عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

اتفاق میں بہت برکت ہے مگر۔۔: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

گزشتہ برس امریکہ سے واپسی پر ایک باریش بزرگ میرے پاس تشریف لائے۔ یہ بزرگ دینی نوعیت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ان کا دل قومی اور ملی جذبے سے پوری طرح سرشار ہے۔ انہوں نے مجھ سے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے بارے میں متعدد سوالات کئے جن کا ماحاصل یہ تھا کہ آیا وہاں مقیم پاکستانی مسلمان اپنی آئندہ نسلوں کو سچا مسلمان بنانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ میں نے انہیں بتایا کہ جو پاکستانی اپنی عمر کا موثر حصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد امریکہ جاتے ہیں وہ اپنی ثقافتی اور روحانی پہچان نہ صرف یہ کہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ اس ضمن میں ایک مشنری اسپرٹ کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ وہ مسجدیں تعمیر کررہے ہیں، اسلامی مرکز اور اسلامی ادارے بنا رہے ہیں اور یوں اپنے بچوں کو پاکستانی ثقافت سے روشناس کرانے اوران میں اسلامی روح بیدار رکھنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لانے میں مشغول ہیں۔
تاہم میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جو بچہ امریکہ میں پیدا ہوتا ہے اور وہاں کے ماحول میں جوان ہوتا ہے اسے اپنے نظریات کے مطابق چلانا ناصرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ اسے اپنے راستے پر چلانے کی کوشش اسے سخت ذہنی بحران سے دوچار کرنے کا باعث بھی ہے۔ میں نے بزرگ کو بتایا کہ پہلی نسل تک اپنا ثقافتی اور روحانی ورثہ تو پھر بھی کچھ نہ کچھ منتقل ہو جائے گا لیکن جس نسل کی پرورش یہ نسل کرے گی جو خود ہی نظریاتی طور پر ڈانواں ڈول رہی ہے اس کے بارے میں مجھے کسی قسم کا کوئی حسن ظن نہیں اور اس سے اگلی نسل کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی پہلی نسل خودبھی انتہائی پریشان ہے میں نے بزرگ کو اس سلسلےکے بہت سے واقعات سنائے مثلاً ایک روز میں واشنگٹن میں اپنے ایک پاکستانی دوست کے اپارٹمنٹ میں بیٹھا تھا۔میری نظر کھڑکی سے باہر اجتماعی سوئمنگ پول پر پڑی تو بہت سے امریکی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غسل کے لباس میں نہانےاور ایک دوسرے سے چہلیں کرنے میں مشغول تھے۔ مجھے ان میں سے ایک لڑکی کے خدوخال مشرقی سے لگے تو میں نے اپنے دوست سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ دوست نے بتایا کہ یہ پاکستان کے فلاں سید خاندان کی صاحب زادی ہیں اور جس لڑکے کے ساتھ یہ چہلیں کررہی ہیں وہ یہودی ہے اور آئندہ عشرے میں ان کی شادی ہونے والی ہے۔
اسی طرح سجادہ نشینوں کے خاندان کی ایک لڑکی جس کا باپ پاکستانی مسلمان اور ماں امریکن تھی۔ اپنے عیسائی بوائے فرینڈ کے ساتھ امریکی روزمرہ کے مطابق اسٹیڈی جارہی تھی یہ لڑکی اپنے ثقافتی اور روحانی ورثے سے نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر بے بہرہ ہے بلکہ یہ اسے بے معنی بھی سمجھتی ہے۔ امریکہ میں میرے کچھ دوستوں نے امریکی لڑکیوں سے شادی کی۔ بعد میں طلاق ہوگئی اور اب ان کے بچے اور بچیاں امریکی عیسائی کے طور پر ان کی ماؤں کے گھروں میں پل رہے ہیں۔ پاکستانی لڑکیوں سے شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بھی اپنے رستے خود متعین کرتی ہے اس طرح کی صورت حال کے نتیجے میں کئی پاکستانی والدین کو دل کے دورے پڑ چکے ہیں۔ وہ پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں لیکن کئی وجوہ کی بنا پر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب نہیں ہو پاتے اول تو انہیں اپنی پاکستانی بیویوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو یہاں ساس اور نندوں کی نوک جھونک سے محفوظ ہیں، دوم، جوان اولاد اس ماحول میں رچ بس جانے کی وجہ سے واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور سوم خود یہ پاکستانی، پاکستان میں درپیش معاشی اور سماجی مسائل کے تصور سے اپنے ارادے میں ڈانواں ڈول ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتے ہیں اوراپنے ضمیر کے اطمینان کی خاطر ایک اور مسجد کی تعمیر کے لئے چند ہ اکٹھا کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ موت کا نقارہ بجنے پر اگر مسلمانوں کا قبرستان میسر ہے تو مسلمانوں کے قبرستان میں ورنہ گوروں کے قبرستان میں جا کر ابدی نیند سو جاتے ہیں۔
میں نے اپنی گفتگو کے آخر میں بزرگ سے کہا کہ آپ ماشاء اللہ اپنے دل میں ملک اور قوم کا درد رکھتے ہیں آپ جو کام کررہے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے لیکن اگر پاکستانی معاشرے کو خوب صورت بنانے کے لئے بھی جدوجہد کریں تو شاید لاکھوں پاکستانی مسلمان مادی طور پر بہتر زندگی کے حصول کیلئے ان معاشروں میں آباد ہونے کا خیال ترک کردیں جو آہستہ آہستہ ان کی آئندہ نسلوں کا رابطہ قوم اور ملت سے منقطع کردیتا ہے، اسی طرح ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ باہر جانے کے لاکھوں خواہش مند نوجوانوں کویہ بتایا جائے کہ سماجی اور معاشی مسائل سے نجات پانے کی کتنی بھاری قیمت انہیں ادا کرنا پڑے گی۔ دین سے گہری وابستگی رکھنے والے اس برزگ نے میری باتیں غور سے سنیں اورپھر آخر میں کہا میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں ان شاء اللہ اس سلسلے میں جو بھی بن آیا وہ کروں گا۔
میں نے ایک بات اور بھی کہی اور وہ یہ کہ کچھ لوگ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی مکمل طور پر مغربی سوچ کے حامل ہیں۔ ان کے نزدیک وہ سب باتیں بے معنی ہیں جو میں نے اوپر بیان کی ہیں، چنانچہ میں ان لوگوں سے بھی امریکہ میں ملتا رہا ہوں، وہ اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں جس کا ذکر میں نے کیا ہے، ان کا کہنا ہے ہر شخص کو اپنی زندگی اپنےنظریات اور ماحول کے مطابق گزارنے کا حق ہے۔ مگر آپ جیسی سوچ رکھنے والے ’’جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائیں کیوں؟‘‘ کےمصداق وہاں جا کر آباد ہونے یا اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے کی بجائے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے یہیں کوشاں رہتے ہیں اور یوں وہ سیر و تفریح یا اعلیٰ تعلیم کے لئے بچوں کو باہر بھیجتے ہیں اور ان حالات سے محفوظ رہتے ہیں جو آپ جیسی سوچ رکھنے والے پسند نہیں کرتے۔
میری یہ باتیں سن کر بزرگ نے کہا ’’میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں مگر مجھے یہ بتائیں امریکی سفارت خانے میں آپ کی کوئی واقفیت ہے، اگر ہے تومیرے بیٹے کو ویزا دلوا دیں، میں ساری عمر احسان مند رہوں گا۔‘‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker