عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

بیتے ہوئے دن!۔۔عطا ء الحق قاسمی

ہمارے شعرائے کرام کے ہاں عہدِ جوانی کا ذکر مختلف حوالوں سے ملتا ہے۔ یہ دور یاد تو سبھی کو آتا ہے مگر اس کا تخلیقی اظہار اللّٰہ کی دین ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں، عدیم ہاشمی نے کہا تھا
یوں دبائے جا رہا ہوں خواہشیں
جیسے اک عہدِ جوانی اور ہے
نجیب احمد کہتا ہے
یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزرے گی
عمر جب کاٹ چکوں گا تو شباب آئے گا
اور پیر و مرشد میر تقی میر کہتے ہیں
عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا
اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں اپنی عمر کا ہر دور بہت عزیز ہے۔ مجھے جہاں اپنا عہدِ جوانی عزیز تھا وہاں عمر کا یہ حصہ بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ اصل بات وہ زاویۂ نظر ہے جس سے آپ حالات و واقعات کو دیکھتے ہیں۔ میں دراصل آج اپنے عہدِ جوانی کی شوخیاں یاد کرنا چاہتا تھا اور یہ جو میں نے ابھی تمہید باندھی تھی وہ یقیناً بلاوجہ تھی، تاہم میرا مقصد غالباً اسٹارٹ لینا تھا جو میں لے چکا ہوں، سو اپنے طالبعلمی کے زمانے میں میرا ایک دوست تھا جسے ہم مرزا، مرزا کہتے تھے۔ ایک دفعہ میں چند روز کے لئے کالج نہ گیا تو اس نے میرے اور اپنے مشترکہ دوستوں کے سامنے کفِ افسوس ملتے اور آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے بتایا کہ عطا ءگزشتہ روز اچانک قضائے الٰہی سے انتقال کر گیا ہے۔ اس پر دوستوں میں صفِ ماتم بچھ گئی (یہ میرا خیال ہے) مگر اگلے روز جب میں کالج پہنچا تو وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے (یہ بھی میرا اپنا خیال ہے) اور انہوں نے مجھے مرزا کی کار گزاری سے آگاہ کیا۔ اس وقت میں خاموش رہا لیکن اس واقعہ کے ایک سال بعد میں انتہائی غم زدہ چہرہ لئے کالج پہنچا اور دوستوں کو اس دردناک حادثے کی اطلاع دی کہ مرزا اپنی زمینوں پر گاؤں گیا ہوا تھا وہاں ایک اڑیل گھوڑے پر سواری کے دوران اس کا ایک پاؤں زین کے پائیدان میں پھنس گیا اور وہ کئی سو میٹر زمین پر رگڑیں کھاتا بالآخر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔ یہ خبر سن کر پریشان تو سبھی دوست ہوئے لیکن مرزا کے ایک انتہائی قریبی دوست انوار نے تو زارو قطار رونا شروع کردیا۔ اس نے اسی وقت سائیکل پکڑی اور مرزا کے گھر پہنچ گیا۔ دستک دینے پر مرزا کا چھوٹا بھائی باہر نکلا، انوار نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا ’’بےحد افسوس ہوا، اللّٰہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے‘‘۔ اتفاق سے ان کے کسی عزیز کا چند روز پہلے انتقال ہوا تھا، چنانچہ مرزا کے بھائی نے کہا ’’اللّٰہ کو یہی منظور تھا‘‘ اس پر انوار نے ’’مرحوم‘‘ کی صفات بیان کرنا شروع کیں اور اس کسرتی جسم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ’’کیا باڈی تھی‘‘ اللّٰہ جانے کیا وجہ تھی کہ مرزا کے بھائی کو یہ تعریف اچھی نہیں لگی اور اس نے انہیں دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ وجہ ہمیں بعد میں معلوم ہوئی کہ فوت ہونے والی کوئی خاتون تھی۔
