عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

1971 سے 2018 تک!:روزن دیوارسے / عطا ء الحق قاسمی

مجھے تو اب کچھ یوں لگتا ہے کہ یہ سونا بھی ایک فن لطیف ہے اور یوں اسے باقاعدہ ’’فنون لطیفہ‘‘ میں شامل ہونا چاہئے ۔مثلا میرے ایک دوست احباب کے ساتھ گپ شپ کرتے، لطیفے سناتے اور قہقہےلگاتے ہوئے اچانک جیب میں سے تاریک شیشوں کی عینک نکالتے ہیں اور پھر کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر چند منٹوں کی خاموشی اختیار کرتے ہیں۔یہ چند منٹوں کی خاموشی دراصل ان کا ’’قیلولہ‘‘ ہوتی ہے مگر احباب کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ عینک دوبارہ جیب میں ڈال کر میز پر کہنیاں ٹیکتے ہوئے ازسر نو ایک قہقہہ لگاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ حضرات میں اپنی نیند پوری کر چکا ہوں اور اس کے بعد یہ حضرت واقعی تازہ دم نظر آنے لگتے ہیں ۔کچھ ماہر فن میںنے ایسے بھی دیکھے ہیں جو کسی ادبی محفل میں مضمون، افسانہ یا غزل پڑھے جانے کے دوران باقاعدہ خواب استراحت کے مزے لے رہے ہوتے ہیں لیکن جب اس فن پارے پر بحث کا آغاز ہوتا ہے تو ان کی فیصلہ کن قسم کی گفتگو سے یوں لگتا ہے جیسے اس فن پارے کی ریڈنگ کے دوران باقی شرکائے محفل تو سوئے ہوئے تھے صرف وہی جاگ رہے تھے لیکن کچھ سونے والے ان کےسوا بھی ہیں اور یہ وہ احباب خوابیدہ ہیں جن کا مقابلہ کوئی مائی دا لال نہیں کر سکتا۔ان میں میرے ایک دوست بھی شامل ہیں اور اگر اسے ’’اقربا پروری ‘‘ نہ سمجھا جائے تو یقین جانیں
کہ فی زمانہ وہ اس فن کے چمپئن ہیں ۔یہ حضرت گفتگو کرتے کرتے اچانک خاموش ہو جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان کی ٹھوڑی ایک جھٹکے کے ساتھ ان کے سینے کے ساتھ جا لگتی ہے اور پھر ان کے نتھنوں سے خرخراہٹ سی سنائی دینے لگتی ہے۔اس فعل کے دوران ان کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور بسااوقات کھلی بھی رہتی ہیں لیکن یہ کیفیت صرف ایک منٹ تک برقرار رہتی ہے اس کے بعد وہ دوبارہ ’’سربلند‘‘ ہوتے ہیں اور گفتگو جہاں سے چھوڑی تھی وہیں سے شروع کر دیتے ہیں مگر دوتین فقروں کے بعد دوبارہ ٹھوڑی ایک جھٹکے کے ساتھ ان کے سینے کے ساتھ جا ٹکراتی ہے پھر خراٹوں کی آواز آتی ہے اور اس کے ایک منٹ بعد دوبارہ اپنی گفتگو کا ’’بقیہ ‘‘ بیان فرمانے لگتے ہیں۔ان کے ساتھ بات چیت کا ایک سین ملاحظہ فرمائیں ۔
’’یار کل تم نے آنے کا وعدہ کیا تھا ، مگر تم آئے ہی نہیں‘‘
’’وہ دراصل میں ایک کام میں ایسا الجھا کہ کوشش کے باوجود نہ آ سکا۔میں اس کے لئے معافی خر۔خر۔ خر۔ خر۔ خر…چاہتا ہوں ‘‘
’’کل کا کیا پروگرام ہے ‘‘؟
’’کل تو میں نہیں آ سکوں گا ‘‘
’’کیوں‘‘
’’میں کئی دنوں سے ایک منٹ کے لئے بھی… خر۔خر۔ خر۔ خر۔ خرسو نہیں سکا ۔کل ذرا سونا چاہتا ہوں ۔‘‘
اپنے اس دوست کے ساتھ متعدد بار ٹیلی فون پر بھی میری گفتگو ہوئی ہے اس کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے۔
’’ہیلو خاور‘‘
’’ہاں بول رہا ہوں‘‘
’’تم ابھی گھر پر ہی ہوکہیں جانا تو نہیں‘‘
’’ خر۔خر۔ خر۔ خر۔ خر‘‘
’’ہیلو ‘‘
’’ خر۔خر۔خر۔خر۔ خر‘‘
’’ہیلو۔ ہیلو ‘‘
’’ خر۔خر۔ خر‘‘
’’ہیلو‘‘
’’خر‘‘
پہلے تو میں سمجھتا تھا کہ شاید سونے کا یہ انداز بھی اپنی نوع کا فن لطیفہ ہے ۔لیکن ایک ڈاکٹر دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے تردید کی اور کہا کہ سونے کا یہ انداز فنون ’’لطیفہ‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا ، بلکہ یہ ایک بیماری ہے میں نے اس بیمار ی کے عوامل پوچھے تو انہوں نے کہا یہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔بس تم میرے کہے پر اعتبار کر لو۔سو میں نے اپنے اس ڈاکٹر دوست کے کہنے پر اعتبار تو کر لیا مگر طبیعت خاصی مکدر ہو گئی کہ ان کی اس ’’تشخیص‘‘ کا اطلاق تو پاکستانی قوم پر بھی ہوتا ہے ۔ہم لوگ بھی ڈائیلاگ ادھورا چھوڑ کر درمیان میں خراٹے لینے لگتے ہیں اور اس دوران کوئی بھیانک خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں مگر اس وقت تک چڑیاں کھیت چگ گئی ہوتی ہیں ہم نے مشرقی پاکستان کے ساتھ بھی ادھورا ڈائیلاگ کیا ۔’’ہیلو‘‘ کے جواب میں انہیں ہماری خرخراہٹ سنائی دیتی رہی اور پھر ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ ہمارے 71سال سوتے جاگتے کا قصہ ہیں اور ہم اس قصے کے مرکزی کردار ہیں!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker