۔اظہر سلیم مجوکہاظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

لاک ڈاﺅن : ڈاکٹروں کے لئے آنے والے ماسک وزراء کے چہروں پر ؟ ۔۔ اظہر سلیم مجوکہ

دنیا بھر میں کرونا وار کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کی صورتحال درپیش ہے اور صورتحال کچھ اس طرح کی ہے کہ
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
ہر طرف اور ہر سو ہو کا عالم ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر وقت مصروفیت اور وقت نہ ملنے کا رونا رونے والے بھی کرونا کے شکنجے میں جکڑے نظر آتے ہیں گویا پوری دنیا کے معمولات کو ر وک اور بند کر کے دنیابنانے والے نے ایک بار واضح کر دیا ہے کہ ”جس کی دنیا اسی کی مرضی“ اب ہم لاکھ دعوے کرتے رہیں کہ ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے اعلیٰ دماغ ہے خوبصورت جسم ہے، طاقت اور توانائی ہے غرور اور تکبر ہے، نخرے اور ادائیں ہیں حسن اور امارت ہیں دولت اور آسائشیں ہیں سبھی کچھ الٹ پلٹ ہو کے رہ گیا ہے۔
کچھ ممالک میں کرونا نے بھرپور وار کیا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ بھی دم درود کا قائل ہو گیا ہے۔ عبادت گاہیں اور مسجدیں ویران ہونے سے روح بلالی اور نمازیوں کے نہ ہونے کا رونا بھی رویا جا رہا تھا خوشی اور انسباط کی خبر یہ ہے کہ بیت اللہ کا محدود طواف شروع ہو گیا ہے اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کا پروانہ بھی لوگوں کو مل گیا ہے خدا کرے کہ آنے والے دنوں میں صورت حال اور بہتر ہو اور اللہ اپنی مخلوق پر پھر سے راضی ہو اور مخلوق خدا بھی راضی بہ رضا ہوتی نظر آئے۔ ابھی تو ہم صرف اذانیں دے کر رسم بلالی ادا کر رہے ہیں سجدوں کا خشوع و خضوع بھی تو درکار ہے۔ ابھی بھی فرقہ بندی اور تفرقہ بازی میں الجھے ہوئے ہیں بھیڑ چال کا شکار ہیں جبکہ موجودہ صورتحال ایک قوم بننے کا تقاضہ کر رہی ہے۔
چین اس کڑی صورت حال میں بھی سچا دوست ثابت ہو رہا ہے وینٹی لیٹر اور ماسک کی امداد دے رہا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ حق بحق دار رسید کے مصداق اس کا صحیح استعمال بھی ہو۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹروں کو دیئے جانے والے ماسک وزراءاور مشیروں کے چہروں پر سجے نظر آ رہے ہیں۔
جیسی حکومت ویسے عوام کے مصداق یہ بھی المیہ سامنے آیا ہے کہ صبح کو مستحقین کو دی جانے والی امداد کی اشیاءشام کو دکانوں پر سجی نظر آتی ہیں (واللہ اعلم بالصواب) حکومت کی طرف سے کرونا فنڈ کا اجراءکر دیا گیا ہے اس سے قبل ڈیم فنڈ قائم ہوا جس کے نتائج اور اثرات ابھی تک مشکوک ہیں لہٰذا کرونا فنڈ کا استعمال بھی شفاف ہوا تو کچھ بات بنے گی ورنہ تو عوام کرونا ٹیکس کی بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ آٹا اور دیگر اشیاءکا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں سے جب تک آہنی ہاتھوں سے نہیں نبٹا جائے گا اس وقت تک لاتوں کے بھوت باتوں سے مانتے نظر نہیں آتے۔
حکومت اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جانے عوام کا حال پوچھنے اور ان کی مالی اور اخلاقی امداد کرنے کی بجائے اپنی جانیں بچانے کے لیے قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ اللہ ان قوم کے لیڈروں کو بھی کچھ ہدایت حوصلہ اور جذبہ عطا کرے اور یہ الیکشن کے دنوں کی طرح وبا کے دنوں میں بھی اپنی محبتیں نچھاور کرتے نظر آئیں۔ ویسے بھی وبا کے دنوں میں محبتیں عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں جب ہر شخص تنہائی کا شکار ہے اور افسردہ ہے اور فضا سوگوار ہے محبت کے جذبے کو عام کرنے کی ضرورت ہے ان وبا کے دنوں میں ہاتھ ملانے کی ممانعت ہے۔ دلوں کو جوڑنے اور دلوں سے دل ملانے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے یہ وبا کے دن دعا اور دوا کے دن ہیں وہ جو سمیع الدعا ہے سب کی سنتا ہے اور ستر ماﺅں سے زیادہ اپنی مخلوق سے پیار کرتا ہے سو اب مخلوق کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ دن رات اپنے خالق کی حمد و تسبیح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بدلنے کا بھی جتن کرے آج ہر شخص جو اپنے گھر میں نظر بند ہے اور آزاد پنچھی کی طرح پھر سے کھلی فضا میں اڑنا اور پھرنا چاہتا ہے تو وہ آزادی اور غلامی کا فرق بھی محسوس کرے آج ساری دنیا مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاﺅن کے ساتھ اظہار یکجہتی منانے پر مجبور ہیں تو دوسروں کی مجبوریوں کا احساس کرتے ہوئے آسانیاں تقسیم کرنے کا فارمولا بھی استعمال کرے۔
خدا کرے کہ پھر سے دنیا کی رونقیں بحال ہوں خلق خدا پھر سے قدرت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو ، رنگوں پھولوں، تتلیوں اور جگنوﺅں کے فطرتی مناظر دل و نظر کو بھلے لگیں۔ لوگوں کی جان مال اورصحت میں بے برکتی کی بجائے برکتوں کا نزول ہو وبا اور خزاں کے دن ختم ہوں اور بہار کے رنگوں سے ویرانوں میں بہار آئے۔
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker