یوں تو ہمیں ہر حال میں راضی رہنے اور شکر بجا لانے کا حکم ہے اور بجا لاتے رہیں گے، یوں تو ہمیں اپنے خالق کے ہر فیصلے کی سختیوں سے مصلحت کی خوشبو تلاش کرنے کا حکم ہے سو ہم کرتے رہیں گے،یوں تو مایوسی گناہ ہے اور ہم خود سے منافقت برتتے ہوئے حوصلے کا ڈرامہ رچاتے رہیں گے۔یوں تو ہمیں صبر کی تلقین کرنی ہے سو آخری سانس تک کریں گے۔یوں تو خودکشی جہنم میں لے جاتی ہے اور ہم جنت کے لئے پل پل دوزخ جیسی زندگی گزاریں گے مگر آج اپنی ثنا خوانی کے عادی بے بس انسان سے کچھ گلہ بھی سن لے۔
تو قادر مطلق ہے اور تو نے ہمیں سب مخلوقات سے برتر بنایا،اپنا خلیفہ تخلیق کیا بے شک ہماری گھات میں بیٹھے فرشتے روکتے رہے مگر تو انہیں ڈانٹ کر چپ کروا دیتا تھا اور یہ کہہ کر “جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے” اور بے شک ہمیں علم کی وجہ سے تو نے اپنا نائب بنایا مگر پھر اپنے نائب کو آزمائش کی چکیوں میں پیستا رہا اور ہم اپنے نائب ہونے کا بھرم رکھتے ہوئے چور چور ہوتے رہے ۔بے شک تو ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب تھا مگر جب ہماری گردنیں اتاری جاتی رہیں،گلے کاٹے جاتے رہے تیری قربت کو کتنے آوازے دیئے گئے مگر نہ جانے کس مصلحت کی بنا پر تو نے فراموش کردیا۔
میرے بت کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کروانے کے بعد پھر انہیں کو منکر نکیر بنا کر میرا نگران بنا دیا۔پھر انہیں کے سامنے بے لباس کرکے جنت سے یوں نکالا جیسے میں تیرا خلیفہ نہ تھا،نائب نہ تھا۔زمین پر پھینک کر مجھے صدیوں تک در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد معافی دی گئی مگر پہلے والا مقام نہ دیا گیا۔فرشتے میری بے بسی پر قہقہے لگاتے رہے مگر میں تیرا شکر بجا لاتا رہا ،صبر کرتا رہا کیونکہ میں نے اشرف المخلوقات ہونے کا بھرم رکھنا تھا،عقل اور شعور کی قیمت ادا کرنا تھی سو وہ کرتا رہا۔
میں تیرا نائب ہوکر آگ کے الاؤ میں پھینکا گیا،تیرا خلیفہ ہوکر فرعونیت کا مقابلہ کرتا رہا ،تیرا برگزیدہ بن کر مچھلی کے پیٹ میں قید کاٹتا رہا،میں کوہ طور کے سنگلاخ پہاڑوں پر تیرا دیدار تلاش کرتا رہا،میں مسیحا بن کر بھی صلیب پر چڑھایا گیا،مجھ سے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری تک چلوائی گئی مگر میں تیرے نائب ہونے کے لئے اپنا بھرم سنبھالتا رہا،تیرا شکر ادا کرتا رہا،صبر کی تلقین اور حق کی تاکید کرتا رہا۔ میں بھائیوں کے ہاتھوں کنویں میں گرایا گیا۔میں نے طائف میں پتھر کھائے ،جادو گر ہونے کے الزام سنے مگر میرے لب پر شکوہ نہیں ابھرا،میں ہر حال میں شکر کی تسبیح پڑھتا رہا، میں نے غاروں میں بھی سجدے ترک نہ کئے اور صرف تیرا نام بلند رکھنے کےلئے ہجرتیں کیں۔اپنے بچے ذبح کروائے،چھ چھ ماہ کے بچے تیروں کے سامنے چھلنی ہوئے مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا،سات دن کی پیاس بھی میرے قدم ڈگمگا نہ سکی۔
میں نے مسجد،مندر،کلیسا،گوردوارے،گرجے میں چاہے کسی بھی روپ میں بندگی کی صرف تیری کی،آگ ،پانی،سورج،چاند یا گائے کو سجدے کئے تو بھی تیرے تصور میں کیے،میرا الللہ،رب،خداوند،بھگوان صرف تو ہی تھا۔تیرا شکر اور عبادت میری نس نس میں اتر چکی تھی،ہر مصیبت کو آزمائش اور امتحان سمجھ کر سہا گیا مگر اب بھوک سے بلکتے بچے نہیں دیکھے جاتے،اب گھروں میں قید بیٹیوں کے ان کہے نوحے نہیں سنے جاتے،اب ہونٹوں پر جمی بے امیدی کی پپڑیاں نہیں دیکھی جاتیں اور اب کوئی بہانہ بھی انہیں مطمن نہیں کرسکتا۔ اب شہ رگ سے قریب بیٹھ کر دکھ بانٹ یا اس آزمائش کو ٹال دے۔میں نے انسان بن کر تیرے نائب ہونے کا بھرم رکھا اب تو خدا بن کر ہمارے باپ ،بھائی،بیٹے اور شوہر ہونے کا بھرم رکھ اور اس وبا کو ٹال دے۔اپنی اشرف المخلوقات کو بھوک کے سامنے لاچار اور بے بس نہ کر۔بےشک ہم نے حوصلہ اور ہمت کا دامن نہیں چھوڑنا مگر تو رب بن کر کوئی مدد غائب سے اتار کہ اب تو تیرے دشمن ہمیں ابابیلوں اور معجزات کا نام لے کر چھیڑنے لگے ہیں۔ اب ہماری سائنس جواب دے گئی ہے۔کسی بھی مصیبت پر اف تک نہ کرنے والا تیرا نائب اب بھوک کے سامنے ہارتا جا رہا ہے۔
فیس بک کمینٹ

