کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کورونا کی وبا ساری دنیا میں اس طرح ڈیرے ڈال دے گی کہ ہر طرف کورونا کورونا ہی دکھائی دے گا یار لوگ جو ”کورونا کا جانا ٹھہر گیا صبح گیا یا شام گیا“ کا نعرہ مستانہ لگاتے نظر آ رہے تھے۔ اب وہ بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کورونا کے وار ابھی تک جاری ہیں اور صورتحال ”نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز“ والی بنی ہوئی ہے۔ شیخ رشید، مریم اورنگ زیب کے بعد اب میاں شہباز شریف بھی کورونا کے چنگل میں پھنس گئے ہیں۔ نیب کی آئے روز کی طلبی کے بعد اب وہ بھی قرنطینہ کے اسیر ہو گئے ہیں اور خیر خیریت پوچھنے والوں کو منیر نیازی کا یہ شعر سنائے جا رہے ہیں کہ
اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور چیف وہپ عامر ڈوگر بھی اب صحت یاب ہو چکے ہیں۔ سماجی رہنما شاہد انصاری معروف صحافی جمشید رضوانی اور رضا ملک بھی ماشاء اللہ اب روبصحت ہیں۔ سرائیکی وسیب کے نامور دانشور پروفیسر شوکت مغل ہر دلعزیز نابینا صحافی قاضی نوید اور پروفیسر ناصر بشیر کے خالہ زاد بھائی جاوید اقبال غوری بھی اسی وبا کے موسم میں جدا ہو کر شہر کو سوگوار کر گئے ہیں۔
جوں جوں کورونا کا دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے عوام پر خوف کے بادل بھی چھائے جا رہے ہیں لیکن حیرت ہے کہ لوگ اب بھی اس وبا کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور اس کے تدارک کیلئے بتائی جانے والی ہدایات کو پس پشت ڈال رہے ہیں اگر بازاروں، مارکیٹ اور دفاتر میں سماجی فاصلے اور ماسک کی پابندی پر یہی عملدرآمد کر لیا جائے تو مقامات آہ و فغاں سے بچا جا سکتا ہے بصورت دیگر کورونا اسی طرح ہر شخص کے اعصاب پر سوار ہی رہے گا اور صورتحال کچھ اس طرح ہی رہے گی کہ
دلوں کو لگا ہے عجیب سا دھڑکا سا
نجانے کون کہاں راستہ بدل جائے
کورونا کے مریضوں کو مرض سے نجات دلانے والی نشتر میڈیکل کالج کی مسیحا ڈاکٹر غزالہ بھی کورونا کے وار سے نہیں بچ سکیں اور اپنی جان کی بازی ہار گئیں۔
ملتان کی معروف سیاسی شخصیت شیخ طاہر رشید بھی کورونا کے مہلک وار سے نہیں سچ سکے اسی طرح تاجر رہنما طاہر قریشی بھی راہی ملک عدم ہو گئے ہیں۔ ڈر خوف اور احتیاط کی وجہ سے لوگ اب جنازوں میں شرکت کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور نوبت رسمی پرسے تک آ گئی ہے۔ خدا کرے کہ جلد اس وبا اور بلا سے چھٹکارا حاصل ہو۔
مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کو 313 دن ہونے کو آئے ہیں لیکن بھارتی سورماؤں اور پوری دنیا کے کان پر ابھی تک جوں بھی نہیں رینگتی نظر آ رہی۔ ملک میں آٹا اور چینی کے بحران کے بعد تیل کا بحران جاری ہے۔ سونے کی قیمتیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور مہنگائی بدمست ہاتھی کی طرح دندناتی پھر رہی ہے حیرت ہے کہ ان بدترین حالات میں بھی ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حقوق العباد کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ اخبارات میں اسی طرح دلسوز خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں کاش یہ سب ٹھیک ہوتا نظر آئے تو رحمت باری بھی اپنا کرم کرے کیونکہ خدا بھی اس وقت کسی قوم کی حالت بدلتا ہے جب قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال ہو گا۔ ہم میں سے ہر کوئی ان حالات کا ذمہ دار ہے اور سبھی کو بدلنا ہو گا تو صورت حال بھی تبدیل ہو گی کیونکہ
کوئی تو جرم تھا جس میں سبھی ملوث ہیں
ہر ایک شخص جو منہ کو چھپائے پھرتا ہے
خدارا اب لوگ کورونا کو مذاق نہ سمجھیں بلکہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں۔ سوشل میڈیا تو کورونا کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے میں لگا ہے۔ خواتین کے لئے لباس کی میچنگ والے ماسک تیار کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور کورونا پر کارٹون بنائے جا رہے ہیں۔ خدارا کورونا کی چھیڑ خانیوں سے بچیں اور اس بلا کو ٹالنے کے لیے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ استغفار بھی کریں تاکہ لوگ ایک دوسرے سے منہ چھپانے اور ہاتھ ملانے سے گریز کرنے کے مراحل سے نکل کر زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کی طرف واپس آ سکیں۔
ایک طرف کورونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف امریکی صحافی سنتھیارچی نے پاکستانی سیاست میں ایک نیا پنڈوراباکس کھول دیا ہے۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں پر کورونا وار کر دیا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے خاتون صحافی کو 10 کروڑ ہر جانے کا نوٹس بھیجا اور جواب آں غزل سنتھیارچی نے 12 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ جبکہ سبھی رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ رحمن ملک تو اس معاملے میں منہ پھلانے کی بجائے سینہ پھلاتے نظر آ رہے ہیں۔ ریحام خان کی طرح اب خاتون امریکی صحافی سنتھیارچی خبروں میں اِن ہیں گویا معاملہ کچھ اس شعر کا سا ہے کہ
دھوپ کی تمازت تھی موم کے مکانوں پر
اور تم بھی لے آئے سائبان شیشے کا
دیکھیں اب سنتھیارچی کی پٹاری سے اور کیا کیا باہر نکلتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی ہے اور اقتصادی رپورٹ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں بھی ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اگرچہ بھینسوں، بھیڑوں اور بکریوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن گدھے پھر بھی نمبر لے گئے ہیں جبکہ گھوڑے خچراور اونٹ تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکے اب خدا کرے کہ گدھوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ کورونا کے متاثرین کی تعداد میں بھی مزید اضافہ نہ ہو کہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق کورونا انسانی زندگیوں کے معاملات کو الٹ پلٹ کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کے لیے بھی شدید جھٹکا ثابت ہو رہا ہے۔
فیس بک کمینٹ

