عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

آتا ہے یاد مجھ کو!۔۔عطا ء الحق قاسمی

آج سے برسہا برس قبل اقبال ٹاؤن پرانے اور نئے لاہور کے خوبصورت امتزاج کا نام تھا۔ جہاں میں نے دس مرلے کے پلاٹ پر ڈیڑھ لاکھ روپے میں گھر بنایا تھا۔ یہاں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ، دانشور، ادیب اور صحافی رہتے تھے۔ میرے گھر سے سو سوا سو قدم کے فاصلہ پر بازار تھا جس میں صفدر کا کریانہ سٹور تھا، جو اس زمانے میں بہت چلتا تھا۔ اس کے ساتھ ڈاکٹر یاسین کا کلینک، سبزی، دودھ کی دکانیں، میڈیکل اسٹور وغیرہ سب کچھ تھا، میں سودا سلف خریدنے اکثر ادھر جاتا اور ظاہر ہے پیدل جاتا تھا جہاں میری ملاقات بٹ صاحب سے بھی ہوتی۔ بٹ صاحب ساری عمر بھاٹی گیٹ میں گزارنے کے بعد تازہ تازہ اقبال ٹاؤن میں وارد ہوئے تھے، اُنہیں یہاں بھاٹی گیٹ والا ماحول نہیں ملتا تھا، وہ یہاں بھی کوئی تھڑا تلاش کرتے تھے جہاں چوکڑی مار کر بیٹھا جائے اور اپنے محلے کی خبریں پورے رازدارانہ انداز میں ایک دوسرے کو سنائی جا سکیں۔ وہ مجھے روک کر کھڑے ہو جاتے اور اکثر کہتے ’’قاسمی صاحب! میرے بچے مجھے زبردستی اس بستی میں لے آئے ہیں، میں تو یہاں کوئی اچھی سی گالی سننے کو ترس گیا ہوں، نہ کوئی کھڑکا دڑکا، نہ کوئی گھسن مُکی، آپ ہی حکم دیں اگر کسی کو پھینٹی شینٹی لگانی ہو‘‘۔ میں اُن کی باتیں سن کر ہنستا رہتا اور سوچتا ہمارے بچے بھی بڑے ظالم ہیں، یہ تناور درخت بننے والے پودوں کو زمین سے نکال کر گملوں میں سجاتے ہیں، چنانچہ یہ Root Lessپودے آہستہ آہستہ مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ایک دن بکھر کر رزق خاک ہو جاتے ہیں اور تناور درخت کبھی نہیں بن پاتے۔
لاحول ولا قوۃ… یہ میں کس طرف چل پڑا ہوں میں تو آپ کو یہ بتانے جا رہا تھا کہ اقبال ٹاؤن کے گھر میں مجھے بہت سکون تھا، مجھے وہ آسائشیں اور سہولتیں تو حاصل نہیں تھیں، جو مجھے آج میسر ہیں، لیکن جب میں کام کاج سے فارغ ہو کر گھر لوٹتا تو اپنے چھوٹے سے ٹی وی لاؤنج میں اپنی فیملی کے ساتھ پی ٹی وی دیکھا کرتا تھا۔ اُس زمانے میں کیبل وغیرہ نہیں ہوتی تھی۔ جب ہم دوستوں کو وقت ملتا، ہم چند قدموں کے فاصلے پر واقع ایک دوسرے کے گھروں میں چلے آتے اور گپ شپ کرتے، کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر بہت بڑا اور خوبصورت پارک گلشن اقبال تھا، جہاں چھٹی کے دن میں بچوں کو لے کر جاتا اور اُن کے ساتھ وہاں دوڑیں لگاتا اور کشتیاں لڑتا۔ یاسر، عمر اور علی تینوں مجھ پر پل پڑتے اور مجھے گرانے کی کوشش کرتے اور میں جان بوجھ کر ہار مان لیتا۔
