ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے۔۔ڈاکٹراختر شمار

کرایہ دارکی عادت تھی کہ سونے سے پہلے اپنے جوتے زور سے زمین پر پٹختا، مالک مکان کرائے دار کی اس عادت سے بہت تنگ تھا، اس نے کرائے دار کی سرزنش کی کہ وہ آئندہ ایسا نہ کرے، اس سے ان کی نیند میں خلل پڑتا ہے ، اگلی رات کرائے دار نے حسب عادت جوتا پٹخا…. ابھی اس نے دوسرا جوتا پٹخنے کے لئے اٹھایا ہی تھا کہ اسے مالک مکان کی بات یاد آ گئی اور پھر اس نے دوسرا جوتا آرام سے بغیر آواز پیدا کئے رکھ دیا، صبح چار بجے مالک مکان نے دروازہ دستک دے کر کھلوایا اور بولا: ”اب تم اپنا دوسرا جوتا بھی پٹخ دو تاکہ میں چین سے سو سکوں، کب سے دوسرے جوتے کے پٹخنے کا منتظر ہوں….“ پی ٹی آئی کی حکومت بھی بعض اوقات دوسرا جوتا پٹخنے میں ایسے ہی اذیت سے دوچار کرتی رہتی ہے ، عمران خان عوام الناس کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی ٹیم کے بعض وزراءاپنے بیانات سے ماحول کو خراب کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے….۔
اب رانا ثناءاللہ کی ضمانت کا قصہ ہی لیجئے اس پر وہ دھول اڑ رہی ہے کہ ایک دنیا حیران ہے ، بروقت کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا جاتا، جب سارا میڈیا بلکہ سوشل میڈیا بھی تنقید کر کے حکومت کی بھد اڑاتا ہے تو حکومت کو خیال آتا ہے اور وہ اس معاملے کی تردید کرتی ہے ۔ ملائیشیا کانفرنس پر اتنی باتیں ہوئیں مگر وزیراعظم کی طرف سے ابھی تک کوئی ڈھنگ کا بیان سامنے نہیں آ سکا۔ اگر وزیراعظم ملائیشیا نہ جانے کا فیصلہ کرتے وقت ہی اپنا موقف پیش کر دیتے تو ترکی اور سعودی حکومت کو بھی ”وضاحتوں“ کی ضرورت نہ پڑتی، رانا ثناءاللہ کیس کی ضمانت ہو گئی تو کیا ہوا اس سے قبل ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، زرداری اور نوازشریف کی ضمانتیں بھی تو ہو چکی ہیں، اور ضمانت دینا عدالت کا معاملہ ہے ، حکومت کو صاف بتانا چاہئیے کہ اداروں نے انہیں گرفتار کیا ، عدالتیں ضمانت لے رہی ہیں اور پھر یہ عدالت اور قانون کا معاملہ اس پر شہریار آفریدی کو ”پرجوش قسم“ کی پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت تھی…. ضروری بھی تھا تو کہتے کہ ہم نے کیس بنا کر عدالت کے سامنے پیش کر دیا تھا اب یہ عدالت نے ضمانت لی ہے تو اس پر وہ کیا تبصرہ کریں؟ کیس آگے چلے گا تو دیکھیں گے۔ ثبوت اور ویڈیو، فوٹیج کی باتیں کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ زیادہ سے زیادہ کوئی قانونی چارہ کیا جاتا، پہلے فردوس عاشق اعوان نے ”سخن طرازی“ کی اور عدالت پر ”طنز“ کے نشتر چلائے اور بعد میں وزیر موصوف شہریار آفریدی نے اپنا ”توا“ آپ لگوانے کی بیکار کوشش کی۔ ہم تو چاہتے ہیں حکومت اپنا کام کرے، بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنے کے منصوبوں پر عملدرآمد کرے…. عمران خان کو شیلٹر ہوم بنانے پر عام غریب اور مسکین لوگ دعائیں دے رہے ہیں ان سرد راتوں میں جب سردی نے سب کو ”جام“ کر دیا ہے ، یہ پناہ گاہیں غریب لوگوں کے لئے ”عافیت“ کا درجہ رکھتی ہیں، جہاں انہیں گرم بستر ہی نہیں کھانے پینے اور ”دوا دارو“ کی سہولیات بھی مل رہی ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں کس حکمران نے کبھی سوچا تھا؟ عمران خان کی حکومت اور بھی ایسے اقدامات کر رہی ہے ، مہنگائی کی وجوہات بھی ہیں لیکن غریبوں کو یقین ہے جب حالات اور معیشت بہتر ہوں گے مہنگائی بھی دور ہو جائے گی، ابھی تک تو سابقہ پالیسیوں اور خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش جاری ہے ، ایک نظام بن رہا ہے ، ہر معاملہ ”آن لائن“ کیا جا رہا ہے ، تاکہ لوگ چھوٹے چھوٹے مسائل کے لئے مارے مارے نہ پھرتے رہیں، مگر تیس برسوں کی باقیات اور عادات پر قابوپانے کے لئے وقت درکار ہے ، وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ آئندہ مارچ تک تمام ملک کا نظام یکساں ہو جائے گا، شفقت محمود ایک سنجیدہ انسان ہیں، اگر ایسے دوچار دانشور وزیرمزید ہوتے تو عمران خان کی طاقت میں اضافہ ہوتا، مگر بدقسمتی سے کیمرے پر ”متحرک“ دکھائی دینے والے زیادہ ہیں اور بیشتر بیانات سے پی ٹی آئی حکومت کے لئے خفت کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ مراد سعید، شفقت محمود، شیخ رشید کی کارکردگی قابل تحسین ہے ، باقی ہر وقت ٹی وی سکرین پر بیانات سے اپوزیشن کا مقابلہ کرنا ضروری نہیں۔ البتہ اس سلسلے میں ایک تگڑا وزیر اطلاعات اب بھی عمران خان کی حکومت کے لئے ضروری ہے یہ وزارت شیخ رشید کو ملتی تو زیادہ بہتر کارکردگی سامنے آتی، اسی طرح پنجاب میں بھی اگر شفقت محمود ایسا دانشور وزیراعلیٰ ہوتا تو پنجاب میں لمحہ موجود سے زیادہ توانا حکومت ہوتی، فی الوقت تو پنجاب میں جرائم اور ٹریفک ہی نہیں سنبھالے جا رہے۔ عدالتوں پر ہم بات نہیں کرتے ہیں، قانون پر عملدرآمد کرانا بھی حکومت کا کام ہے ۔ اور اس کے لئے مضبوط اعصاب کے افراد درکار ہوتے ہیں فی الوقت تو ہم اس مصرعے پر کالم ختم کرتے ہیں:
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker