عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:نجیب احمد اور شفیق سلیمی کا سفر آخرت!

انسان بوڑھا ہو یا جوان، اس کی زندگی میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جب اس کی ذہنی کیفیت ایک سی ہو جاتی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ احساسات بھی عموماً غم و اندوہ کی صورت میں یکساں ہوتے ہیں، میں کچھ عرصے سے وقفے وقفے کے بعد خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگا ہوں۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران پاکستان اور بیرون پاکستان سے کئی شعرا، ادباء اور فنونِ لطیفہ سے متعلقہ اہم شخصیات کے انتقال کی خبریں سننے کو ملتی رہیں، ان سب خبروں نے دل کو ملول کیا مگر جن لوگوں کے ساتھ آپ نے ساری زندگی خصوصاً آدھی آدھی رات تک ریستورانوں اور سڑکوں پر گزار ی ہو، ان کا جدا ہونا آپ کے جسم کے ایک حصے کے جدا ہونے کے برابر ہے۔
خالد احمد کے بعد اب نجیب احمد بھی مجھے مزید ادھورا کر گیا ہے، جب مجھے اس کے انتقال کی خبر ملی، مجھے اپنی ذہنی اور جسمانی ناتوانی سے محسوس ہوا کہ میں اچانک مزید بوڑھا ہوگیا ہوں۔ چنانچہ میرا صدمہ دہرا تھا۔خالد احمد اور نجیب کے ذکر کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، دونوں ایک دوسرے کے جانثار دوست اور دونوں صفِ اول کے شاعر۔ میری ان سے دوستی تو اللہ جانے کتنی پرانی ہے مگر ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میں سے ایک ایک لمحہ یاد ہے۔ خالد ادبی بیٹھک میں اپنے شاگردوں کے درمیان بیٹھا ہوتا، ان کو شاعری کے اسرار و رموز بھی سکھا رہا ہوتا اور یہ انہی لمحوں میں سامنے بیٹھے اپنے کسی ہم عصر کی کھال اتارنا شروع کردیتا، لیکن اس کا یہ مقابل ہی آخر اس کا مدمقابل ہوتا تھا، چنانچہ اس کے جوابی حملے بھی بہت خطرناک ہوتے تھے مگر دونوں سے اس چھیڑ چھاڑ کی بنیاد عناد نہیں پیار ہوتا تھا۔ خیر جہاں تک نجیب کا تعلق ہے یہ انتہائی نستعلیق شاعر ہونے کے باوجود اپنی بول چال، جملے بازی اور رہن سہن میں پکا لاہوری ہی نہیں پکا ’’اندرون لاہوری‘‘ بھی لگتا تھا، اس کی دوستی ہر طرح کے لوگوں سے تھی۔ مجھے مولوی مہاج نہیںبھولتا ( میں کیا کروں، اس کا نام ہی یہی تھا) یہ مولوی مہاج رج کے کج بحث تھا، کسی پڑھے لکھے شخص کا اس سے چند منٹ بات کرنا ہی اختلاجِ قلب کے لئے کافی تھا، مگر نجیب احمد اس کی کج بحثی کے جواب میں دس گنا زیادہ کج بحثی سے کام لیتا اور ساتھ ساتھ ہنستا جاتا، جب ہم میکلوڈ روڈ کے ایک ریستوران میں گھنٹوں گپ شپ کرنے کے بعد محسوس کرتے کہ خالی پیٹ کوئی اچھی یا بری بات بھی زیادہ دیر نہیں کی جا سکتی تو ہم میں سے کوئی سخی مٹن ہانڈی کا آرڈر کرتا مگر نجیب اٹھ کر باہر ’’کاریگر‘‘ کے سامنے گوشت کٹواتا، اپنے سامنے سارے مدارج کرواتا اور جب اسے یقین ہو جاتا کہ اب دکاندار کے پاس ہماری مرضی کی ہانڈی میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں رہی تو وہ بھی آ کر ہمارے قہقہہ بار ’’اجلاس‘‘ میں بطور مہمانِ خصوصی بیٹھ جاتا۔ ’’صدر محفل‘‘ تو خالد احمد ہوتا تھا کہ اس جیسے (اعلیٰ درجے کے شاعر ہونے کے علاوہ) جملے باز کی موجودگی میں یہ استحقاق صرف اسی کا تھا۔
اور جب میں نجیب احمد کی میت کو کاندھا دے رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ کیا یہ میت واقعی اس شاعر کی ہے جس کا میں نے احوال بیان کیا ہے اور جس نے کہا تھا:
کھلنڈرا سا کوئی بچہ ہے دریا
سمندر تک اچھلتا جا رہا ہے
نہ کچھ کہتا نہ کچھ سنتا ہے کوئی
فقط پہلو بدلتا جا رہا ہے
……..
ایک رہِ ویران ہم بھی ہیں مگر لگتے نہیں
دور تک سنسان ہم بھی ہیں مگر لگتے نہیں
……..
وجود ان کا ہے سورج ڈوبنے تک
یہ انساں ہیں کہ سائے جا رہے ہیں
………
بگولوں سے ملاقاتیں رہی ہیں
بیاباں سے گزرتا کارواں ہوں
بس …..میں اگر انتخاب پر آیا تو اس کا آخری شعری مجموعہ ’’گریزاں‘‘ سارے کا سارا نقل کرنا پڑے گا۔ نجیب یار، نہ تم کبھی بھول سکو گے اور نہ تمہاری شاعری، مگر ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ تمہیں جانے کی اتنی جلدی کیا تھی؟
اور اب شفیق سلیمی۔ شفیق سلیمی سے میری ملاقاتیں ابوظہبی اور دوبئی کے علاوہ پاکستان میں بھی ہوتی رہیں، شفیق نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا اور بالآخر وہ پاکستان آگیا مگر یہاں اس سے ملاقاتیں بہت کم رہیں، شفیق اردو کے سینئر اور صاحبِ اسلوب شاعر جلیل عالی کا بھائی ہے جو میرا کالج فیلو بھی رہا ہے۔ شفیق سے پاکستان میں ملاقاتیں اگرچہ کم رہیں مگر ہماری محبت میں کوئی کمی نہیں آئی ، میں اسے ’’بڈھا شیر‘‘کہتا تھا، جس پر وہ کھلکھلاکر ہنستا تھا، میں جب پرویز مشرف کےاقتدار پر قبضہ کے بعد تھائی لینڈ کی سفارت سے مستعفی ہوکر واپس پاکستان آیا تو میں نے آتے ہی ایک کالم لکھا، جس کا عنوان شفیق سلیمی کے ایک شعر کا یہ مصرعہ تھا: اب لوٹ کے آئے ہوتو گھر کیسا لگا ہے؟
سلیمی کا پورا شعر ہی بہت خوبصورت تھا۔
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھرکیسا لگا ہے
اب میں سلیمی سے پوچھنا چاہوں بھی تو پوچھ نہیں سکتا کہ تم جن بے نام دیاروں کے سفر پر اب روانہ ہوئے ہو کیا یہ سفر بہت ضروری تھا، چلو کم سے کم دوستوں کو الوداع کہنے کا موقع تو دیتے مگر تم نے تو یہ خبر ہم تک صرف اخبار کے ذریعے پہنچائی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker