کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے دُکی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملنے والی تشدد زدہ لاشوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک لاش جمعرات کو برآمد ہوئی جس کو شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دُکی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار صفی اللہ نے بتایا کہ تاحال لاش کی شناخت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے شخص کو سر پر کان کے ساتھ ایک گولی مارنے کے علاوہ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی ہیں جبکہ ان کا چہرہ اور جسم کا ایک طرف جلا ہوا تھا۔
گذشتہ روز دُکی میں غڑواس کے قریب ندی سے تین افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ لاشیں پولیس کے زیر انتظام علاقے سے برآمد ہوئی تھیں۔
دُکی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تینوں افراد کی لاشوں کی شناخت ہوئی تھی جن کا تعلق دُکی کے کلی سفرعلی خان بلوچ سے تھا۔ ان افراد کی لاشوں کے ہمراہ ان کی خواتین رشتہ داروں نے رباط کے مقام پر قومی شاہراہ پر احتجاج کیا تھا۔
تاہم ڈپٹی کمشنر دُکی محمد نعیم خان نے ان سے مذاکرات کیے جس پر انھوں نے احتجاج ختم کیا۔ رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر نے مذاکرات کی تصدیق کی تاہم انھوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ کلی سفر علی خان سے کچھ عرصہ قبل متعدد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جن میں محمد یونس بھی شامل تھا جس کی لاش گذشتہ روز برآمد ہوئی تھی۔ انھوں نے بتایا گذشتہ تین، چار ماہ کے دوران دُکی، ہرنائی اور ان سے ملحقہ دیگر علاقوں سے متعدد افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے بعض کو ان کے بقول جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ تاحال حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