میں اقبال ٹاؤن کے جہانزیب بلاک میں رہتا تھا جیسا میں نے آپ کو شروع میں بتایا اُس کی گلیاں زیادہ کشادہ نہیں تھیں، چنانچہ اس گلی کے مکین گھر بیٹھے ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے تھے، یہاں ’’ہوم ڈیلیوری سروس‘‘ کا سسٹم بغیر فون کال کے رائج تھا۔ گلی سے گزرنے والے پھل فروش اور دوسرے پھیری لگانے والے بآواز بلند اپنی آمد کا اعلان کرتے ہوئے یہاں سے گزرتے تھے۔ پالش کرنے اور جوتے گانٹھنے کے لئے ایک موچی گلی کی نکڑ پر ہمہ وقت دستیاب تھا۔ کانوں میں ’’منجی پیڑی ٹھکا لو‘‘ کی آواز پڑتی تو یار لوگ اس سے چارپائیاں کسوا لیتے۔ گلی میں کھیلتے بچوں کی چہکاریں بستی کی زندگی کا ثبوت فراہم کرتیں۔ یہاں سب کچھ تھا، امن تھا، سکون تھا، ضرورت کی ہر چیز دروازے پر دستیاب تھی۔ دوست احباب اور محلے دار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے، درمیان میں کوئی خلا نہیں تھا کہ شیطان اپنی جگہ بنا سکے۔ یہاں کوئی احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں تھا، یہاں مال و دولت کی دوڑ نہیں لگی ہوئی تھی، یہاں ادب اور صحافت کے درخشاں ستارے رہتے تھے، یہاں ’’مشرق‘‘ اخبار کے محبوب سبحانی صاحب کا گھر تھا جہاں ہم سب اکٹھے ہوتے تھے اور شہنشاہِ الفاظ، تاجدارِ سخن چوہدری محمد اصغر علی کوثر وڑائچ سر پر پگڑی نہیں کہ وہ تو چھوٹی ہوتی ہے، ’’پگ‘‘ باندھ کر اور لاچا پہن کر اُن محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اور ہاں اپنے مظفر وارثی بھی تو میرے گھر سے ایک آدھ فرلانگ کے فاصلے پر رہتے تھے، کیا خوبصورت ترنم تھا اُس کا اور کیا اچھا شاعر تھا، تاہم میرا یہ دوست اپنی تلخ مزاجی کی وجہ سے زیادہ تر الگ تھلگ ہی نظر آتا۔
اور اب گزشتہ پندرہ بیس برس سے میں ڈی ایچ اے کے ای ایم ای سیکٹر میں رہتا ہوں، کیا خوبصورت بستی ہے، کشادہ سڑکیں، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، بڑے بڑے عالیشان گھر، مہنگی کاریں۔ یہاں افسر، بزنس مین اور میرے جیسے ادب سے دلچسپی رکھنے والے کچھ لوگ بھی رہتے ہیں، یہاں کوئی حال مست ہے، کوئی مال مست ہے، یہاں سب مصروف ہیں، کسی کے پاس مل بیٹھنے کے لئے وقت نہیں ہے، سڑکوں پر صرف کاریں نظر آتی ہیں، کوئی پیدل چلتا دکھائی نہیں دیتا کہ راستہ بھولنے والے اس سے راستہ ہی پوچھ لیں، یہاں چھوٹے موٹے کاموں کے لئے ’’دور دراز کا سفر‘‘ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہاں آکر ہم سب کے رویے بدل گئے ہیں، اس طرح کی بستیاں اپنوں میں بھی فاصلے پیدا کر دیتی ہیں اور اقبال ٹاؤن جیسی بستیاں اجنبیوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہیں۔ یہ کیا ہے، یہ میرا ناسٹلجیا ہے یا کچھ اور ہے۔ میں ناشکری سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور اپنے لکھنے پر اپنے اللہ سے معافی کا خواستگار ہوں۔ میری دعا ہے کہ خداوند کریم اپنی رحمتوں اور نعمتوں کا در وا رکھے اور پاکستان کی ساری جدید اور خوبصورت بستیوں میں اقبال ٹاؤن کی تھوڑی بہت خوشبو بھی پیدا کرے!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker