عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

رمضان میں بے روزہ گاروں کے مسائل!:روزن دیوارسے/ عطا ء الحق قاسمی

گزشتہ روز میں نے ایک دوست کو فون کرنے کے لئے اس کا نمبر ملایا، تو درمیان میں کراس ٹاکنگ سنائی دی جو دو ہم نوالا وہم پیالہ قسم کے درمیان جاری تھی۔ یہ گفتگو آپ کی نذر ہے۔
’’یار رمضان کی وجہ سے برا حال ہے کچھ انتظام ہوا؟‘‘
’’کوشش کررہا ہوں کہ کسی سے رابطہ ہوجائے‘‘۔
’’اتنے دن گزر گئے ہیں اور تمہارا ابھی تک رابطہ ہی نہیں ہوا‘‘۔
’’یار سختی بہت ہے ورنہ حال میرا بھی وہی ہے جو تمہاراہے‘‘۔
’’اگر تمہارا حال برا ہوتا تو اب تک تم نے مل بیٹھنے کا کوئی انتظام کرلیا ہوتا‘‘۔
’’تو تم کیا سمجھتے ہو میں جان بوجھ کر انتظام نہیں کررہا؟‘‘۔
’’لگتا تو یہی ہے ورنہ گلبرگ، ڈیفنس اور ماڈل ٹاؤن ایسی بستیوں میں کچھ نہ کچھ تو مل ہی سکتا تھا‘‘۔
’’تم ایک بات کیوں نہیں سمجھتے کہ رمضان کے مہینے میں سب لوگ یہ کاروبار بند کردیتے ہیں۔ گنہگار سے گنہگار شخص بھی ا س مہینے میں نمازی پرہیز گار بن جاتا ہے، آخر ان لوگوں نے بھی تو اپنے گناہ بخشوانے ہوتے ہیں۔
’’مگر یہ کام تو تم اپنے ایک کرسچن دوست سے لیتے ہو‘‘۔
’’وہ اپنے گاؤں گیا ہوا ہے‘‘۔
’’تم یوں کرو کہ اقبال ٹاؤن کی مارکیٹ کے پیچھے…..‘‘
’’خدا کے لئے اس اڈے کا نام نہ لو، کل میں بال بال بچا ہوں، میں کل جب وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ میرے پہنچنے سے صرف پانچ منٹ پہلے چھاپہ پڑا تھا۔ پولیس نے سب مال قبضے میں لے لیا اور وہاں پر موجود گاہکوں کو بھی پکڑ کر لے گئی‘‘۔
’’اچھا چلو شکر ہے تم بچ گئے ورنہ بہت بدنامی ہوتی، تمہیں یاد ہے پچھلے سال ایک تانگے والا ہمیں ایک ویران سے مقام پر لے گیا تھا جہاں سیوریج ڈالنے کے لئے ایک بہت بڑا موگا پڑا ہوا تھا۔ اس کے سیٹی بجانے پر خانہ بدوشوں کی جھونپڑی سے منہ میں سگریٹ دبائے اور کاندھوں پر پرنا ڈالے ایک شخص نکلا تھا، جس نے ادھر ادھر دیکھ کر چار سلائس اور کباب ہمیں تھمائے تھے اور کہا تھا کہ اس موگے میں گھس کر کھالو، یار اسی کا پتہ کرو اس کے پاس اور بھی بہت کچھ ہے‘‘۔
’’پتہ کیا تھا، وہ بیچارا فوت ہوگیا ہے، رمضان کے مہینے میں ہم ایسوں کا وہی سہارا تھا جو ہمیں کھانے اور پینے کی چیزیں سپلائی کرتا تھا، اللہ بخشے بہت نیک آدمی تھا‘‘۔
سو ان دنوں صورتحال واقعی کچھ اسی قسم کی ہے۔ روزہ خور سارا دن ایسی جگہوں کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں ان کے کام ودہن کی تسکین کا کچھ انتظام ہوسکے، احترام رمضان کے داعی ایسے لوگوں کی ٹوہ میں رہتے ہیں، جب کوئی ایسا گروہ اشیائے خورونوش کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے تو یہ لوگ سامان قبضے میں لے کر خود کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ رمضان میں کھانے پینے کی دکانوں پر اسی طرح تالے پڑے ہوتے تھے جیسے آج پڑے ہوتے ہیں مگر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا احترام رمضان میں ہوٹل بند ہے۔ کھانا کھانے کے لئے پچھلے دروازے سے تشریف لائیں، مگر اب کئی برسوں سے گنہگاروں کی عیب پوشی کا یہ رجحان ختم ہو کر رہ گیا ہے، تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ گنہگاروں میں مریضوں کی عیادت اور عزیز و اقربا کے اکرام ایسی نیکیاں در آئی ہیں، چنانچہ ان دنوں اسپتالوں کی کینٹینوں میں ان نیک دل افراد کا ہجوم ہوتا ہے جو مریضوں کی ’’عیادت‘‘ سے فراغت کے بعد وہاں بیٹھے چائے پی رہے ہوتے ہیں اور سگریٹ کا دھواں اڑا رہے ہوتے ہیں، اسی طرح ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارموں پر آج کل تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی جہاں اپنے عزیز و اقارب کو الواداع کہنے کے بعد یار لوگ کھانے پر ہاتھ صاف کررہے ہوتے ہیں، میں نے ٹیلی فون پر جن دو لاچار دوستوں کی گفتگو سنی تھی ان بیچاروں کو غالباً محفوظ ترین اڈوں کا علم نہیں تھا۔
ہمارے ہاں چونکہ اسلام کی زیادہ ضرورت غریبوں کو ہے چنانچہ غریب مسافروں، غریب بیماروں اور غریب غیر مسلموں کو جو سہولت اسلام دیتا ہے ہم نے وہ واپس لے لی ہیں، چنانچہ شہر میں غریبوں کے سارے ہوٹل رمضان کے مہینے میں بند رہتے ہیں چونکہ امیروں کو اسلام کی چنداں ضرورت نہیں اس لئے امیروں کے لئے بنے ہوئے ہوٹلوں اور کلبوں میں کام ودہن کی لذت کا اہتمام موجود ہے۔ کسی زمانے میں وہ آپ کو ایک فارم دیا کرتے تھے جس پر مریض، مسافر اور غیر مسلم لکھا ہوتا تھا۔ آپ ان میں سے کسی ایک کو ٹک مارک کر دیں۔ کھانا آپ کی خدمت میں پیش کردیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ ایک ستم ظریف نے ان تینوں آپشنز پر لکیر پھیر کرچوتھے نمبر پر اپنے ہاتھ سےHungry(بھوکا) لکھا اسے ٹک مارک کیا اور ہوٹل کی امیر پرور انتظامیہ نے اس بھوکے کو روٹی کھلا کر اس کی ڈھیروںدعائیں سمیٹیں، رمضان المبارک میں ایسے رحم دل لوگ صرف فائیو اسٹار مقامات ہی میں ملتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker