشورہ دینے والے ”چھوٹے“ کی جان کو عالم پناہ اللہ کی امان میں دے دیتے تھے جو ”امان اللہ“ نام کا کوئی جلاد بھی ہو سکتا تھا! میں بھی ایک چھوٹا ہوں اور دنیا کی واحد سپرپاور کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں چنانچہ اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ شہنشاہ عالی مرتبت، اس وقت چہار دانگ عالم میں آپ کے نام کا ڈنکا بجتا ہے۔ جو بے شمار سائنسی معجزے سامنے آئے ہیں ان میں سے بیشتر آپ کے عالی دماغ کی دین ہیں، چنانچہ ہم ایسے پسماندہ ملکوں کے لوگ آپ سے مرعوب بھی ہیں اور آپ کے ان سائنسدانوں کے مداح بھی، جنہوں نے بنی نوع انسان کی دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسے واقعی اشرف المخلوقات کے ٹائٹل کا حقدار ثابت کیا، صرف یہی نہیں بلکہ آپ نے ایک ایسا نظام وضع کیا جو بہت سی خرابیوں کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بہت سی خوبیاں بھی رکھتا ہے، آپ کے پاس آئین اور قانون کتابوں میں بند نہیں ہیں بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں سول ادارے اپنا کام کرتے ہیں اور دفاعی ادارے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ آپ نے اپنے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں بلکہ آسائشیں بھی مہیا کیں۔ آپ نے انصاف کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔ آپ نے نسلی امتیاز کو کافی حد تک ختم کیا، آپ نے تمام مذاہب کے لوگوں کا احترام کیا اور صحیح معنوں میں ایک سیکولر نظام رائج کیا، چنانچہ ان سب چیزوں سے آپ کی عزت، احترام اور وقار میں اضافہ ہوا۔
مگر جہاں پناہ! جو امر آپ کے احترام اور وقار میں اضافے کا باعث بنے تھے ان میں سے بیشتر نائن الیون کے بعد کے اقدامات کی وجہ سے اور صدر محترم ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد سے آپ کی توقیر میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔ آپ کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اپنے مفتوحہ ممالک پر چڑھ دوڑتے؟ آپ کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر آپ کمزور خصوصاً مسلم ممالک میں ٹکتے چلے گئے اور انہیں تباہ و برباد کردیا۔ جہاں پناہ! یہ سب کچھ آپ کے شایان شان نہیں ہے، آپ نے جب آزادی حاصل کی تھی تو دنیا کے انسانوں کو آزادانہ زندگی گزارنے میں مدد دینے کا عہد کیا تھا مگر اب آپ انہیں غلام بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے ہم لوگ آپ کے انصاف کی مثالیں دیا کرتے تھے جو آپ اپنے ملک میں اپنے بدترین دشمنوں سے بھی روا رکھتے تھے مگر اب تو ہمارے پاس مثال دینے کے لئے بھی کچھ نہیں رہا۔ اب تو گوانتا ناموبے اور ابو غریب کی جیل کے علاوہ وہ قوانین اور ان کے تحت ہونے والا وہ جبر سامنے آجاتا ہے جو آپ کے ملک میں نائن الیون کے بعد سیکورٹی کے نام پر لاگو ہوا اور جس پر خود امریکی شہری بھی سراپا احتجاج ہیں۔ آپ نے اپنے سیکولر ازم کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے اور نسلی امتیاز بھی اب زوروں پر نظر آتا ہے۔ آپ سوچیں ابراہم لنکن کی روح ان دنوں کس قدر بے چین ہوگی؟
میرا آپ کو عاجزانہ ہمدردانہ مشورہ ہے کہ آپ واپس اپنی ”بیرکوں“ میں چلے جائیں۔ خود بھی چین سے زندگی بسر کریں اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا حق دیں۔ مرنے والا خواہ افغانی ہو، عراقی ہو یا امریکی وہ بہرحال انسان ہے۔ جنگل کے درندے بھی پیٹ بھرنے کے بعد اپنے پاس سے گزرتے ہوئے کمزور جانوروں کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ آپ اپنے استحصالی معاشی نظام کے ذریعے پسماندہ ملکوں کی کافی دولت سمیٹ چکے ہیں۔ آپ سیر شکم ہیں اب آپ کو سیر چشم بھی ہونا چاہئے اور کمزوروں کو ان کی سرحدوں میں گھاس چرنے کی اجازت دے دینا چاہئے۔ آپ کے پاس ٹیکنالوجی ہے، یہ ٹیکنالوجی بنی نوع انسان کے مفاد کے لئے تھی، اسے بنی نوع انسان کے مفادات غصب کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ ہمارے دلوں میں آپ کے سائنسدانوں، آپکے آئین سازوں، آپ کے قانون دانوں اور آپ کے دانشوروں کے لئے بے پناہ عزت و احترام ہے۔ یہ ہمارے محسن ہیں، یہ ہماری آنکھ کا تارا ہیں۔ انہیں ہمارا گائیڈ بنائیں تاکہ ہم ان سے کچھ سیکھ سکیں۔ اس سے ان کے علم میں برکت پڑے گی اور آپ کے نام کو چار چاند لگ جائیں گے، دلوں میں عزت ظلم، جبر اور استحصال سے نہیں محبت اور دوسروں کے احترام سے پیدا ہوتی ہے۔
جہاں آپ نے پسماندہ ملکوں کے لوگوں کو خود سے بہت دور کر لیا ہے۔ انہیں اپنے قریب لانے کے لئے محبت اور ایثار کا راستہ اختیار کریں، یہی آپ کے لئے بہتر ہے، دنیا میں سدا بہار تو کوئی چیز بھی نہیں۔ بڑے بڑے تناور درخت جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں۔ کڑیل جوان بڑھاپے سے ہوتے ہوئے موت کی گھاٹی میں اتر جاتے ہیں، اسی طرح عالیشان سلطنتیں بھی کھنڈر بن جایا کرتی ہیں۔ ہم ایک شاندار تہذیب کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتے، لہٰذا جہاں پناہ! میری باتوں سے ناراض ہونے کے بجائے ان پر غور کریں اور آخرمیں ایک یاد دہانی یہ کہ میں آپ سے جان کی امان کی درخواست کر چکا ہوں لہٰذا امید ہے یہ امان آپ ہی مجھے فراہم کریں گے اور اس پر عملدرآمد اپنے کسی زرخرید ’’امان اللہ ‘‘نامی جلاد کے ذریعے نہیں کروائیں گے کیونکہ مسلمان ناموں والے بہت سے جلاد ہمہ وقت آپ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker