ایاز امیرکالملکھاری

کسی کا تھانے سے ہو آنا۔۔ایازامیر

جو لفنٹریاں ہم ٹی وی پہ مارتے ہیں وہ پروگرام کرنے کیلئے آج کل اسلام آباد جانا ہوتا ہے۔ لاہور کے پھیرے بہت کیے اور وہاں پروگرام کرنے کیلئے چار دن لگ جاتے تھے۔ تنگ آ کر اسلام آباد کا فیصلہ کیا۔ لیکن پچھلے ہفتے مال روڈ لاہور پہ واقع جس کلب سے ہمارا واجبی سا تعلق ہے‘ اُس کے تین سال بعد الیکشن ہو رہے تھے تو سوچا لاہور کی سیر بھی کر آتے ہیں، دیکھتے ہیں وہاں ہمیں کوئی خیرات ڈالتا ہے اور ساتھ ہی کلب کے الیکشن میں ووٹ بھی ڈال آتے ہیں۔
جتنی گہماگہمی کلب میں تھی اتنی شاید صدر پاکستان کے الیکشن میں دیکھنے کو نہ ملے۔ کئی ممبران وہیل چیئرز پہ ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ قطار لمبی تھی‘ لہٰذا ووٹ ڈالنے کیلئے کافی وقت لگا۔ لیکن بہت سے پرانے دوست بھی ملے اور گپ شپ بھی خوب ہوئی؛ البتہ ایک معمولی سا حادثہ بھی ہو گیا۔ ایک صاحب نے‘ جن کا تعلق بھیرہ سے ہے‘ وہ کسی وجہ سے معذور تھے اور کرسی سے اُٹھ نہیں سکتے تھے‘ کسی کو میرے پاس بھیجا یہ کہہ کے کہ بات کرنی ہے۔ میں اُن کے پاس گیا تو انہوں نے معذرت چاہی کہ کرسی سے اُٹھ نہیں سکتے‘ لیکن فوراً اس بھلے مانسی کے بعد سوال میرے منہ پہ دے مارا کہ میاں نواز شریف نے کون سا اتنا بڑا جرم کیا کہ تمہیں ٹکٹ نہیں دیا اور تم اُن کو بخشتے نہیں۔ میں ہنس پڑا اور کہا کہ حضور آج کل تو میاں صاحب یاد ہی نہیں رہتے، جو گولے برسانے ہوتے ہیں وہ وزیر اعظم عمران خان پہ ہی داغے جاتے ہیں۔ لیکن وہ صاحب ماننے والے تھے ہی نہیں۔ ایک دو بار وہ ٹکٹ کی بات کرتے تو موضوع ہنسی والا ہی رہتا لیکن کوئی دس منٹ تک اپنے آپ کو دہراتے چلے گئے۔ نون لیگ والے پوچھیں تو اُن صاحب کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔ پارٹی کی طرف سے اُن کو تمغۂ وفاداری ملنا چاہیے۔
بہرحال جہاں بھیڑ ہو طرح طرح کے لوگ مل جاتے ہیں۔ ایک اچھے مہربان ہیں اُن سے لمبی گفتگو ہو گئی۔ اہم عہدے پہ فائز ہیں‘ لیکن اُس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سیانے اور سمجھدار ہیں۔ باتیں بھی اُن کی خوب چسکے والی ہوتی ہیں، چسکے کے ساتھ ساتھ پُر مغز بھی۔ بات چلتے چلتے ذکر آئی جی سندھ کا چھڑا کہ اُن کا سندھ حکومت سے تو جھگڑا چل رہا ہے لیکن وزیر اعظم صاحب اُن کی خوب پذیرائی کرتے ہیں۔ اس پہ ہمارے مہربان نے کہا کہ ہمارے گاؤں والوں کی یہ عام کہاوت ہے کہ کوئی گدھی تھانے ہو آئے تو پھر اُس کے نخرے مان نہیں ہوتے۔ تھانیدار سے جو اُس کی یاری ہو گئی ہوتی ہے اس لئے وہ الگ الگ ہی رہتی ہے اور عام گدھوں سے نہیں ملتی۔ اب جس آئی جی کو وزیر اعظم صاحب شرفِ ملاقات بخشیں اور وہ وزیر اعظم صاحب کے ساتھ قہقہے لگا رہا ہو تو پھر اُس نے سید مراد علی شاہ کی خاک بات سننی ہے۔ انہوں نے مزید کہا‘ مجھے جو پرنس محمد بن سلمان بلا لے تو میں نے تم جیسوں سے پھر کیا سلام بھی لینا ہے؟
اس سے بات چل پڑی موجودہ طرزِ حکمرانی کی اور باتوں باتوں میں ذکر اِس امر کا آیا کہ وزیر اعظم صاحب کے گرد تین لوگوں کا حصار ہے جس سے وہ نکل نہیں پا رہے: اول اُن کے پرنسپل سیکرٹری‘ جن کی بیشتر سروس کے پی کے کی رہی ہے اور جنہیں پنجاب اوردیگر معاملات کا زیادہ اَتا پتہ نہیں، دوئم اُن کے باوردی سیکرٹری صاحب جو ہر بات میں ٹانگ اڑائے رکھتے ہیں اور سوئم پاکستان کے نومولود ہنری کسنجر، یعنی زلفی بخاری جن کا کسی کو نہیں پتہ کہ ریاستی امور کیلئے اُن کی کوالیفکیشن کیا ہے لیکن وہ ہر جگہ وزیر اعظم صاحب کے ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب کی سوچ اور ترجیحات پہ ان تین اشخاص کا مکمل قبضہ ہے۔ جواباً میں کیا کہہ سکتا تھا۔ اکتفا اسی پہ کیا کہ خان صاحب کو نجات دہندہ سمجھتے ہوئے لایا گیا ہے۔ لانے میں جن کا کردار تھا اب ان کو بھگتیں۔ ہمارے مہربان نے کہا کہ دیکھیں اور کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ وہ جو دو دیگر قائدینِ ملت ہیں اُن کو قوم دیکھ اور بھگت چکی ہے۔ عمران خان ہی ہیں جن سے بہتری کی امید ہے۔ میں نے کہا‘ پھر آپ امید لگائے رکھیے، ہمیں تو اس کٹورے میں زیادہ پانی نظر نہیں آتا۔
وہاں گھومتے پھرتے پتہ چلا کہ اس دفعہ الیکشن مہم میں خوب گہماگہمی رہی۔ دونوں اطراف سے بڑے بڑے ڈنر دئیے گئے جن میں روحانیت کے تقاضوں کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ ہمیں تو کسی نے بلایا نہیں، سو اس روحانیت سے محروم رہے، لیکن اتنا پتہ ہے کہ مہینہ بھر مختلف امیدواروں نے فون پہ پیغامات کے ذریعے مت مار دی۔ سارے اپنی خوبیاں اور اوصاف بیان کر رہے ہوتے۔ کئی ایک نے اپنے اوصاف سے بھرے خطوط بھیجے۔ انگریزی میں لکھے گئے خطوط کی ایک اور خاصیت یہ تھی کہ شاذ ہی کوئی ایسا خط ہو جو انگریزی کی غلطیوں سے خالی ہو۔ بہرحال یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ انگریزی کو ہم چھوڑتے نہیں‘ نہ چھوڑ سکتے ہیں لیکن عدالتی فیصلوں سے لے کر دیگر تحریروں تک انگریزی کا حال ہمارے ہاں کچھ پتلا ہی ہوتا جا رہا ہے۔
ہم نے بھی الیکشن دیکھے ہیں لیکن جس بخار کا اندازہ اس الیکشن کی گہماگہمی سے لگایا جا سکتا ہے اتنا تو شاید ہمارے الیکشنوں میں بھی نہیں ہوتا۔ سیاستدان تو چلیں سیاستدان ہی ہیں لیکن ان کلبوں کے ممبران تو اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق سمجھتے ہیں۔ نسبتاً چھوٹے الیکشن کیلئے اتنا بخار نہیں ہونا چاہیے لیکن ہر طرف اب یہ رواج بن چکا ہے۔ وکلا کے الیکشن کو ہی دیکھ لیجیے۔ کیا کیا پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے۔ خرچے کو تو رہنے ہی دیجیے۔ اتنا کچھ شاید اس لیے کیا جاتا ہے کہ واپسی کی بھی اس سے زیادہ توقع ہو۔ میرے ایک وکیل دوست بتا رہے تھے کہ آپ بار کے عہدیدار منتخب ہو جائیں تو اُس نسبت سے آپ کی فیس بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ موکلوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ آپ فیصلے بھی اپنی مرضی کے کروانے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ یہ رہا وکیلوں کا حال۔ کلبوں کے عہدیدار کس چیز کو دیکھتے ہوں گے وہ رازداں ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔
نئے عہدیداروں سے البتہ تین مؤدبانہ درخواستیں ہیں۔ جو رہائشی کمرے مال کی طرف ہیں اُن کے سامنے ایک لائن کونوکارپس (conocarpus) درختوں کی ہے۔ اس پودے کی خاصیت ہے کہ جلدی اُگتا ہے اس لیے ہمارے جنگلات والوں نے اسے ہر جگہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ یوکلپٹس کا رواج چلا تھا کیونکہ وہ بھی جلدی اُگتا ہے۔ کونوکارپس سمندری ساحل کا درخت ہے۔ یہاں اُس کی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور خاص طور پہ اس کلب میں تو بالکل ہی نہیں ہونی چاہیے۔ ان درختوں کو فوری کاٹنے کی ضرورت ہے۔ دوئم اس کلب کے دونوں گیٹوں پہ جو چوکیدار کھڑے ہوتے ہیں وہ بیچارے ہر آنے اور جانے والے کو سیلوٹ کرتے ہیں۔ یہ ترغیب پتہ نہیں ان کو کن احکامات کے تحت ملی ہے۔ اُن کا کام گیٹ کیپری اور چوکیداری ہے، سیلوٹ مارنا نہیں۔ اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔ سوئم کبھی کبھی اتوار کے ناشتے پہ پنجاب پولیس بینڈ کے کچھ لوگ بلائے جاتے ہیں جو وہاں موسیقی اور دُھنیں بجاتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مرکزی بینڈ کی عزت ہونی چاہیے۔ اُن کا اپنا کام ہے، کسی کلب کے ممبروں کو محظوظ کرنا اُن کے فرائض میں شامل نہیں۔
انگریزوں کا ورثہ تو ہمارے ہاتھ لگ گیا لیکن اُس ورثے کے جو صحیح لوازمات ہیں وہ پورا کرنے کی صلاحیت تو ہم رکھیں۔ ریلوے وہ دے گئے، ہم نے اُسے تباہ کر دیا۔ انگریزوں کی سول سروس کا ایک معیار ہوتا تھا، اُس کا ہم نے ستیاناس کر دیا۔ انگریز بڑی بڑی درسگاہیں دے گئے، وہ ہم سے صحیح ڈھنگ سے چلائی نہیں جاتیں۔ مثال کے طور پہ ایچی سن کالج کا پرنسپل ڈھونڈنا پڑے تو وَختہ پڑ جاتا ہے۔ شمیم خان بہت اعلیٰ پائے کے پرنسپل رہے لیکن اُن کی انفرادیت شاید اس وجہ سے تھی کہ وہ خان عبدالغفار خان اور ولی خان کے خاندان سے تھے۔ باقی دیسی لوگ بس ویسے ہی رہے۔ یہ جو کلب ہیں یہ بھی انگریزی ورثے کا حصہ ہیں۔ ان کی جو اصل روح ہے اُسے قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker