اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

کورونا کی واپسی؟ ۔۔ اظہر سلیم مجوکہ

حکومت کی طرف سے لاک ڈاﺅن کے خاتمے کی نوید کے ساتھ ہی عوامی سطح پر بھی کورونا کی واپسی کا جشن شروع ہو گیا ہے یوں بھی بحیثیت قوم ہم لوگ مٹھائیاں بانٹنے اور جشن منانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس بار بھی 14 اگست کے موقع پر جشن آزادی کا خوب اظہار کیا گیا اور شہر کی سڑکوں پر رش کی صورت اور حسب روایت موٹرسائیکلوں کے سلنسر نکال کر ون ویلنگ کرتب دکھانے اور باجے بجا کر جشن آزادی منایا گیا اور یوں کورونا کے خلاف بھی اظہار یکجہتی کیا گیا یوں بھی اب حکومت سمارٹ لاک ڈاﺅن کے بعد مائیکرو لاک ڈاﺅن کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ یعنی صورتحال ”رفتہ رفتہ وہ مری ہستی کا ساماں ہو گئے ، پہلے جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں ہو گئے “والی نظر آ رہی ہے۔
عالمی سطح پر کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد خاصی ہے اور بہت سے ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بھی تشویشناک ہے پاکستان میں بھی چھ ہزار سے زائد لوگ اس وبا کی بھینٹ چڑھے ہیں اور بہت سے گوہر نایاب بھی جدائی کا دکھ دے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ ہمارے اعمال کے باوجود کرم اور معافی کا سلسلہ روا رکھا گیا ہے اور اب اس وباءکے جانے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ،بیوٹی پارلر کھولنے کے بعد شادی ہال کھولنے کا مژدہ بھی سنایا جا رہا ہے دفاتر اور مختلف شعبوں کو کھولنے کا پہلے ہی حکومت کی طرف سے اعلان کیا جا چکا ہے۔ تاجر برادری بھی اب پوری طرح اپنا کاروبار چمکانے میں مصروف نظر آ رہی ہے۔
عید کا تہوار گزر چکا ہے اور محرام الحرام کا بھی آغاز ہوچکا ہے اس تمام صورتحال میں جب حکومت نے سب کچھ عوام پر چھوڑ دیا ہے عوام کو بھی تمام SOP کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں کورونا جاتے جاتے پھر واپس نہ آ جائے کیونکہ کورونا بھی اس شعر پر عمل پیرا ہے کہ
جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
کورونا کی وبا نے جہاں فاصلوں کو بڑھایا ہے وہاں انسان کو تنہائی کے فوائد سے بھی آگاہ کرانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے بہت سوں نے ان دنوں کتاب سے دوستی لگاتے ہوئے تنہائی کا بہترین ساتھی ڈھونڈ لیا ہے اس طرح بے نام مصروفیت اور کئی غیر ضروری امور سے بھی جان چھڑائی ہے لیکن پھر بھی بہت سوں نے کورونا کی واپسی کا جشن اس لیے منانا شروع کر دیا ہے کہ اب پھر سے محفلیں آباد ہوں گی اور تقریب بہر ملاقات کے مواقع میسر ہوں گے۔ فاصلوں کو شفا سمجھنے والے اب مل بیٹھنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ بہرحال زندگی کے کئی رنگ ہیں اور زندگی کے سبھی رنگوں سے آشنا ہونا بھی چاہیے تاہم ان حالات میں کورونا سے بچاﺅ کی احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل کرنا ہو گا تاکہ اس وبا کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہو۔ آپس کے میل جول اور شادی بیاہ کی تقاریب میں خصوصی احتیاط لازم ہے موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کر چکی ہے کورونا کے بعد از اثرات حکومتی کارکردگی کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کو مہنگائی سے بھی نجات دلانے کے اقدامات کیے گئے ڈالر اور سونے کی قیمتوں اور بیروزگاری کو کنٹرول کیا گیا تو پھر صورتحال حکومت کے حق میں ہو سکتی ہے۔ عدلیہ سمیت تمام ملکی اداروں کو عوامی مسائل کے حل اور ان کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ہم ایک زندہ قوم ہیں کا نعرہ مستانہ تو لگاتے ہیں لیکن اپنے افعال اور کردار سے اس کا اظہار نہیں کرتے۔ ہمیں زندہ قوم بننے کیلئے زندہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ہجوم کی بجائے ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا کیونکہ افراد کے ہاتھوں میں ہی اقوام کی تقدیر ہوتی ہے اور ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے۔ تمام دنیا لاک ڈاﺅن کے خاتمے اور کورونا کی واپسی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔ ایسے میں مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاﺅن پر بھی کچھ سوچنا ہو گا کہ جہاں لاک ڈاﺅن کو ایک سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے ایک آزاد قوم کے باسی ہونے کے ناطے ہمیں مقبوضہ کشمیر کے ان باسیوں کا بھی سوچنا چاہیے جو نجانے کب سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ساری دنیا کی طرف نظریں اٹھائے آزادی کے خواب کی تعبیر ملنے کے منتظر ہیں۔
اللہ کرے کہ پوری دنیا سے کورونا کی واپسی اور لاک ڈاﺅن کے خاتمے کا جشن مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے بھی جشن آزادی کی نوید ثابت ہو۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker