اس ماہ کے آخر میں آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والے انتخابات کے لئے ملک کی اہم سیاسی پارٹیوں میں پنجہ آزمائی شروع ہوچکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان 12 جولائی کو میرپور میں پہلے انتخابی جلسہ سے خطاب کریں گے۔ عملی طور سے یہ انتخاب’ کشمیری باشندوں کی کشمیر پر حکمرانی‘ کے اصول سے متصادم ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کو حق خود اختیاری دلانے کے بنیادی مطالبے پر قائم ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان کی تین بڑی پارٹیوں کے درمیان ہی متوقع ہے۔ ان میں حکمران تحریک انصاف کے علاوہ اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی بھی انتخابات میں حصہ لیں گی ۔ اگرچہ بعض کشمیری پارٹیاں بھی انتخابات میں سرگرم عمل ہوں گی لیکن ان کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ انتخاب اس لحاظ سے بھی ’ڈھونگ‘ سے زیادہ نہیں ہیں کہ انتخابی نتائج کے بارے میں پہلے ہی سے یہ واضح ہے کہ آزاد کشمیر میں وہی پارٹی کامیاب ہوگی جس کی اسلام آباد میں حکومت قائم ہے۔ 2016 میں مسلم لیگ (ن) نے مرکز میں حکمران ہونے کی وجہ سے آزاد کشمیر کے انتخاب میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ اور اس کے لیڈر راجہ فاروق حیدر وزیر اعظم مقرر ہوئے تھے۔
اب تحریک انصاف اسی امید کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے کہ گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی اس کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ مرکز سے امداد لینے اور مراعات حاصل کرنے کی خواہش میں اہم سیاسی لیڈر حکمران جماعت کے ساتھ شامل ہونا ہی اپنے بہترین مفاد میں سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سال گلگت بلتستان کے انتخابات میں یہی منظر دیکھا جاچکا ہے۔ اب اسی ڈرامے کی ریہرسل کا اہتمام آزاد کشمیر میں کیا جارہا ہے۔ لیڈروں کی تقریروں میں نعروں کا ولولہ تو موجود ہے لیکن کشمیر کی آزادی، اس علاقے کی ترقی و بہبود کا کوئی ٹھوس منصوبہ ، ان نعروں کا حصہ نہیں ہے۔ نومبر 2020 میں گلگت بلتستان کے انتخابات میں تحریک انصاف نے 22 نشستیں حاصل کی تھیں حالانکہ اس سے پہلے اسے اس علاقے کی اسمبلی میں صرف ایک ہی نشست حاصل تھی اور مسلم لیگ (ن) کو 21 سیٹیں ملی تھیں۔ 2020 میں اسے صرف 3 نشستوں پر کامیابی نصیب ہوئی۔ انتخاب سے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے متعدد لیڈروں نے حکمران پارٹی کی کشتی میں سوار ہونا ضروری سمجھا تھا کیوں کہ اسی کے کنارے لگنے کا امکان تھا اور اسی کے ساتھ مل کر مفادات کی حفاظت کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ اب یہی منظر آزاد کشمیر میں بھی دیکھنے میں آئے گا۔ حالانکہ اس وقت وہاں پر مسلم لیگ کو 33 نشستیں حاصل ہیں لیکن یہ تعداد اب شاید اسلام آباد میں برسر اقتدار پارٹی کا مقدر بنے گی۔
جمہوریت کے اس ڈرامہ کے بارے میں خود مختار کشمیر کی جد و جہد کرنے والے لیڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قومی جماعتوں نے کشمیری سیاست میں پنجے گاڑنے کے لئے اصولوں اور اشوز پر سیاست کی بجائے اسے قبیلوں اور برادری کی سیاست میں تبدیل کردیا ہے۔ انتخابات میں بیشتر امیدوار کسی پارٹی پروگرام کی بنیاد پر ووٹ نہیں لیتے بلکہ برادری اور علاقے میں تعلق داری کی بنیاد پر انتخاب جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انتخابات میں کشمیر کی آزادی، مظفر آباد اور اسلام آباد کے تعلق اور وسیع تر کشمیری شناخت کے حوالے سے منشورسامنے لانے کی بجائے علاقوں کے ترقیاتی کاموں کے وعدے اور تھانہ کچہری کی سیاست پر ووٹر کو رجھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے باا ثر لوگ جنہیں عرف عام میں الیکٹ ایبلز بھی کہا جاتا ہے، اسی پارٹی کے ساتھ جانا پسند کرتے ہیں جس کی اسلام آباد میں حکومت ہو۔ غالب امکان ہے کہ 2021 کے انتخابات میں بھی تاریخ خود کو دہرائے گی اور تحریک انصاف 25 جولائی کی شام کو ’آزاد کشمیر فتح‘ کرنے کا اعلان کررہی ہوگی جبکہ دیگر پارٹیاں چند روز تک انتخابات میں دھاندلی کا شور مچائیں گی اور اس کے بعد صورت حال کو قبول کرلیا جائے گا۔ کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ اس ’کھیل‘ کے یہی قواعد ہیں۔
یہ ایک الگ سوال ہے کہ جب صورت حال اتنی ہی واضح ہے اور انتخابات درحقیقت ایکشن ری پلے کی تصویر ہوتے ہیں جن میں کامیابی اسلام آباد کے حکمرانوں کا مقدر ہوتی ہے تو اس ڈھونگ کی کیا ضرورت ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کی سرکاری پوزیشن کو درست ثابت کرنے اور یہ واضح کرنے کے لئے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مرکزی حکومت طاقت کے زور پر قابض ہے جبکہ آزاد کشمیر میں باقاعدگی سے ’آزادانہ‘ انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس طرح اپنے تئیں اقوام عالم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کشمیری عوام دل و جان سے پاکستان کے ساتھ رہنے کے لئے بے چین ہیں۔ اور اگر مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستان کے مؤقف کے مطابق ریفرنڈم کا اہتمام ہوجائے تو وہاں کے لوگ بھی پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ صادر کریں گے۔اس قیاس کو درست ثابت کرنے کے لئے آزاد کشمیر انتخابی ایکٹ 2020 میں کی گئی ترامیم کے ذریعے البتہ یہ یقینی بنالیا گیا ہے کہ کسی ایسی پارٹی کو انتخاب میں حصہ لینے کے لئے رجسٹر نہ کیا جائے جو پاکستان کے ساتھ مکمل وفاداری کے علاوہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ حتمی الحاق پر یقین نہ رکھتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نئے قانون کے تحت بھارت کی تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف) کے پاکستانی چیپٹر کو نہ تو رجسٹر کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے کسی امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے کا حق حاصل ہوگا۔ کیوں کہ پارٹی کی رجسٹریشن کے علاوہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں شریک ہونے والے ہر امید وار کو یہ ذاتی حلف نامہ بھی جمع کروانا پڑتا ہے جس میں اقرار کیا جاتا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان، کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر یقین رکھتا ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نمائیندے خود مختار کشمیر پر یقین رکھتے ہیں اور وہ کسی ایسے حلف کو نہیں مانتے جو انہیں اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونے پر مجبور کرتا ہو۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والے انتخاب میں کشمیریوں کے سب طبقات کو حصہ لینے کا حق نہیں دیا جائے گا بلکہ پاکستان نواز عناصر ہی انتخاب میں حصہ لینے کے مجاز ہیں۔
یہ طریقہ کار پاکستان کے اس دعوے کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ’حق خود اختیاری‘ دلوانے کی جد و جہد کررہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان اپنے ہی آئین اور قانون سازی کے ذریعے اپنے زیر انتظام کشمیر علاقوں میں ہونے والے انتخابات میں کشمیری شہریوں کو آزادی اور مکمل خود مختاری سے ایک سیاسی معاملہ پر رائے دینے کا حق دینے پر آمادہ نہیں ہے تو اس بات پر کیسے یقین کرلیاجائے کہ وہ کشمیر میں ہونے والے کسی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق کشمیری عوام کی رائے تسلیم کرلے گا؟ یہ رائے پاکستان کے خلاف بھی سامنے آسکتی ہے۔ اس بات کی ضمانت بھی فراہم نہیں کی جاسکتی کہ اگر کبھی ایسا کوئی ریفرنڈم منعقد ہوتا ہے تو اس میں کشمیریوں کو صرف ایک ہی آپشن دیا جائے گا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ خود مختار کشمیر کے تیسرے آپشن کی بات بھی کی جاتی ہے۔ بلکہ اسی سال فروری میں کوٹلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے تو یہ اعلان بھی کیا تھا کہ کشمیری جب پاکستان کے ساتھ شامل ہوجائیں گے تو اگر ان کی خواہش ہوگی تو وہ خود مختار ریاست بھی قائم کرسکیں گے۔ سوال ہے کہ جو نظام کشمیریوں کو خود مختاری سے ووٹ دینے کا حق نہیں دیتا ، اس میں انہیں خود مختار ریاست قائم کرنے کا حق کیوں کر ملے گا۔ ایسے بیانات عوامی جذبات سے کھیلنے کی ناروا کوششوں کا حصہ ہیں۔
آزاد کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے ایک بہت بڑا مسئلہ پاکستان میں آباد کشمیریوں کو دیے گئے ووٹ کا بھی ہے جنہیں کشمیری مہاجرین کہا جاتا ہے اور جو 1947 میں تقسیم کے بعد جموں و کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہوئے تھے۔ اب اس آبادی کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد چار لاکھ 30 ہزار 456 ہے۔ ان ووٹوں سے آزاد کشمیراسمبلی کے 12 رکن چنے جائیں گے۔ آزاد کشمیر میں انتخابات اگر آزاد اور شفاف ہو بھی جائیں تو بھی پاکستان میں موجود یہ 12 حلقے خطے کی مجموعی انتخابی سیاست پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے کلیدی سوال یہ ہے جو کشمیری 70 برس سے پاکستان میں آباد ہیں اور یہاں کے شہری ہیں اور جن کی تین سے چار نسلیں اسی ملک میں پروان چڑھ چکی ہیں، ان کا کشمیر کی صورت حال اور مستقبل سے کیا مفاد وابستہ ہوسکتا ہے۔
پاکستان سیاسی مقصد کے لئے آزاد کشمیر میں انتخابات تو ضرور کرواتا ہے لیکن جن قوانین اور حالات میں یہ انتخابات منعقد ہوتے ہیں، وہ ناقابل اعتبار نہیں ہوتے اور نہ ان میں منتخب ہونے والے لوگوں کو کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے کہا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ کشمیریوں کو حق خود اختیاری دلوانے کے پاکستانی دعوؤں کی بھی نفی کرتا ہے۔ اس طرح جس طریقہ کار کو پاکستان اپنی سفارتی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے ، درحقیقت وہ اس کے مسلمہ سفارتی و سیاسی مؤقف کو ہی مسترد کرتا ہے۔ پاکستانی حکام کو اپنے قول و فعل کے اس تضاد کو دور کرنا چاہئے۔ تاکہ کشمیر کے بارے میں کوئی متوازن اور قابل قبول حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

