عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

بڑھاپے میں جوانی کی یادیں۔۔عطا ء الحق قاسمی

میرے ایک بزرگ دوست ہر وقت اپنی جوانی کی تصویریں لئے بیٹھے رہتے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی کمنٹری بھی جاری رہتی۔ کچھ عرصہ قبل وہ ایک بار پھر یہ سب احوال بیان کر رہے تھے۔یہ تصویر دیکھو، جب میں نے لندن میں 32میل لمبی میراتھن ریس میں حصہ لیا تھا اس میں ہزاروں لوگ بھاگ رہے تھے لیکن پھر بھی میں سب کے آخر میں بہرحال نہیں تھا۔ واقعی کیا خوبصورت جوان تھے اور اتنی لمبی دوڑ کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہ تھے۔
انہوں نے اپنی زنبیل میں سے ایک اور تصویر نکالی ’’یہ گروپ فوٹو دیکھو، صرف بیس سال پہلے کا ہے۔ اس میں جو سب سے ہینڈسم جوان نظر آ رہا ہے وہ میں ہوں‘‘۔ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد وہ ایک ایک کر کے میرے سامنے اپنی جوانی کی تصویروں کا ڈھیر لگاتے چلے گئے، اپنے کالج کے دوستوں اور ’’دوستنوں‘‘ کے ساتھ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے، اپنی منگیتر کے ساتھ اور پھر شادی کی ڈھیر ساری تصویریں!
پھر انہوں نے اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناتوانی کی وجہ سے اٹھا نہیں گیا۔ میں نے سہارا دے کر انہیں اٹھایا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کمرے میں گئے۔ واپسی پر ان کے ہاتھ میں خاکی رنگ کے کاغذ کے تین چار بڑے لفافے تھے۔ چند قدم چلنے پر ہی ان کا سانس پھول گیا تھا۔ اب وہ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔
جب ان کا سانس درست ہوا تو بولے ’’اب میں تمہیں تصویر کا دوسرا رخ دکھاتا ہوں‘‘۔ اور پھر انہوں نے یہ رخ دکھانا شروع کر دیا۔’’یہ آرتھو پیڈک سرجن کی رپورٹ ہے اور اس کے ساتھ میرے دونوں گھٹنوں کے ایکسرے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کہتا ہے دونوں گھٹنے نئے ڈالنا پڑیں گے۔ یہ رپورٹ پلمانالوجسٹ کی ہے جس کے مطابق میری سانس کی نالیاں سکڑ گئی ہیں اور پھیپھڑوں کی لچک کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے پہلا سگریٹ ایش ٹرے میں بجھاتے اور نیا سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر کہتا ہے اب آپ باقی عمر مشین پر سانس لیں گے‘‘۔ اب میرے سامنے ایک اور رپورٹ تھی اور بزرگوار فرما رہے تھے ’’یہ میرے پروسٹیٹ (مثانہ) کا الٹرا ساؤنڈ ہے جو انلارج ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے فوراً آپریشن کروا لیں ورنہ آپ ’نکاسی آب‘ کے لئے ترستے رہ جائیں گے!‘‘
وہ جب مجھے تصویر کے دونوں رخ دکھا چکے تو انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور بولے ’’میں اپنے حسن اور جوانی پر بہت مان کیا کرتا تھا، میرا خیال تھا کہ میں کبھی بوڑھا نہیں ہوں گا، کبھی کمزور نہیں ہوں گا، میری خوبصورتی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ اب میری ناتوانی دیکھو، یہ زندگی نہیں جو میں گزار رہا ہوں۔ یہ سراسربے غیرتی ہے جو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے پچکے ہوئے گال مزید پچکاتے ہوئے کہا ’’یہ میری شکل دیکھو، اگر تم نے کبھی زندگی میں بجو نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو‘‘۔ وہ اپنی ہجو بیان کرتے کرتے دوسروں کی ہجو پر بھی اتر آئے۔
’’گزشتہ روز ایک شادی کی دعوت میں ایک بوڑھی عورت سے میری ملاقات ہوئی جو مجھ سے بھی زیادہ بدصورت تھی، میری شکل و صورت کا آدمی بھی اس کا چہرہ زیادہ دیر تک نہیں دیکھ سکتا تھا مگر وہ میرے قریب آئی اور نازو ادا کے ساتھ بولی ’’مجھے آپ نے پہچانا؟‘‘ میں نے بے رخی سے کہا ’’نہیں‘‘ اس نے شرماتے اور اپنے دوپٹے کا پلو اپنی انگلیوں سے مسلتے ہوئے کہا ’’میں رضیہ ہوں‘‘ اب میں تمہیں کیا بتاؤں، یہ رضیہ کون تھی؟ یہ تھی جو میرے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ میں اس پہ دل و جان سے عاشق تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر دونوں کے والدین نہیں مانے!‘‘ اُس کے بعد انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ’’میں بہت دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ کسی خوبصورت مرد اور کسی خوبصورت عورت کو بوڑھا اور بدصورت ہونے کی منزل تک نہیں پہنچنے دینا چاہئے‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’یہ تو فطرت کی منشا کے خلاف ہے!‘‘ بولے ’’میں جانتا ہوں، لیکن میرے پاس اس کا حل ہے!‘‘ میں نے پوچھا ’’وہ کیا؟‘‘ کہنے لگے ’’انہیں وہ وقت آنے پر گولی مار دینی چاہئے، آخر آپ لوگ لنگڑے گھوڑے کو بھی تو گولی مار دیتے ہیں!‘‘
اب میں ان بزرگوار کو کیا بتاتا کہ آپ کا مشورہ آپ اور آپ جیسے دوسرے لوگوں کی بابت تو صحیح نہیں لیکن وقت کے ان فرعونوں اور قارونوں کے حوالے سے اس پر ضرور غور ہو سکتا ہے۔ جو اپنے اندھے اختیارات اور بے پناہ دولت کے بل بوتے پر خدا کے اس قانون کو بھول جاتے ہیں کہ ایک دن یہ سب کچھ ان کے لئے بیکار ہو جائے گا۔ وہ جینا چاہیں گے اور جی نہیں سکیں گے، وہ مرنا چاہیں گے اور مر نہیں سکیں گے!
بزرگوار کی آخری بات نے اگرچہ مجھے اداس کر دیا تھا تاہم میں نے سوچا کہ اگر انہوں نے اپنی طاقت کے زمانے میں آنے والی ناتوانی، خوبصورتی کے زمانے میں بدصورتی، جوانی کے زمانے میں بڑھاپے اور اختیارات کے زمانے میں لاچاری کے بارے میں سوچا ہوتا تو وہ آج اتنے مایوس نظر نہ آتے۔ بہار کے بعد خزاں نے آنا ہی ہوتا ہے اور گو خزاں کے بعد پھر بہار آتی ہے لیکن انسان پر آنے والی خزاں کے مقدر میں کوئی بہار نہیں ہوتی!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker