عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:سنو گپ شپ!

میں گزشتہ ایک ہفتہ یونیورسٹی آف لاہور کے ٹیچنگ ہسپتال میں گزار کر آیا ہوں، آپ یقیناً سوچیں گے کہ کیوں ؟میں آپ کی یہ الجھن دور کرنے سے پہلے ایک مختصر سی بات سنا دوں، ایک بزرگ بہت ہی نفیس اور نستعلیق تھے، ایک بار ملاقات پر فرمانے لگے والد محترم کو میرا سلام کہئے گا، میں جی انشااللہ کہہ کر چلنے لگا تو فرمایا میری طرف سے ان کا شکریہ بھی ادا کر دیجئے گا۔ میں نے پوچھا،’’ کس بات کا شکریہ۔‘‘ بزرگ محترم بولے، ’’بس ایسے ہی۔ ‘‘ تو میرا بھی پہلا جواب یہی ہے کہ ہسپتال میں بھی بس ایسے ہی داخل ہوا تھا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ بہت عرصہ سے ہسپتال داخل نہیں ہوا تھا مگر تیسرا اور اعلیٰ جواب یہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے چھوٹے موٹے گونا گو ںمسائل محسوس ہو رہے تھے چناں چہ میں نے سوچا کہ ہر ضلع کے لئے مختلف ڈاکٹروں کے پاس علیحدہ علیحدہ جاناپڑے گا جب کہ ہسپتال میں ان سب سے خودبخود ملاقات ہو جائے گی چناں چہ میں نے ہمدم دیرینہ ڈاکٹر زاہد پرویز کو کال کی۔ آگے چلنے سے پہلے بتا دوں کہ جب آپ بیش تر لوگوں کوقریب سے دیکھنے کے بعد انسانیت سے مایوس ہونے لگیں تو ڈاکٹر زاہد پرویز سے مل لیں جس سے ایک بار پھر انسانیت پر آپ کا اعتماد بحال ہو جائے گا، بہرحال میرے ہسپتال پہنچنے سے پہلے میرا کمرہ تیار ہو چکا تھا اور ایک سینئر ڈاکٹر میری ہسٹری لینے کےلئے میرے منتظر تھے ۔
ان کے تشریف لے جانے کے بعد ایک ماہرِ نفسیات تشریف لائے، پوچھا کیا پرابلم ہے آپ کو؟ میں نے عرض کی کہ حافظہ کمزور ہو گیا ہے۔ بولے آپ کی شادی کب ہوئی تھی؟ میں نے جواب دیا 9اپریل کو۔ ان کا اگلا سوال تھا سن کون سا تھا؟ میں نے عرض کیا،یاد نہیں۔یہ یقین ضرورہے کہ شادی نو اپریل ہی کو ہوئی تھی ۔انہوں نے پوچھا یہ یقین کیسے ہے؟ میں بولا ، چوں کہ اس دن بھٹو حکومت کے خلاف ایک جلوس میں خاصی مارومار ہوئی تھی اور یوں اس واقعہ کی مناسبت سے مجھے شادی کی تاریخ یاد ہے ۔ماہرِ نفسیات مسکرا دیے پھر اپنے دھیان میں بولے ابھی میں آپ سے کیا پوچھ رہا تھا۔ میں نے عرض کی میری شادی کے بارے میں۔ بولے سوری مصروفیات اتنی ہیں کہ چیزیں ذہن سے نکل جاتی ہیں ۔پھر پوچھا آپ کے بچے کتنے ہیں؟ میں نے عرض کی ابھی تک تو تین ہی ہیں۔ پوچھا آپ کے آئندہ عزائم کیا ہیں؟ میں نے کہا، میرے عزائم اب بے معنی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا پھر کچھ سوچنے لگ گئے ۔کسی گہری سوچ سے باہر آئے تو بولے آپ نے کتنے بچے بتائے تھے ؟ میں نے عرض کی تین بتائے تھے اور میں ابھی تک اپنی بات پر قائم ہوں !
ڈاکٹر صاحب بہت مشفق اورمہربان تھے، کہنے لگے، مجھے تو آپ کا حافظہ کمزور نہیں لگتا کوئی اور مسئلہ بتائیں۔ میں نے عرض کی میں پوری روانی سے اپنی بات نہیں کر سکتا، ادھر ادھر بھٹک جاتا ہوں، ابھی کل کی ہی بات ہے میں ایک مال میں شاپنگ کے لئے گیا سیلز مین نے پوچھا آپ کو کیا کیا چیز درکار ہے؟ میں نے تفصیل بتائی تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا ،باقی سب کچھ آپ کو مل جائے گا لیکن ہم اونٹ اور ہاتھی فروخت نہیں کرتے ۔اس پر ڈاکٹر صاحب پریشان ہو گئے اور بولے، کمال ہے اتنا بڑا مال اور یہ دو چھوٹی چھوٹی چیزیں ان کے پاس نہیں تھیں ۔میں قارئین سے معذرت چاہتا ہوں کہ ابھی تک جو کچھ لکھا تھا وہ سب بے بنیاد تھا اور محض گپ شپ تھی حالانکہ جس ماہر نفسیات سے میری بات ہوئی وہ بہت معقول تھے،انہوں نے میری یادداشت کو بالکل صحیح قرار دیا اور کہاہر انسان انسان ہی ہوتا ہے کمپیوٹر نہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ میں نے جو کچھ اوپر لکھا، میرے ذہن میں کچھ اور ماہرین نفسیات تھے وہ دن میں اتنے مریض دیکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ
رانجھا رانجھا کردی نی، میں آپے رانجھا ہوئی
اس مصرعے کے مطابق ہو جاتا ہے
آخر میں ماہ محرم کی مناسبت سے قمر رضا شہزاد کا ایک نوحہ :
مشک اٹھا کر لاتا ہوں اور روتا ہوں
سارا دن اک پیاس کو سر پر ڈھوتا ہوں
ایک جوان کا لاشہ دھیان میں آتا ہے
پھولوں سے جب کوئی ہار پروتا ہوں
چاروں سمت حسینؓ حسینؓ کی آوازیں
گھر میں کب میں اک خیمے میں ہوتا ہوں
شاید ایسے تیرا صدقہ دے پاؤں
خون سے اپنا سارا جسم بھگوتا ہوں
اک معصوم کی چیخیں پیچھا کرتی ہیں
جاگ اٹھتا ہوں جس لمحے بھی سوتا ہوں
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker