عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم۔۔میرے لئے صرف دعا کیا کریں!

جب کبھی ٹی وی آن کریں یا اخبار کھولیں! آپ کو بہت کچھ دیکھنے اور پڑھنے کو مل جاتا ہے مگر میری بدقسمتی کہ میں اب بہت کم ٹی وی دیکھتا ہوں اور بہت کم اخبار پڑھتا ہوں۔ میں اِن دنوں خود کو اور لوگوں کو پڑھنے میں مصروف رہتا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ٹی وی اور اخبار کی طرح مجھے اپنے اِس شوق سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔
تاہم میری خواہش ہے کہ یہ جو ’’پڑھائی‘‘ میں نے کی ہے، اُس کا خلاصہ آپ کے ساتھ شیئر کر لوں۔ میں دوسروں کے حوالے سے اخذ کئے گئے نتائج بیان کرنے کی بجائے صرف اپنے بھید آپ کے سامنے کھولوں گا، اس سے پہلے یہ بتالوں کہ میری زندگی کے بعض اتنے بڑے دکھ ہیں جو میں کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ چنانچہ یہ لاوا میرے اندر پکتا ہے اور اِس سے جو پکوان تیار ہوتا ہے، وہ میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں، مثلاً ایک تو یہ کہ زمانے نے میرے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی۔ میں اِس سے کئی گنا کا مستحق تھا جو زمانے نے مجھے دیا۔ دوسرا یہ کہ میں اندر سے اتنا دکھی ہوں کہ دوسرا لاکھ کہے کہ میں نے تمہارے بارے میں جو بات کہی تھی، وہ ازراہِ تفنن کہی تھی لیکن میں جانتا ہوں زمانہ میری خرابیٔ قسمت کی وجہ سے مجھے درپیش ناکامیوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ انہوں نے میرے زخمی دل کی کس تار کو چھیڑا ہے؟ چنانچہ اُن کی طرف سے میرا دِل صاف نہیں ہوتا۔ تیسرا یہ کہ میری رائے کو حتمی رائے نہیں سمجھا جاتا بلکہ لوگ اس سے محض اس لئے اختلاف کرتے ہیں کہ میں ایک کامیاب زندگی بسر نہیں کر سکا۔ چوتھا یہ کہ زندگی میں جو تھوڑا بہت مجھے ملا ہے، میں اسے اونٹ کے منہ میں زیرہ سے زیادہ نہیں سمجھتا کیونکہ مجھ سے کہیں کم تر لوگ نہایت اعلیٰ زندگی بسر کررہے ہیں۔ میں جب اپنی محرومیوں کا کسی بظاہر ہمدرد دوست سے ذکر کرتا ہوں تو وہ میری ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے آگے سے وعظ شروع کر دیتا ہے کہ دیکھو دنیا میں کروڑوں لوگ انتہائی بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ تم خدا کے فضل سے اُن سے کہیں زیادہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہو۔ یہ تو میں ہی جانتا ہوں کہ میرے اندر ناکامیوں کی کتنی لاشیں گل سڑ رہی ہیں اور اُن کی سڑانڈ سے مجھے ہر وقت اپنا آپ شمشان گھاٹ لگتا ہے جہاں ہندو اپنے مردے جلاتے ہیں۔
کوئی ایک دکھ ہو تو بیان کروں، مجھے تو زمانے نے دکھوں کے سوا کچھ دیا ہی نہیں۔ چنانچہ میرے ملنے والے مجھ سے اکثر گلہ کرتے ہیں کہ تم بہت جلد اور بعض اوقات بالکل بلاوجہ شدید غصے میں آ جاتے ہو۔ مجھے ایک دکھ یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ بظاہر ہمدردی کے طور پر کچھ مشورے دیتے ہیں، جو اُن کے خیال میں میری دکھی زندگی میں قدرے بہتری لا سکتے ہیں مگر میں جانتا ہوں یہ سب طفل تسلیاں ہیں۔ چنانچہ جب میں اُن کے مشورے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں اور اپنی روش پر قائم رہتا ہوں تو وہ مجھے ضدی بھی قرار دینے لگتے ہیں۔ تاہم میرے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو اکثر میرے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور کچھ نہ کچھ عملی طور پر بھی کرتے ہیں مگر کسی ایک موقع پر وہ اپنے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ جب کسی مرحلے پر وہ میرے کسی عمل کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں جس کے نتیجے میں مجھے اُن کی کوئی اچھی بات یاد نہیں رہتی اور وہ میری نظروں سے گر جاتے ہیں۔ کوئی ایک بات ہو تو میں بیان کروں، میں نے ایک دوست کو فون کیا، اُس نے نہیں اُٹھایا، اُس کے بعد وہ تین دفعہ مجھے کال کر چکا ہے مگر اب میں اُس کا فون نہیں اُٹھاتا، یہ لوگ میرے حالات کی وجہ سے مجھے حقیر سمجھنے لگے ہیں۔
میرے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں، مشورے دینے والے بہت ہیں۔ مثلاً یہ کہ کسی کی بات اگر ناگوار گزرے تو حسنِ ظن سے کام لیتے ہوئے سوچو کہ اس کی نیت بری نہیں تھی مگر میں کوئی بےوقوف نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اُس نے یہ بات کیوں کہی تھی، چنانچہ میں وہ بات کبھی نہیں بھول پاتا جس پر مجھے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر واقعی تم اس کی بات کا صحیح مطلب سمجھے ہو تو بھی اسے معاف کر دو… مگر میں کیسے معاف کر سکتا ہوں، کیا زمانے نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے کہ میں اس کے مظالم بھول جاؤں اور اس کی زیادتیاں بھول کر اس کی طرف سے کی گئی اپنی توہین کو دماغ سے نکال دوں اور سب کو معاف کرتا چلا جاؤں؟ میرا دل اِس وقت اندر سے ہچکیاں لے لے کر روتا ہے جب کوئی ’’ہمدرد‘‘ مجھے کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مشورہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ انسانی ذہن کی توڑ پھوڑ بلاوجہ نہیں ہوتی اور ماہرینِ نفسیات بہت حد تک اِس توڑ پھوڑ کی مرمت کر سکتے ہیں… دوسرے لفظوں میں یہ لوگ مجھے پاگل قرار دے ڈالتے ہیں۔ پاگل میں نہیں۔ پاگل وہ خود ہیں جو مجھے سمجھ نہیں پائے۔
اب ایک آخری بات! مجھے اپنے بارے میں کچھ ایسے جملے بھی سننے کو ملتے ہیں کہ یہ شخص انتہائی درد مند ہے، کسی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو اس سے زیادہ خود تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے، یہ جن لوگوں سے محبت کرتا ہے، ٹوٹ کے محبت کرتا ہے اور ان کے کسی دکھ کو دور کرنے کے لئے اپنے دن کا سکون اور رات کا چین بھی برباد کر ڈالتا ہے۔ اس کے اپنے ذرائع آمدنی کچھ زیادہ نہیں ہیں مگر ضرورت مندوں کی حاجت پوری کرنے کے لئے خود کو تکلیف میں ڈال دیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں بعض انسانی خوبیاں ایسی بھی ہیں جن کی بدولت اس کا شمار بہترین انسانوں میں ہوتا ہے… بس اس کے بعد وہ ایک لفظ ’’لیکن‘‘ لگاتے ہیں اور وہ سب باتیں گنواتے ہیں جن میں قصور دوسروں کا ہوتا ہے مگر ان کا ملبہ مجھ پر ڈال دیتے ہیں۔ کاش یہ لوگ کبھی مجھے سمجھ سکیں مگر کیسے سمجھیں یہ ان دکھوں سے گزرے ہی نہیں۔ جن میں میری ساری زندگی گزری ہے! اور میں آخر میں آپ سے صرف یہ درخواست کروں گا کہ براہِ کرم مجھے مشورے دینے کے بجائے میرے لئے صرف دعا کرتے رہا کریں کہ اللہ مجھے سکون کی زندگی عطا کرے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker