عصرِ حاضر میں جب صحافت تیزی سے سنسنی، کاروبار اور مفادات کے دباؤ میں سمٹتی جا رہی ہے، ایسے میں چند نام ایسے بھی ہیں جو اس پیشے کی اصل روح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ فرید اللہ چودھری کا شمار انہی صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ پچیس برس سے اردو اور انگریزی ۔۔ دونوں زبانوں میں صحافت کو محض روزگار نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر نبھایا ہے۔ ان کی صحافتی زندگی تسلسل، استقلال اور نظریاتی توازن کی ایک روشن مثال ہے۔
فرید اللہ چودھری کی صحافت کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا دو لسانی شعور ہے۔ اردو صحافت میں جہاں ان کی تحریر تہذیبی شعور، ادبی لطافت اور عوامی احساسات کی ترجمان نظر آتی ہے، وہیں انگریزی صحافت میں ان کا اسلوب تجزیاتی، معروضی اور عالمی تناظر کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ یہ صلاحیت انہیں مختلف طبقات کے قارئین سے جوڑتی ہے اور ان کی بات کو وسیع تر اثر پذیری عطا کرتی ہے۔ وہ خبر کو محض واقعہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے پس منظر، مضمرات اور نتائج کو بھی قارئین کے سامنے لاتے ہیں۔
بطور دانشور، فرید اللہ چودھری کی تحریر کا دائرہ محض روزمرہ سیاست تک محدود نہیں۔ وہ سماج کے گہرے مسائل ۔۔ جیسے جمہوری اقدار کی زبوں حالی، معاشرتی ناہمواری، اظہارِ رائے کی آزادی، اور ریاست و عوام کے باہمی تعلق ، پر سنجیدہ اور مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جذباتی نعروں یا وقتی مقبولیت کے بجائے فکر انگیز سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے کالم قاری کو کسی ایک رائے کا اسیر بنانے کے بجائے سوچنے، پرکھنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
فرید اللہ چودھری کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کا سماجی و سیاسی ورکر ہونا ہے۔ وہ صحافت کو محض مبصر کی کرسی سے نہیں دیکھتے بلکہ سماج کے اندر رہ کر اس کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ عوامی مسائل، شہری حقوق، سیاسی شعور اور سماجی انصاف کے لیے ان کی عملی وابستگی ان کی تحریروں کو ایک اضافی اخلاقی وزن عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کالم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عملی تجربے اور زمینی حقائق کا آئینہ ہوتے ہیں۔
سیاسی حوالے سے بھی فرید اللہ چودھری کا رویہ متوازن اور بالغ نظر ہے۔ وہ اختلافِ رائے کو جمہوریت کی روح سمجھتے ہیں اور تنقید کو اصلاح کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ نہ اندھی حمایت ان کا شیوہ ہے اور نہ ہی بے مقصد مخالفت۔ یہی اعتدال پسندی انہیں ایک سنجیدہ تجزیہ نگار کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔ وہ طاقت کے مراکز سے سوال کرنا جانتے ہیں، مگر دلیل، شائستگی اور فکری دیانت کے ساتھ۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فرید اللہ چودھری کی پچیس سالہ صحافتی زندگی ایک ایسے فکری سفر کی داستان ہے جس میں قلم، شعور اور عمل ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ایسے دور میں جب صحافت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، فرید اللہ چودھری جیسے صحافی اس بات کی امید دلاتے ہیں کہ ذمہ دار، باوقار اور بااصول صحافت آج بھی ممکن ہے—بشرطیکہ قلم ضمیر کے تابع رہے۔
فیس بک کمینٹ

