ایم اے شکور صاحب سے میری پہلی ملاقات 1979 ء میں ہوئی تھی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں ادب کے میدان میں صرف ایک سال کا تھا ۔ میری پہلی غزل اور پہلی کہانی 1978 ء میں روزنامہ امروز میں شائع ہو چکی تھی اور اب اس سے آگے کا سفر جاری تھا ۔ ان دنوں میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اور بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تھی ۔ اس پھانسی پر ملک کے طول و عرض میں احتجاج جاری تھا ۔ ادیب شاعر اپنے اپنے انداز میں بھٹو صاحب کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے ۔ نویں جماعت کے طالب علم نے بھی ایک مضمون لکھ تو لیا لیکن اس کی اشاعت کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی ۔ ملتان میں امروز اور نوائے وقت میں تو اس مضمون کی اشاعت ممکن نہیں تھی ۔ ایک ہی اخبار تھا جو اس زمانے میں شام کے اخبار کے طور پر شائع ہوتا تھا اور وہ روزنامہ سنگ میل تھا یہ اخبار پیپلز پارٹی کا ترجمان تھا ۔ اخبار کے چیف ایڈیٹر ایم آر روحانی تھے جو بابا روحانی کے نام سے جانے جاتے تھے ان کے بیٹے امتیاز روحانی اخبار کے ایڈیٹر تھے ۔ دفتر اس اخبار کا حسن پروانہ کالونی میں تھا ۔ یہ دفتر بھی تھا اور روحانی فیملی کی رہائش گاہ بھی ۔۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے تناظر میں اپنے مضمون کی اشاعت کے لیے میں ایک دن روزنامہ سنگ میل کی سیڑھیاں چڑھ گیا ۔ ایک قدرے لمبے بالوں والے نوجوان نے مجھ سے میرا مضمون لیا ، سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالی اور ٹھیک ہے کہہ کر بے دلی سے رکھ لیا ۔
یہ ایم اے شکور تھے جو وہاں نیوز ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے ۔ مجھے بالکل یقین نہیں تھا کہ یہ مضمون شائع بھی ہو جائے گا ۔ لیکن اگلے ہی روز نو ستمبر کو وہ مضمون شائع ہو گیا ۔ وہ اخبار میرے پاس محفوظ نہ ہوتا تو مجھے کیسے یاد رہتا کہ شکور صاحب سے میری پہلی ملاقات آٹھ ستمبر 1979 کو ہوئی تھی ۔
یہ میرا پہلا سیاسی مضمون تھا جو شکور صاحب نے شائع کیا ۔ اسی اخبار میں ان دنوں احسن فارقلیط بھی کام کرتے تھے جنہوں نے بعد ازاں خود کشی کر لی تھی ۔۔ لیکن احسن فارقلیط سے میری ملاقات نہ ہو سکی ۔نام ور سرائیکی دانش ور احسن واگھا بھی ان دنوں روزنامہ سنگ میل سے وابستہ تھے اور میری کچھ تحریریں انہوں نے بھی شائع کیں ۔ بس یہ سمجھیں ہمارے تو مزے ہو گئے ۔شکور صاحب ایڈیشن انچارج بھی تھے ۔ ہم موقع کی مناسبت سے ہر دوسرے تیسرے روز مضمون لکھ کر شکور صاحب کو دے آتے اور وہ کبھی رنگین ایڈیشن اور کبھی ادارتی صفحے پر انہیں شائع کر دیتے ۔ روزنامہ سنگ میل کے ساتھ ایم اے شکور صاحب کی معرفت ہونے والے اسی تعارف کے بعد میں خود بھی 1983 میں اسی اخبار سے منسلک ہو گیا لیکن شکور صاحب اس وقت تک وہاں سے جا چکے تھے ۔
ایم اے شکور نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔ آج کے نوجوانو ں کو ان کی شہ سرخیوں کی کاٹ کا اندازہ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ وہ جبر کا زمانہ تھا اور پابندیو ں کے باوجود بات کہہ دینے کا ہنر ہی صحافت کا معیار اور امتیاز ہوتا تھا ۔
میں آج بھی ایک شہ سرخی کا حوالہ دیتا ہوں جو بھٹو صاحب کی پھانسی پر شائع ہونے والی سب سے خوبصورت اور با معنی سرخی ہے ۔ وہ شہ سرخی ایم اے شکور صاحب نے نکالی اور اخبار سنسر کرنے والے افسر کے سر سے گزر گئی ۔ سرخی کچھ یوں تھی
” چیئرمین بھٹو پھانسی چڑھ گئے “
اس سرخی میں انہوں نے جو کہنا تھا کہہ دیا اور بھٹو صاحب کی طرح یہ شہ سرخی بھی امر ہو گئی ۔
ایک اور مثال
” آٹا ایک روپے من ہو یا چار روپے من اس سے فرق نہیں پڑتا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی : ضیاءالحق “
اس شہ سرخی کی بلاغت بھی بے مثال ہے
اور ایک اور مثال جب مولانا مودودی کا انتقال ہوا ۔۔ شہ سرخی دیکھییں ۔۔ پہلے شہ سرخی ہے اس کے بعد جلی پٹی ۔ یہاں بھی گویا ایم اے شکور نے سرخی نکال کر ایک طرح سے قلم توڑ دیا
”مولانا مودودی امریکہ میں انتقال کر گئے
پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا “

اس زمانے میں جب دائیں اور بائیں بازو کی لڑائی عروج پر تھی اور سخت پابندیاں تھیں ان شہ سرخیوں نے کیا ماحول پیدا کیا ہو گا آج تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
یہ تھے جناب ہمارے اور آپ کے ایم اے شکور ۔شکور صاحب کو یہ خراج تحسین ہم نے تیئیس اگست دوہزار اکیس کو ان کے جنم دن کے موقع پر پیش کیا تھا ۔ اٹھائیس اکتوبر 2022 ء کو جمعہ کے روز وہ کراچی میں انتقال کرگئے ۔اور کسی کو ان کی ملتان سے رخصتی کی خبر بھی نہ ہوئی
رضی الدین رضی
چار اپریل دو ہزار پچیس
رضی الدین رضی