میں جس کالج کا طالبعلم تھا حسنِ اتفاق سے اُسی کالج میں میری تعیناتی بطور لیکچرار ہوئی، وہاں میرے ایک کولیگ تھے۔ موصوف شاعر بھی تھے، صرف شاعر نہیں بلکہ شاعری میں عجیب و غریب تجربات بھی کرتے رہتے تھے۔ ایک دن وہ کالج آئے تو سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور پٹی پر تازہ خون نظر آرہا تھا، وہ کہیں سائیکل سے گر گئے تھے۔ میں کمرے میں داخل ہوا اور انہیں مخاطب کرکے کہا ’’اوہو آپ کو تو بہت چوٹیں آئی ہیں، کیا مشاعرہ پڑھ کر آرہے ہیں؟‘‘ اس پر وہ شدید غصے کی حالت میں میری طرف لپکے مگر میں ان دنوں کافی تیز دوڑ سکتا تھا، عہدِ جوانی یونہی تو یاد نہیں آتا۔
مجید نظامی صاحب نے جب نوائے وقت سے علیحدگی کے بعد ندائے ملت نکالا تو میں ان کے ساتھ ندائے ملت میں چلا گیا۔ وہاں شروع شروع میں تنخواہیں وقت پر نہیں ملتی تھیں اور جب ملتی تھیں تو قسطوں میں ملتی تھیں۔ اس کے لئے بھی اخبار کے جنرل منیجر رانا نور پرویز کے دفتر میں انہیں سلام کرنے جانا پڑتا تھا اور ان کی حسبِ توفیق تعریف و توصیف کرنا پڑتی تھی۔ ایک روز طبیعت ہجو گوئی پر مائل ہوئی تو میں نے چند شعر لکھ کر اس کی کاپیاں سارے دفتر میں تقسیم کردیں اور ایک کاپی مجید نظامی صاحب کو بھی بھیج دی۔ یہ مجید صاحب کی خوش ذوقی تھی کہ وہ میرا کلام بلاغتِ نظام پڑھ کر بدمزہ نہ ہوئے بلکہ ایک اطلاع کے مطابق انہوں نے اس کی داد بھی دی، وہ شعر یہ تھے۔
کل رات قرض خواہوں کو مشکل سے ٹال کر
دفتر جو پہنچے سب نے دی تنخواہ کی خبر
تنخواہ لینے پہنچے تو بولا یہ کیشئر
فی الحال کتنے پیسوں میں ہو جائے گی گزر
میں نے کہا کہ میرا تو جینا عذاب ہے
ہاتھوں سے قرض خواہوں کے مٹی خراب ہے
ہنس ہنس کے کیشئر نے میری داستاں سنی
پھر یہ دیا جواب کہ اب چھوڑ شاعری
بنتے ہیں چار سو تیرے فی الحال چار رکھ
”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ“
بہرحال تنگی کا یہ زمانہ جلد گزر گیا اور پھر اس کے بعد تنخواہ کبھی لیٹ نہ ہوئی۔
اور آخر میں حاجی صالح محمد صدیق (مرحوم) کا ایک شرارتی جملہ۔ پہلی بات یہ کہ حاجی صاحب حاجی نہیں تھے جس طرح حافظ عزیر احمد حافظ نہیں ہیں، ایک کیشئر تھے، جن کا چہرہ لقوہ سے ٹیڑھا ہو چکا تھا۔ ایک دن حاجی صاحب کو کچھ ایڈوانس رقم کی ضرورت محسوس ہوئی، اس روز کیشئر صاحب نجانے کیوں غصے میں تھے۔ انہوں نے سخت لہجے میں انکار کیا تو حاجی صاحب نے ایک جملہ ایسا کہا جس کی توقع ان جیسے سنجیدہ شخص سے نہیں تھی۔ کہنے لگے ’’برادر آپ ’سیدھےمنہ‘ بات نہیں کر سکتے؟‘‘ اس پر حیرت انگیز طور پر ہمارے اس کیشئر دوست کی بھی ہنسی نکل گئی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker