اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

جنوبی پنجاب کا معاملہ ، آدھا تیتر آدھا بٹیر : ہے خبر گرم / اظہر سلیم مجوکہ

ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں قدرے کمی اور صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ یقینا خوش آئند اور امید افضاءہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں پری مون سون سیزن شروع ہے اور ابھی ساون کا برسنا بھی باقی ہے اور ملتانی یار لوگوں کے ساتھ ساتھ ملتان سے تعلق اور رابطہ رکھنے والے بھی آموں کے صحیح سیزن کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اس مرتبہ تو کورونائی دور نے سب کچھ الٹ پلٹ کے رکھ دیا ہے۔ آموں کے ساتھ بھی آم ہوں اور عام ہوں والی کوئی صورت ابھی بنتی نظر نہیں آ رہی اور سردست تو سبھی کورونا کے چنگل سے نکلنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔
جنوبی پنجاب میں یکم جولائی سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ نے کام تو شروع کر دیا ہے لیکن معاملہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہی نظر آ رہا ہے۔ کچھ انتظامی امور بہاول پور میں انجام دیئے جائیں گے اور کچھ افسران بالا ملتان میں براجمان ہوں گے۔ یوں بالا بالا جنوبی پنجاب کے الگ سیکرٹریٹ کا ڈول کنویں میں ڈال دیا گیا ہے اب دیکھیں اس کنویں سے کتنا گہرا پانی نکلتا ہے اور پانی بھی میٹھا ہوتا ہے یا کھارا ہوتا ہے۔ابھی تک سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہی بحث چلی ہوئی ہے کہ کیا سیکرٹریٹ کے قیام سے یہاں کے خطے کے عوام کے دیرینہ مطالبے کو پذیرائی ملی ہے یا عوام کو ایک بار پھر لالی پاپ سے بہلا دیا گیا ہے۔
ساون کی بارشوں کی طرح جنوبی پنجاب کے نصیب کی بارشیں بھی اکثر کسی اور کی چھت پر برس جاتی ہیں اور اس خطے کے حصے میں بس آندھی اور جھکڑ ہی آتے ہیں جبکہ اس خطے کے عوام حکمرانوں سے ہمیشہ یہی کہتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں کہ
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی
سرائیکی وسیب کے زیادہ تر عوام موجودہ صورتحال میں اراکین اسمبلی اور اپنے پارٹی لیڈروں سے برہم ہی نظر آ رہے ہیں۔
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبکر بن کر کیوں پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
وزیر خارجہ اور جنوبی پنجاب کا مقدمہ لڑنے والے مخدوم شاہ محمود قریشی کورونا میں مبتلا ہو کر قرنطینہ چلے گئے ہیں۔ دعا ہے کہ رب کریم ان پر اپنا فضل و کرم کرے اور وہ جلد صحت یاب ہو کر جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ ساتھ خارجہ معاملات کے معاملات اور مسائل بھی حل کرتے نظر آئیں۔ مخدوم سید یوسف رضا گیلانی بھی بفضل خدا کورونا سے صحت یاب ہو گئے ہیں اور تحریک انصاف کی قربان فاطمہ نے بھی اس موذی مرض کو شکست دے دی ہے۔ نشتر میڈیکل کالج و یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام مصطفےٰ پاشا بھی کورونا کے مرض میں مبتلا ہیں ان کی اس خطے کیلئے بہت سی خدمات ہیں خداوند کریم ان کو بھی جلد صحت یاب کرے اور حکومت تمام ضروری سہولیات جلد از جلد فراہم کرے کہ وہ پھر سے یونیورسٹی کے معاملات چلانے میں مصروف عمل دکھائی دیں۔ اگرچہ اس وقت سمارٹ لاک ڈاﺅن کے ذریعے معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں لیکن ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر احتیاطی تدابیر کو ضرور ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے خدا کرے کہ اب کورونا کا سفر واپسی کی طرف شروع ہو اور خلق خدا کو اس وبا اور بلا سے نجات حاصل ہو۔ ویسے کورونا کو بھگانے کیلئے جہاں ہم سبھی دیسی ولایتی اور معاشرتی ٹوٹکے استعمال کر رہے ہیں وہاں نیک نیتی سے اپنے اطوار اور طرز زندگی کو بھی بدلنا شروع کریں۔
مقبوضہ کشمیر کے کرفیو اور لاک ڈاﺅن کو تقریباً ایک سال ہونے کو چلا ہے وہاں پر بھارتی مظالم بھی جوں کے توں ہیں کاش اقوام عالم کورونا کے عذاب کو ٹالنے کے لیے مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاﺅن کے خاتمے کیلئے بھی کچھ عملی اقدامات کریں۔
ملک میں ابھی بھی مہنگائی ، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کی خبریں عام ہیں۔ ظلم و تشدد، حق تلفی، جھوٹ اور عیاری بھی اسی طرح سے جاری و ساری ہے۔ اس بار تو پاکستان سمیت بہت سے ممالک حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی محروم ہوں گے گویا معاملہ ”ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں “والا ہے۔ ہم سب کو اپنے اعمال اور افعال کی درستگی پر توجہ دینا ہو گی عید قرباں سے پہلے اپنی خواہشات اور نفس کی قربانی دینا ہو گی کہ شاید کورونا اپنی واپسی کیلئے انہی قربانیوں کا منتظر ہو اور ہم محض دعاﺅں اور دواﺅں پر ہی تکیہ کئے کورونا کے اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے کے منتظر رہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker